Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینکالم

ان پڑھ سرجن ڈاکٹر

By Akhtar Rasool
اگست 11, 2022 4 Min Read
0

کیپ ٹاون کی میڈیکل یونیورسٹی کو طبی دنیا میں ممتاز حیثیت حاصل ہے۔ دنیا کا پہلا بائی پاس آپریشن یہیں ہوا تھا۔ اس یونیورسٹی نے تین سال پہلے ایک سیاہ فام شخص کو ’’ماسٹر آف میڈیسن‘‘ کی اعزازی ڈگری سے نوازا

2003 کی ایک صبح مشہورعالمی سرجن پروفیسر ڈیوڈ ڈینٹ نے یونیورسٹی آڈیٹوریم میں اعلان کیا ’’ہم آج ایک ایسے شخص کو میڈیسن کی اعزازی ڈگری دے رہے ہیں، جس نے دنیا میں سب سے زیادہ سرجن پیدا کیے، جو ایک غیر معمولی استاد اور سرجن ہے۔ جو زندگی میں کبھی اسکول نہیں گیا تھا۔ جو انگریزی پڑھ سکتا تھا نہ لکھ سکتا تھا لیکن میڈیکل سائنس اور ڈاکٹرز کو حیران کر دیا

پروفیسر نے ہیملٹن کا نام لیا اور پورے ایڈیٹوریم نے کھڑے ہو کر اس کا استقبال کیا۔ یہ اس یونیورسٹی کی تاریخ کا سب سے بڑا استقبال تھا

ہیملٹن کیپ ٹاون کے ایک گاؤں میں پیدا ہوا۔ والدین چرواہے تھے، بچپن میں اس کا والد بیمار ہو گیا تو وہ کیپ ٹاؤن آگیا۔ ان دنوں کیپ ٹاؤن یونیورسٹی میں تعمیرات جاری تھیں۔ وہ یہاں مزدوری کرنے لگا

تعمیرات کا سلسلہ ختم ہوا تو وہ یونیورسٹی میں مالی بھرتی ہوگیا۔ پھر اس کی زندگی میں ایک موڑ آیا

پروفیسر رابرٹ جوئز زرافے پر تحقیق کر رہے تھے کہ جب زرافہ پانی پینے کے لیے گردن جھکاتا ہے تو اسے غشی کا دورہ کیوں نہیں پڑتا، انھوں نے آپریشن ٹیبل پر ایک زرافہ لٹایا، اسے بے ہوش کیا، لیکن زرافے نے گردن ہلا دی

پروفیسر آپریشن تھیٹر سے باہر آئے، سامنے ہیملٹن گھاس کاٹ رہا تھا، پروفیسر نے اسے بلایا اور زرافے کی گردن پکڑنے کا حکم دے دیا

ہیملٹن نے گردن پکڑ لی، یہ آپریشن آٹھ گھنٹے جاری رہا، ہیملٹن زرافے کی گردن تھام کر کھڑا رہا۔ دوسرے دن پروفیسر نے اسے پھر بلا لیا، وہ آیا اور زرافے کی گردن پکڑ کر کھڑا ہوگیا، اس کے بعد یہ اس کی روٹین ہوگئی۔ وہ یونیورسٹی آتا، آٹھ دس گھنٹے آپریشن تھیٹر میں جانوروں کو پکڑتا اور اس کے بعد ٹینس کورٹ کی گھاس کاٹتا تھا

وہ کئی ماہ دوہرا کام کرتا رہا، اس نے اس ڈیوٹی کا اضافی معاوضہ طلب کیا اوربنہ ہی شکایت کی

پروفیسر رابرٹ جوئز اس کی استقامت اور اخلاص سے متاثر ہوگیا اور اس نے اسے مالی سے ’’لیب اسسٹنٹ‘‘ بنا دیا۔ وہ اب یونیورسٹی آتا، آپریشن تھیٹر پہنچتا اور سرجنوں کی مدد کرتا

1958 میں اس کی زندگی میں دوسرا اہم موڑ آیا۔ اس سال ڈاکٹر برنارڈ یونیورسٹی آئے اور انھوں نے دل کی منتقلی کے آپریشن شروع کر دیے۔ ہیملٹن ان کا اسسٹنٹ بن گیا، ان آپریشنوں کے دوران وہ اسسٹنٹ سے ایڈیشنل سرجن بن گیا

اب ڈاکٹر آپریشن کرتے اور آپریشن کے بعد اسے ٹانکے لگانے کا فریضہ سونپ دیتے، وہ انتہائی شاندار ٹانکے لگاتا تھا، وہ سرجنوں سے زیادہ انسانی جسم کو سمجھنے لگا۔۔۔ چنانچہ بڑے ڈاکٹرز نے اسے جونیئر ڈاکٹرز کو سکھانے کی ذمے داری سونپ دی۔ وہ اب جونیئر ڈاکٹرز کو آپریشن کی تکنیکس سکھانے لگا۔ یوں وہ یونیورسٹی کی اہم ترین شخصیت بن گیا

1970میں اس کی زندگی میں تیسرا موڑ آیا، اس سال جگر پر تحقیق شروع ہوئی تو اس نے آپریشن کے دوران جگر کی ایک ایسی شریان دریافت کی، جس کی وجہ سے جگر کی منتقلی آسان ہوگئی۔ میڈیکل سائنس کے بڑے دماغوں حیران رہ گئے۔ وہ پچاس برس کیپ ٹاؤن یونیورسٹی سے وابستہ رہا

وہ میڈیکل ہسٹری کا پہلا ان پڑھ استاد اور پہلا ان پڑھ سرجن تھا، جس نے زندگی میں تیس ہزار سرجنز کو ٹریننگ دی، وہ 2005 میں فوت ہوا تو اسے یونیورسٹی میں دفن کیا گیا اور اس کے بعد یونیورسٹی سے پاس آؤٹ ہونے والے سرجنز کے لیے لازم قرار دے دیا گیا وہ ڈگری لینے کے بعد اس کی قبر پر جائیں، تصویر بنوائیں

جس دن اسے زرافے کی گردن پکڑنے کے لیے آپریشن تھیٹر میں بلایا گیا تھا ، اگر وہ اس دن انکار کر دیتا تو وہ مرتے دم تک مالی رہتا۔ یہ اس کی ایک ’ہاں‘ اور آٹھ گھنٹے کی اضافی مشقت تھی، جس نے اس کے لیے کامیابی کے دروازے کھول دیے اور وہ سرجنوں کا سرجن بن گیا

دنیا کی ہر جاب کا کوئی نہ کوئی کرائیٹیریا ہوتا ہے اور یہ جاب صرف اس شخص کو ملتی ہے، جو اس کرائیٹیریا پر پورا اترتا ہے ۔جب کہ کام کا کوئی کرائیٹیریا نہیں ہوتا

میں اگر آج چاہوں تو میں چند منٹوں میں دنیا کا کوئی بھی کام شروع کر سکتا ہوں اور دنیا کی کوئی طاقت مجھے اس کام سے باز نہیں رکھ سکے گی۔ ہیملٹن اس راز کو پا گیا تھا، لہٰذا اس نے جاب کے بجائے کام کو فوقیت دی۔ یوں اس نے میڈیکل سائنس کی تاریخ بدل دی۔ اگر وہ سرجن کی جاب کے لیے اپلائی کرتا، تو کیا وہ سرجن بن سکتا تھا؟ کبھی نہیں، لیکن اس نے کھرپہ نیچے رکھا، زرافے کی گردن تھامی اور سرجنوں کا سرجن بن گیا۔

بشکریہ: ایکسپریس نیوز

Tags:

Cape TownDoctorSouth AfricaSurgeonUneducated
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

موسمیاتی تبدیلی اور سست ہوتی کرہ ارض کی رفتار

Next

لمحوں میں اترا بڑھاپا (افسانہ)

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme