Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںکالم

ایک تصویر، ایک کہانی۔17

By Akhtar Rasool
جولائی 24, 2021 2 Min Read
0
یہ کہانی ہے اس تصویر میں نظر آنے والی لڑکی کی… جسے ہم سب پیار سے عینی بلاتے تھے. حبیب یونیورسٹی، کراچی میں لی گئی اس تصویر میں عینی کے ساتھ میں، ڈاکٹر حفیظ جمالی اور رمضان بلوچ ہیں.
ایک  دن ”لیاری کی ان کہی کہانی“ کے تخلیق کار رمضان بلوچ  نے فون کیا کہ ”عینی علی خان، آپ سے اور ڈاکٹر حفیظ جمالی سے ملنا چاھتی ہیں، وہ لیاری کے بلوچوں پر ریسرچ کر رہی ہیں“
22 دسمبر 2017 کو  ھم حبیب یونیورسٹی میں حفیظ جمالی کے آفیس میں ملے اور خوب کچہری رہی، کھانا بھی ساتھ کھایا.
مجھے یاد ہے جب دورانِ گفتگو عینی نے سوال کیا کہ
”مسان چوک کہاں ہے؟“
سب کا دھیان لیاری کے مسان روڈ کی طرف گیا، لیکن وہاں کوئی چوک نہیں.
عینی نے نقشہ ٹیبل پر دکھایا تو مجھے یاد آیا یہ تو بلاول چورنگی کلفٹن کی بات کر رھی ہیں..
میں نے عینی سے کہا کہ
”بلاول چورنگی کا پرانا نام مسان روڈ تھا.. یہ چورنگی، مسان چورنگی ھے“
عینی نے کہا ”تھینکس گاڈ.. میں نے پتا نہیں کتنے لوگوں سے پوچھا.. کسی کو پتا نہیں تھا، آج اس ملاقات نے یہ معمہ بھی حل کر دیا.“
وہ طبقاتی تفریق کے خلاف جدوجہد پر یقین رکھتی تھیں، کمیونسٹ مینیفیسٹو کی ابتدائی عبارت ”انسانی سماج کی تاریخ دراصل طبقاتی جدوجہد کی تاریخ ہے“  کو لے کر، وہ لیاری کے مزدور پیشہ بلوچ اور افریقی نژاد بلوچ پر تحقیق کر رہی تھیں.
22 دسمبر 2017ع کا یہ سفر 22 جولائی 2018ع کو تمام ہوا… جب یہ بری خبر ملی کہ عینی اب ہم میں نہیں رہی..
ان کی لاش ان کے کمرے سے ملی، یہ معمہ حل نہ ہو سکا..
تین برس گذر گئے ہیں، دل ان پرانی یادوں سے جدا نہیں ہوا. یہ یادیں تاریخ، تحقیق اور تہذیب کی یادیں ہیں، بس ہم ان تحریروں میں ان یادوں کو زندہ کرتے ہیں، تحقیق کٹھن کام ہے،
ہاں جاں کے زیاں کی ہم کو بھی تشویش ہے لیکن کیا کیجے،
ہر رہ جو ادھر کو جاتی ہے مقتل سے گزر کر جاتی ہے..
 عینی، لیاری کے بلوچوں اور  افریقی نژاد بلوچوں پر آپ کے  تحقیقی آرٹیکل کا شدت سے انتظار تھا لیکن اب یہ انتظار کبھی ختم نہیں ہو پائے گا.. جب یہ بری خبر ملی کہ آپ نے ھمیشہ کے لیئے ھم سب کو چھوڑ دیا ھے ، تب سے ایک عجیب بے یقینی کی سی کیفیت ہے.. یقین نہیں آرھا ہے کہ آپ ھمیں، اپنے تمام دوستوں کو ھمیشہ کے  لیئے چھوڑ کر چلی گئی ہیں.. ایسی دنیا میں جہاں سے کوئی واپس لوٹ کر نہیں آتا..
بس اب ان کی یادیں اور ھم ہیں.
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

آپ کا فون آپ کی  مکمل جاسوسی کر رہا ہے: ایڈورڈ اسنوڈن

Next

ایران، خوزستان میں پانی کی شدید قلت، احتجاج جاری

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme