Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینکالمماحولیات

موسمیاتی تبدیلی اور سست ہوتی کرہ ارض کی رفتار

By Akhtar Rasool
اگست 11, 2022 4 Min Read
0

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ساڑھے چار ارب سال سے لے کر اب تک کرہ ارض کی گردش کی رفتار میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے اور اسی وجہ سے دن طویل ہو رہے ہیں

اگرچہ گردش کی رفتار میں کمی اتنی کم ہے کہ انسان اس کو نوٹس نہیں کرسکتا لیکن اس سے دن کی لمبائی میں فرق ضرور پڑ رہا ہے

’سائنس ڈاٹ او آر جی‘ نامی ویب سائٹ کے مطابق ڈیڑھ ارب سال قبل ایک دن 24 نہیں بلکہ 18 گھنٹوں کا ہوا کرتا تھا اور 70 ملین سال قبل دن ساڑھے 23 گھنٹوں کا ہوتا تھا

سائنسدانوں کے مطابق اس بات کے شواہد ملے ہیں کہ ہر ایک سو سال بعد دن کی طوالت میں ایک اعشاریہ آٹھ ملی سیکنڈ کا اضافہ ہو رہا ہے

سائنسی جرنل ’پروسیڈنگز آف دا رائل سوسائٹی‘ میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ 2740 سالوں میں کرہ ارض کی گردش چھ گھنٹے سست ہوئی ہے، لیکن کچھ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث جیسے جیسے سمندر کی سطح میں اضافہ ہوتا جائے گا ویسے ویسے زمین کی گردش میں کمی ہوگی اور اس ماڈل کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ کرہ ارض کی گردش کی رفتار میں ایک اعشایہ آٹھ ملی سیکنڈ نہیں بلکہ دو اعشاریہ تین ملی سیکنڈ کمی ہونی چاہیے

یہ جملہ کئی بار عالمی کانفرنسوں اور اجلاسوں میں بھی کہا اور لکھا جا چکا ہے کہ موسمی تبدیلی امیر اور غریب، مرد اور عورت، بوڑھے اور جوان، گورے اور کالے میں فرق نہیں کرے گی، لیکن دنیا بھر میں نچلے طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کو ہی اس کا سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑے گا

پاکستان کا شمار دس ایسے ممالک میں ہوتا ہے، جو گلوبل کلائمٹ رسک انڈیکس میں موسمی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں بلکہ صرف اتنا ہی نہیں دو سال قبل پاکستان ان ممالک کی فہرست میں پانچویں نمبر پر آ گیا

پاکستان کو مختلف قدرتی اور انسان کی بنائی ہوئی مشکلات کا سامنا ہے اور انہی مشکلات کے باعث ملک میں لوگوں کو بے گھر ہوکر ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا پڑا

عالمی رپورٹس کے مطابق ہر سال تیس لاکھ افراد قدرتی حادثات سے متاثر ہوتے ہیں۔ تیس لاکھ کوئی چھوٹی آبادی نہیں بلکہ ملک کی آبادی کا ایک فیصد سے زیادہ ہے

انڈس ڈیلٹا جو دنیا میں پانچواں بڑا ڈیلٹا ہے، گذشتہ دو دہائیوں میں 92 فیصد سکڑ گیا ہے۔ 92 فیصد! اور اس وجہ سے بارہ لاکھ سے زیادہ افراد انڈس ڈیلٹا سے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو گئے

پاکستان میں دیہی علاقوں سے شہری علاقوں اور خاص طور پر ملک کے بڑے شہروں میں جا کر رہائش اختیار کرنے کا عمل پورے جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے برائے آبادی نے ایک تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ 2025ع تک پاکستان کی نصف آبادی شہروں میں رہائش پذیر ہوگی

موسمی تبدیلی اور نقل مکانی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ موسمی تبدیلی کے باعث نقل مکانی کا عمل ناقابل تردید ہے اور اکیسویں صدی میں یہ نقل مکانی نہ صرف پاکستان بلکہ بلکہ دنیا بھر میں ہونی ہے۔ لیکن پاکستان جیسے ملک میں جہاں پہلے ہی سے ناقص منصوبہ بندی کے نتائج عوام بھگت رہے ہیں، یہاں تو اس کے اثرات سنگین ہوں گے، جن میں اس وقت مزید شدت آئے گی جب ملک میں سماجی، معاشی، سیاسی اور حتیٰ کے ثقافتی پہلو بھی لوگوں کو نقل مکانی پر مجبور کریں گے

ایک طرف تو پاکستان کی آبادی بڑھتی جا رہی ہے اور دوسری جانب زیادہ سے زیادہ افراد بڑے شہروں کا رخ کر رہے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 1950 سے لے کر 2012 تک 62 سالوں میں ملک کی آبادی میں پانچ گنا اضافہ ہوا لیکن شہروں کی جانب رخ کرنے والوں میں دس گنا اضافہ ہوا۔ اب ذرا رکیے اور سوچیے کہ اگلے ڈھائی سالوں میں 220 ملین کی آبادی کا آدھا حصہ یعنی 110 ملین افراد صوبائی دارالحکومتوں میں موجود ہوں گے

’ایڈوانسنگ ارتھ اینڈ اسپیس سائنس‘ کی گذشتہ سال کی تحقیق کے مطابق موسمی تبدیلی کے باعث درجہ حرارت میں اضافے سے جنوبی ایشیا میں ہیٹ ویو عام ہو جائے گی

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ویٹ بلب ٹمپریچر یعنی زیادہ درجہ حرارت اور زیادہ نمی کا مجموعہ بہت خطرناک ہے۔ زیادہ سے زیادہ ویٹ بلب ٹمپریچر جس میں لوگ کام کر سکتے ہیں وہ ہے 32 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ 35 ڈگری سینٹی گریڈ وہ ویٹ بلب ٹمپریچر ہے جو انسانوں کے لیے حد ہے۔ اس سے زیادہ اگر درجہ حرارت ہوا تو پسینہ بخارات نہیں بنے گا اور انسان کا جسم ٹھنڈا نہیں ہوگا

صاف ظاہر ہے کہ موسمی تبدیلی سے روزگار اور صحت دونوں ہی پر اثر پڑے گا۔ اس وقت بھی 39 فیصد آبادی کثیر جہتی غربت میں مبتلا ہے اور موسمی تبدیلی کے باعث روزگار جانے سے ان کی زندگی اور صحت پر بہت زیادہ اثر پڑے گا

بشکریہ: انڈیپینڈنٹ اردو

Tags:

Climate changeEnvironmentGlobal warmingPlanet SpeedSlow Planet
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

ملیر ندی میں ناگوری اور بحریہ ٹائون کی غلاظت بہنے لگی

Next

ان پڑھ سرجن ڈاکٹر

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme