Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںموسم

اٹلی میں ”آسمان سے من و سلویٰ اترنے“ پر شکرانے کا اظہار

By Akhtar Rasool
اپریل 1, 2022 3 Min Read
0

میلان – اٹلی میں جو کچھ ہوا، اس کے لیے کئی مہینوں سے دعائیں مانگی جا رہی تھیں۔ اطالوی زرعی شعبے کی سب سے بڑی تنظیم ’کولدیریتی‘ نے کہا، ’’آسمان سے جو کچھ ہمارے لیے بھیجا گیا، ہم کئی ماہ سے اس کے لیے دعاگو تھے اور منتظر بھی‘‘

براعظم یورپ میں ایسا عام طور پر دیکھنے میں نہیں آتا کہ کسی ملک یا اس کے کسی حصے میں موسمیاتی حالات مسلسل ایسے رہیں کہ دریا خشک ہونے لگیں اور لوگ بارشوں کے لیے دعائیں مانگنا شروع کر دیں، یہاں تک کہ ایسے حالات پر بہت فکر مند اور ماحولیاتی شعور رکھنے والی خواتین جل پریاں بن کر خشک دریائے علاقوں میں احتجاجی مظاہرے بھی کرنے لگیں

لیکن اٹلی میں مسلسل ایک سو گیارہ دنوں تک ایسا ہی ہوا، خاص طور پر اطالوی جزیرہ نما آپےنِن میں تو گزشتہ تقریباﹰ چار ماہ کے عرصے میں ایک بار بھی ایسا نہ ہوا کہ وہاں زمین کی پیاس بجھا سکنے والی کوئی بارش ہوئی ہو۔ اس کا نتیجہ یہ بھی نکلا کہ ملک کے سب سے بڑے دریا پو میں پانی کی سطح اتنی کم ہو گئی، جتنی گزشتہ بیس برسوں میں کبھی دیکھنے میں نہیں آئی تھی

ان حالات کی مختلف وجوہات تھیں۔ پہلی تو یہ کہ اٹلی میں بارشیں ہوئی ہی نہیں تھیں۔ دوسرے یہ کہ ایلپس کے پہاڑی سلسلے میں، جہاں سے دریائے پو نکلتا ہے، وہاں برف بہت کم ہو گئی تھی۔ یہ برف پگھلتی ہے تو اس کا پانی اٹلی میں پو اور اس میں آ کر ملنے والے دوسرے دریاؤں میں گرتا ہے

واضح رہے کہ دریائے پو جن علاقوں سے گزرتا ہے، وہ اٹلی میں زرعی حوالے سے اپنی پیداوار کے لیے مشہور ترین خطوں میں شمار ہوتے ہیں

متاثرہ علاقوں میں بارش کی ضرورت اتنی شدید تھی اور لوگ اس قدر پریشان تھے کہ انہوں نے حال ہی میں چیسنا اور ریمینی نامی شہروں کے درمیان قرون وسطیٰ کے زمانے کی ایک روایت پر عمل کرتے ہوئے ایک صلیبی جلوس بھی نکالا ، جس کے اختتام پر بارش کے لیے دعائیں مانگی گئی تھیں

حالیہ عشروں میں پہلے 1989ع اور پھر 1993ع کے بعد ایسا پہلی مرتبہ ہوا تھا کہ اٹلی میں بارشوں کے لیے کیتھولک مسیحی اکثریتی آبادی کی طرف سے ایسا کوئی صلیبی جلوس نکالا گیا تھا

اس کے علاوہ ابھی گزشتہ ہفتے ہی موڈینا نامی شہر کے قریبی قصبے کارپی میں بھی کسانوں نے مل کر کلیسائی عبادت کی تھی اور اس میں اپنے لیے بارش کی صورت میں ‘آسمان سے رحمت‘ کی دعائیں مانگی تھیں

روم سے بدھ تیس مارچ کو ملنے والی رپورٹوں کے مطابق اب اٹلی میں مہینوں بعد ملک کے وسیع تر علاقوں میں ایسی بارشیں ہوئیں کہ بہت سے خطے جل تھل ہو گئے

اس پر ملکی کسانوں کی نمائندہ سب سے بڑی تنظیم ‘کولدیریتی‘ کی طرف سے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا گیا، ”ہم شکر ادا کرتے ہیں کہ ہمارے لیے آسمان سے وہ من و سلویٰ اتر آیا ہے، جس کے لیے ہم دعائیں مانگ رہے تھے۔‘‘

آئندہ دنوں میں اطالوی محکمہ موسیات نے ملک کے زیادہ تر علاقوں، خاص طور پر شمالی اٹلی میں شدید بارشوں کی پیش گوئی کی ہے۔ یہاں تک کہ کئی علاقوں میں تو گھن گرج کے ساتھ ژالہ باری کی پیش گوئی بھی کی گئی ہے۔

Tags:

Climate changeEuropeItaly
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

فیسبک، ٹک ٹاک کو بدنام کرنے کے لیے کون سی مہم چلا رہا ہے؟

Next

ریکارڈ فاصلے پر واقع ایسا ستارہ دریافت، جو سورج سے بھی پچاس گنا زیادہ بڑا ہے!

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme