Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںعالمی

اور اب قطب مینار پر بھی ہندوؤں کا دعویٰ، مینار کے آس پاس کھدائی کے امکانات

By Akhtar Rasool
مئی 23, 2022 3 Min Read
0

بھارت میں انتہا پسند ہندوؤں کی طرف سے اب یہ دعویٰ زور پکڑتا جا رہا ہے کہ دارالحکومت دہلی میں واقع تاریخی عمارت قطب مینار در اصل ایک مندر تھا اور اسے قطب الدین ایبک کے بجائے ایک ہندو راجہ نے تعمیر کروایا تھا

انتہاپسند ہندوؤں نے اسے قطب مینار کے بجائے، ‘وشنو استمب’ کا نام دیا ہے اور اس کی تصدیق کے لیے وہاں پر کھدائی کا بھی امکان ہے

تاہم گذشتہ روز مودی مرکزی حکومت کے مرکزی وزیر ثقافت جی کے ریڈی نے کہا ہے کہ معروف قطب مینار کمپلیکس میں کھدائی سے متعلق ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے، اس لیے اس حوالے سے میڈیا کی رپورٹ درست نہیں ہیں

لیکن وزیر ثقافت نے مستقبل میں حکومت کی جانب سے ایسا قدم اٹھانے کے امکان کو رد نہیں کیا. انہوں نے صرف اتنا کہا، ”ابھی تک اس بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے‘‘

اس سے قبل حکومتی ذرائع کے حوالے سے یہ خبر عام ہو گئی تھی، کہ مرکزی حکومت نے قطب مینار کے کمپلیکس میں موجود مورتیوں کی نقش نگاری کروانے کی ہدایات جاری کی ہیں اور قطب مینار کے جنوب میں واقع مسجد قوت الاسلام سے پندرہ میٹر کے فاصلے پر بہت جلد کھدائی شروع کی جا سکتی ہے

ان خبروں میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ اس جائزے کے لیے کہ آیا قطب مینار بھی کسی مندر کا حصہ تھا یا نہیں، اس کا پتہ لگانے کے لیے بھارت کے محکمہ آثار قدیمہ کو کھدائی شروع کرنا تھی اور پھر وزارت ثقافت کو اپنی رپورٹ دینا تھی

گزشتہ ہفتے کے روز وزارت ثقافت کے سیکریٹری گووند موہن نے اچانک قطب مینار کا دورہ کیا تھا اور اس کے بعد ہی حکومتی ذرائع سے یہ خبر عام ہو گئی کہ محکمہ آثار قدیمہ کو یہ معلوم کرنے کے لیے کھدائی کرنے کا حکم دیا گیا ہے کہ آیا قطب مینار کو قطب الدین ایبک نے تعمیر کیا تھا یا ہندو راجہ چندرگپت وکرمادتیہ نے؟

جبکہ وزارت کا اصرار ہے کہ یہ ایک معمول کا دورہ تھا اور ابھی تک ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے

واضح رہے کہ دنیا کے تمام مؤرخ اس بات پر متفق ہیں کہ قطب مینار کو بارہویں صدی کے اواخر اور تیرہویں صدی کے اوائل میں دہلی کے پہلے مسلم حکمراں قطب الدین ایبک نے تعمیر کروایا تھا۔ تاہم بھارت کے سخت گیر نظریات کے حامل ہندو قوم پرست یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں، کہ اسے ایک ہندو راجہ نے پانچویں صدی میں تعمیر کروایا تھا

بھارت کی ہندو انتہا پسند تنظیمیں لال قلعہ، جامع مسجد اور تاج محل جیسی مسلم حکمرانوں کی تعمیر کردہ دیگر بہت سی تاریخی عمارتوں اور مساجد پر بھی اپنا دعویٰ کرتی ہیں۔ وہ شدت سے یہ چاہتے ہیں کہ یہ سب ہندوؤں کے زیرِ قبضہ ہونا چاہئیں

حال ہی میں محکمہ آثار قدیمہ کے ایک مقامی سابق ڈائریکٹر دھرم ویر شرما نے پھر سے یہ شوشہ چھوڑ دیا کہ قطب مینار سورج کی سمت کا پتہ کرنے کے لیے ہندو راجہ وکرمادتیہ نے تعمیر کیا تھا۔ اسی کے بعد یہ تنازعہ پھر سے ابھر کو سامنے آ گیا

اس سلسلے میں دہلی کی ایک عدالت میں حال ہی میں ایک کیس بھی درج کیا گیا ہے، جس نے گزشتہ ماہ محکمہ آثار قدیمہ کو یہ ہدایت دی تھی کہ وہ آئندہ احکامات تک قطب مینار کے احاطے میں رکھی گئی بھگوان گنیش کی دو مورتیوں کو نہ ہٹائے

ایک وکیل ہری شنکر جین نے اپنی درخواست میں دعویٰ کیا ہے کہ محمود غزنوی کی فوج کے ایک جنرل قطب الدین ایبک نے ستائیس مندروں کو جزوی طور پر مسمار کر دیا تھا، اور پھر وہاں پر مسجدِ قُوَۃالاِسلا تعمیر کروائی تھی

رواں ماہ ہی سخت گیر ہندوؤں کے گروپوں کے چوالیس ارکان کو اس وقت حراست میں لیا گیا تھا، جب انہوں نے قطب مینار کمپلیکس کے سامنے ہنومان چالیسا پڑھا اور قطب مینار کا نام بدل کر ’’وشنو استمب‘‘ رکھنے کا مطالبہ کیا

پولیس کا کہنا تھا کہ انہیں عارضی طور پر حراست میں لیا گیا، ”کیونکہ وہ علاقے کی ٹریفک میں رکاوٹ ڈال رہے تھے.“

Tags:

ArchaeologyIndiaIndia HeritageQutb Minar
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

پاکستان کو ماحولیاتی بحران کی بھاری معاشی قیمت ادا کرنی ہوگی

Next

لانگ مارچ کے اعلان کے بعد سیاسی ہلچل، پی ٹی آئی اور حکومت نے کیا تیاریاں کی ہیں؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme