Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

Pakistani-writer-Anwar-Maqsood-and-Muhammad-Hanif-blog
کالماہم ترینتازہ ترین

انور مقصود سے کون ڈرتا ہے؟

By Akhtar Rasool
دسمبر 18, 2024 3 Min Read
0

اس لطیفے کی کوئی پنچ لائن نہیں ہے کیونکہ سب جانتے ہیں کہ انور مقصود سے کوئی نہیں ڈرتا۔ انور مقصود پاکستانیوں کی تیسری نسل کو ہنسا رہے ہیں۔ اب صورتحال یہ ہے کہ وہ اسٹیج پر آ کر منھ بھی نہیں کھولتے، لوگ ہنسنا شروع ہو جاتے ہیں، تالی بجانے کی تیاری کرنے لگتے ہیں۔

انور مقصود ٹی وی پروگراموں کی میزبانی بھی کرتے ہیں، گیت بھی لکھتے ہیں، سنا ہے اچھے خاصے مصور بھی ہیں۔ لیکن ان کی وجۂ شہرت ان کی لطیفے بازی بنی۔ انہیں مائیک ملے گا تو وہ لطیفہ ضرور سنائیں گے۔ وہ لطیفہ بازی کے ایسے مزدور ہیں، جنہوں نے اپنے دھندے سے کبھی بے وفائی نہیں کی۔

مارشل لا آتے رہے،
جاتے رہے، جمہوریت اپنے حسن کی جھلکیاں دکھاتی رہی چھپاتی رہی لیکن انور مقصود کے لطیفے کبھی نہیں رُکے۔ وہ درباری بھی ہیں اور باغی بھی۔ حکمرانوں اور سرکاری افسروں کو بھی لطیفہ سنا دیتے ہیں اور عوام کو بھی۔ بادشاہ کو بھی خوش رکھنے کا ہنر جانتے ہیں اور رعایا کو گدگدی کرنا بھی انہیں آتا ہے۔

عام طور پر کہا جاتا ہے کہ نفیس مزاح وہ ہوتا ہے جس میں طاقتور کا مذاق اڑایا جائے لیکن پاکستان میں طاقتور ایلیٹ کی حسِ مزاح ایسی ہے کہ ان کے بارے میں لطیفہ سنایا جائے تو وہ کھل کر داد دیتے ہیں، جیسے یہ لطیفہ کسی اور کے بارے میں سنایا جا رہا ہے۔

انور مقصود کمزور طبقوں کو بھی نہیں بخشتے۔ کبھی سندھ اور سندھیوں کے بارے میں کچھ کہہ دیتے ہیں، بنگالی بھائی تو اکثر ان کے مزاح کا نشانہ بنتے ہیں۔ انور مقصود میں ایک اور خوبی بھی ہے کہ اگر لطیفے پر کوئی ناراض ہو جائے تو فوراً معافی مانگ لیتے ہیں۔ اور کبھی کبھی اس معافی کے اندر بھی لطیفہ سنا دیتے ہیں۔ (بنگالیوں سے انہوں نے کبھی معافی نہیں مانگی تو غالباً انہیں شاید وہ معافی کے قابل بھی نہیں سمجھتے۔)

آخری معافی انہوں نے عسکری ادارے سے مانگی ہے، وہ بھی پاک نیوی سے۔ پاک نیوی عسکری اداروں میں غریب رشتہ دار سمجھی جاتی ہے، نہ ان کے کارناموں کا زیادہ چرچا ہوتا ہے، حکومتیں گرانے بنانے میں بھی کچھ زیادہ مشورہ نہیں کیا جاتا اور کاروبار کرنے میں بھی سب سے پیچھے ہیں۔

انہوں نے نیوی کے شہدا کے بارے میں ایک پھسپسا سا لطیفہ سنایا، لعن طعن ہوئی (لیکن واہ، واہ زیادہ ہوئی)۔ انور مقصود اپنی معافی کے ساتھ فوراً حاضر ہو گئے۔

نیوی کے افسروں کے ساتھ اپنی دوستی کے قصے سنائے اور بغیر پنچ لائن کے یہ لطیفہ بھی سنا گئے کہ وہ 50 سال تک ایڈمرل منصورالحق کے دوست رہے اور باقی سینیئر افسروں کے ساتھ تاش کھیلا کرتے تھے۔

ان کے سامعین کو شاید یہ یاد نہ ہو کہ ایڈمرل منصور الحق غالباً پہلے فور اسٹار جنرل تھے جو کرپشن کے الزامات پر برطرف ہوئے، مقدمہ چلا اور آخر میں حکومت کو ساڑھے سات ملین ڈالر دے کر جان چھڑائی۔ اگر ایسے شخص کے ساتھ نصف صدی تک دوستی رہی ہو تو اس کا مذاق اڑانے کی گنجائش ہونی چاہیے۔

لطیفے سناتے سناتے بعض اوقات انسان خود لطیفہ بن جاتا ہے۔ گذشتہ چند سالوں میں انور مقصود کا مزاح درباری کم اور باغی زیادہ ہوتا جا رہا ہے۔

اب وہ عسکری اداروں کے، کبھی کبھی جنرلوں کے نام لے کر لطیفے سناتے ہیں، نواز شریف کی بھد اڑاتے ہیں۔ ہو سکتا ہے وہ بھی پاکستان کے بہت سے بزرگوں کی طرح ساری عمر ہر اسٹیبلشمنٹ کا حصہ یا حواری رہنے کے بعد اب حقیقی آزادی کے متلاشی ہیں۔

لیکن اتنے بزرگ لطیفے باز کو یہ پتا ہوتا ہے کہ اس کے سامعین آج کل کس بات پر ہنسیں گے۔ انور مقصود کو پوری طرح اندازہ ہے کہ وہ خان کا نام لیں گے تو تالی بجے گی، عسکری اداروں پر چٹکلہ سنائیں گے تو ہنسی اور تالی دونوں۔

جن کو انور مقصود کے لطیفے پسند نہیں ہیں، ان کو حق ہے کہ نہ تالی بجائیں، نہ ہنسیں۔ اگر طاقتور ہوں تو معافی منگوا لیں لیکن ایک بزرگ لطیفے باز پر لعن طعن کرتے ہوئے یہ بھی سوچیں کہ آخر ان کے سننے والوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ ان اداروں کے بارے میں لطیفے سننا چاہتے ہیں جو کبھی مقدس سمجھے جاتے تھے۔

انور مقصود کے لطیفوں سے تو کوئی نہیں ڈرتا لیکن ان کے لطیفوں پر ہنسنے والوں سے شاید اداروں کو کچھ خوف آنا شروع ہو گیا ہے۔

بشکریہ بی بی سی اردو۔
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، کالم یا تبصرے میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ/ تبصرہ نگار کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Tags:

anver maqsoodanwar maqsooAnwar Maqsoodanwar maqsood about armyanwar maqsood at urdu conferenceanwar maqsood bestanwar maqsood comedyanwar maqsood funnyanwar maqsood funny poetryanwar maqsood latestanwar maqsood latest speechanwar maqsood poetryanwar maqsood speechanwar maqsood talk showanwar maqsood urdu conferenceanwar maqsood urdu quotesanwar masoodbbc punjabi mohammed hanif blogbbc punjabi mohammed hanif vlogbest of anwar maqsoodbus simulator indonasia hanif bushanifhanif bushanif bus gamehanif bus modhanif hasballahhanif ktchanif vloghanif vlog bbchanif vlog bbc newsjournalist hanif vlogmohammad hanifMohammed Hanifmohammed hanif blogmohammed hanif vlogmohammed hanif vlog bbcmohammed hanif vlog on india pakistanmoin akhtar & anwar maqsoodmuhammad (founding figure)Muhammad Hanifwatch anwar maqsood loose talk
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
The-chain-of-illusion-that-takes-the-form-of-reality-which-cannot-be-broken-even-by-science
Previous

حقیقت کا روپ دھار کر جکڑ لینے والی وہم کی زنجیر، جس کا توڑ سائنس کے پاس بھی نہیں!

The-Key-to-the-Fathers-House-Selected-Fiction-from-Bulgarian-Literature-by-Liana-Daskalova
Next

باپ کے گھر کی چابی (بلغارین ادب سے منتخب افسانہ)

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme