Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

انگریزی کے ان الفاظ کی دلچسپ کہانی، جو امریکی صدور نے ایجاد کیے

By Akhtar Rasool
جنوری 11, 2023 6 Min Read
0

امریکی صدور کی طرف سے بنائے گئے الفاظ کی بھی ایک دلچسپ کہانی ہے۔ کہتے ہیں کہ جب امریکی صدور کو کسی صورتِ حال کو بیان کرنے کے لیے کوئی مناسب لفظ نہیں سوجھتا تو بعض مرتبہ وہ خود ہی کوئی لفظ بنا لیتے ہیں، اور بعد میں یہی الفاظ تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں

صدر روزویلٹ سے لے کر صدر براک اوباما اور ڈونلڈ ٹرمپ تک کئی صدور کی اختراع کیے گئے الفاظ آج نہ صرف امریکہ میں عام بول چال کا حصہ بن چکے ہیں، بلکہ ان میں سے کئی الفاظ کو باقاعدہ انگریزی لغت میں بھی شامل کیا جا چکا ہے

امریکہ میں پال ڈکسن نے ’ورڈز فروم وائٹ ہاؤس‘ کے عنوان سے ایک کتاب مرتب کی ہے، جس میں انہوں ںے امریکی صدور کے ایجاد کیے گئے یا ان کے مشہور کیے گئے الفاظ کو جمع کیا ہے

امریکہ کے تیسرے صدر تھامس جیفرسن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے سیاسی کریئر میں ایک سو سے بھی زائد الفاظ بنائے تھے، ان ہی میں کسی چیز کو درست ثابت کرنے کے لیے انگریزی اصطلاح ‘Authentication’ بھی شامل ہے۔ اسی طرح انگریزی روایات اور زبان وغیرہ سے بہت زیادہ لگاؤ کے لیے ‘Anglomania’ کی اصطلاح بھی ان ہی کی اختراع ہے

لوگ ابراہام لنکن کو امریکہ سے غلامی کے خاتمے کی وجہ سے ایک عظیم سیاسی مدبر کے طور پر تو جانتے ہیں، لیکن بہت کم ہی لوگ اس بات سے باخبر ہیں کہ آج کسی چیز کی تعریف کے لیے انگریزی لفظ ‘Cool’ کا استعمال بھی انہوں نے ہی کیا تھا۔ آج کے دور میں یہ لفظ ان معنوں میں عام بول چال کا حصہ بن گیا ہے اور خاص طور پر نوجوان کسی چیز کے بارے میں پسندیدگی یا خوشی کا اظہار بھی ’کول‘ کہہ کر کرتے ہیں

اس کے علاوہ ایوان کی رائے تقسیم ہونے کے لیے ’ری لوکیشن‘ کا لفظ بھی لنکن نے ہی استعمال کیا تھا

ٹیڈی روز ویلٹ نے امریکی انگریزی میں کئی سلینگز کا اضافہ کیا، جو آج بھی استعمال ہوتے ہیں۔ کوئی بھی ایسا شخص، جو کسی بھی وقت قابو سے باہر ہو کر نقصان کا باعث بن سکتا ہو، اس کے لیے ’Loose Cannon‘ کا لفظ بھی پہلی مرتبہ روزویلٹ نے استعمال کیا تھا

برے بھلے کی تمیز کے بغیر دولت سمیٹنے والوں کے لیے انہوں نے ‘malefactors of great wealth’ کی اصطلاح ایجاد کی

اسی طرح غیر ضروری اشیا کو سنبھال کر رکھنے والوں کے لیے ‘Pack rat’ اور شدت پسندی کے ساتھ سیاسی یا سماجی نظریات رکھنے والوں کے لیے ‘Lunatic fringe’ کی اصطلاح بھی روزویلٹ نے استعمال کی تھی

اگرچہ اپنی انتخابی مہم کے دوران صدر ٹرمپ نے ’امریکہ فرسٹ‘ (سب سے پہلے امریکہ) کا نعرہ لگایا تھا لیکن کہا جاتا ہے کہ سب سے پہلے یہ نعرہ 1915ع میں ووڈ رو ولسن نے لگایا تھا۔ انہیں امریکہ کی کانگریس کے ساتھ انگریزی قواعد کے مطابق ’دی‘ (The) نہ لگانے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا

ان کے بعد آنے والے صدر وارن ہارڈنگ نے امریکہ کے بانیوں اور آئین بنانے والوں کو ’فاؤنڈنگ فادرز‘ یعنی ’بابائے قوم‘ کہنا شروع کیا۔ حالات معمول پر آنے کے لیے لفظ ‘Normalcy’ اور بے ربط اور طویل گفتگو کے لیے ‘Bloviate’ کا لفظ بھی ہارڈنگ کی ہی اختراع تھی

امریکہ کے بتیسویں صدر فرینکلن ڈیلانو روزویلٹ کے بنائے گئے الفاظ کا اعتراف تو انگریزی زبان کی مؤقر ترین لغت ’آکسفرڈ ڈکشنری‘ نے بھی کیا ہے

ڈکشنری کے مطابق کسی بھی خاص موقعے یا کھیل کے مقابلے کے دوران خوشی کا اظہار کرنے والوں کی قیادت کرنے والوں کو سب سے پہلے فرینکلن ڈی روزویلٹ نے ’Cheerleader‘ کہا تھا

فرینکلن ڈی روزویلٹ نے امریکہ کے صدر کے سالانہ خطاب کا عنوان ’رپورٹ ٹو کانگریس‘ سے تبدیل کر کے اسے ’اسٹیٹ آف دی یونین‘ کا نام دیا۔ آج بھی صدر کا یہ خطاب اسی عنوان سے ہوتا ہے اور ماہرینِ زبان کے مطابق اپنے پرانے نام کے مقابلے میں زیادہ جامع اور موزوں ہے

فرینکلن ڈی روز ویلٹ نے انتہائی غیر یقینی اور ’اگر مگر‘ کی صورتِ حال کے لیے ایک دلچسپ لفظ ایجاد کیا۔ سپریم کورٹ کے بارے میں انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ”یہ کہنا بہت ‘Iffy’ یعنی غیر یقینی ہوگا کہ سپریم کورٹ اس بارے میں کیا رائے دیتی ہے۔ ’اگر‘ کے لیے انگریزی کے لفظ ‘if’ سے اخذ کردہ یہ لفظ اس وقت امریکہ کے اخباروں کی شہ سرخیوں میں رہا

مصنف پال ڈکسن کا کہنا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ‘iffy’ کا لفظ فرینکلن روزویلٹ نے بنایا تھا

الفاظ و اصطلاحات کے علاوہ کئی امریکی صدور نے ضرب المثل بننے والے فقرے بھی کہے۔ امریکہ کے تینتیسویں صدر ہیری ٹرومین کا یہ فقرہ بہت مشہور ہوا کہ ’اگر آپ گرمی برداشت نہیں کر سکتے تو باورچی خانے سے باہر چلے جائیں‘

امریکہ میں ملک کی فوج، دفاعی ساز و سامان بنانے والی صنعت اور حکومت کے باہمی تعلق کو ایک اتحاد کے طور پر بیان کرنے کے لیے ’ملٹری انڈسٹری کمپلیکس‘ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے

سب سے پہلے 1961ع میں یہ اصطلاح صدر ڈیوائٹ ڈی آئزن ہاور نے استعمال کی تھی، لیکن ایک اور لفظ کے استعمال کرنے پر انہیں کڑی تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا

پال ڈکسن کے مطابق جب صدر آئزن ہاور نے لفظ ‘Final’ کو فعل بنا کر ‘Finalize’ کر دیا اور کسی معاملے کو حتمی شکل دینے کے مراحل بیان کرنے کے لیے اس لفظ کا استعمال کیا تو انہیں تنقید کا سامنا کرنا پڑا

ان کا کہنا ہے کہ اخبارات نے لکھا کہ صدر کو ‘finalize’ جیسے الفاظ استعمال نہیں کرنے چاہئیں یہ درست انگریزی نہیں ہے۔ تاہم تنقید کی زد میں آنے والا یہ لفظ بعد میں رواج پا گیا اور آج تک کثرت سے استعمال ہوتا ہے

پال ڈکسن کا کہنا ہے کہ جس طرح عام مقولہ ہے کہ ”ضرورت ایجاد کی ماں ہے“ اسی طرح دنیا میں پیدا ہونے والے حالات کے ساتھ ساتھ امریکی صدور نے بھی ضرورت پڑنے پر اپنی بات لوگوں تک پہنچانے کے لیے مختلف الفاظ، اصطلاحات اور فقرے تراش لیے

ان کا کہنا ہے کہ چاہے وہ امریکہ میں معاشی بحران ‘گریڈ ڈپریشن’ ہو یا دوسری عالمی جنگ کا دور ہو، سیاست اور فیشن میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ امریکی صدور بھی زبان میں نت نئے تجربات کرتے رہے

صدر نکسن نے بھرپور اکثریت کے لیے ‘Solid Majority’ کی اصطلاح بنائی تو صدر اوباما نے کسی منصوبے کے آغاز کے قریب ہونے کے لیے ‘shovel-ready’ کی اصطلاح وضع کی، جو اس سے پہلے کبھی نہیں سنی گئی تھی

شوول سے مراد بیلچہ ہے اور ریڈی سے مراد تیار۔ صدر اوباما نے یہ اصطلاح ایسے منصوبوں کے لیے بنائی تھی جن پر فوری کام شروع کیا جا سکتا ہو

صدر اوباما کے پیش رو جارج ڈبلیو بش نے کسی معاملے پر حتمی فیصلہ کرے والے کے معنی میں اپنے لیے ‘decider’ کا لفظ استعمال کیا

غلط اندازے کے لیے ‘underestimate’ کا لفظ لغت میں پہلے ہی موجود ہے۔ لیکن اندازے میں ہونے والی غلطی کی شدت کو بڑھا کر بیان کرنے کے لیے صدر بش جونیئر نے ‘misunderestimate’ کا لفظ اختراع کیا

امریکی صدور کے ایجاد کیے گئے الفاظ و اصطلاحات وقت کے ساتھ ساتھ امریکہ ہی میں نہیں، بلکہ دنیا بھر میں بول چال اور لغت کا حصہ بنتے گئے

پال ڈکسن کے مطابق ان الفاظ کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ تمام صدور میں ایک صلاحیت یکساں تھی۔ ان میں سے اکثر نے بہت ہوشیاری کا مظاہرہ کیا۔ ذہین ہونے کے ساتھ ساتھ یہ لوگ چالاک بھی تھے اور ان کی حسِ مزاح بھی بہت تیز تھی

ڈکسن کا کہنا ہے کہ امریکی صدور کو کئی مرتبہ فی البدیہ اپنی بات دوسروں تک پہنچانی ہوتی ہے۔ لیکن کئی مرتبہ جب انہیں کوئی لفظ نہیں سوجھتا تو وہ خود لفظ بنا لیتے ہیں۔

Tags:

abc learning englishamerican accentamerican englishamerican english accentamerican english accent trainingamerican english andamerican english and australianamerican english and australian english differencesamerican english and british englishamerican english and british english - 8 grammar differencesamerican english and british english accentamerican english and british english differenceamerican english and british english pronunciationamerican english and british english pronunciation differencesamerican english and british english wordsamerican english and canadian englishamerican english and england englishamerican english and indian englishamerican english and indian english wordsamerican english andhraamerican english conversationamerican english fileamerican english file 1american english listeningamerican english listening practiceamerican english listening practice level 1american english movieamerican english pronunciationamerican english pronunciation practiceamerican english speakingamerican english speaking courseamerican english speaking practiceamerican english vs british englishamerican vocabularybasic english conversationbritish englishdaily englishEnglishenglish conversationenglish jessicaenglish listening practiceenglish pronunciationenglish speakingenglish with vanessafast englishhow to speak englishlearn englishlearn english conversationlearn english conversation practicelearn english listeningnative english teacherreal english conversationspeak englishspeak english with vanessaspeaking english practice conversation
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

سندھ کے حکمران غلام شاہ کلہوڑو، جنہیں مرنے کے بعد ’مچھلی والا بابا‘ بنا دیا گیا!

Next

کیا کراچی ماسٹر پلان 2047 ایک ماحولیاتی ماسٹر پلان ہوگا؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme