Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

Book-reading-makes-new-idea-or-reading-books-make-you-creative-mind
کالماہم ترینتازہ ترین

ایک کڑی، ایک زینہ، ایک مثلث ایک خیال

By Akhtar Rasool
اگست 6, 2024 4 Min Read
0

بہت سی کتابوں کو دیکھ کر میں سوچتا ہوں کہ یہ کام کسی نہ کسی نے تو بہرحال کرنا تھا۔

شفیع عقیل تھے، وزیر آغا تھے، شہزاد احمد، نند کشور وکرم، مشفق خواجہ، ڈاکٹر سلیم احمد، شیما مجید، سید تقی، رئیس امروہوی بلکہ کسی حد تک داؤد رہبر اور کئی دوسرے کہ جنہوں نے اپنی پسند کے موضوعات پہ لکھا، تنقیدی، تحقیقی یا تدوینی نوعیت کا سارا کام کیا اور اسے وقت کی موج کے حوالے کر دیا۔

(اگرچہ اپنی زندگی میں ایک کتاب کار خود کو ہمیشہ سب سے برتر سمجھتا ہے لیکن علم بہرحال اسے ہوتا ہے؛ بلکہ، آسرا ہوتا ہے کہ بہرحال آخری فیصلہ وقت کا ہوگا تو موج کے حوالے کرنا ہی پڑتا ہے بلکہ مرنا بھی پڑتا ہی ہے۔)

(یہ بالکل رینڈم نام ہیں، رعب ڈالنے کے لیے مغربی مصنفین کے نام بھی شامل کیے جا سکتے تھے لیکن مقصد پڑھنے والوں کے ذہن میں ایک ہیولہ سا قائم کرنا ہے۔)

میں پوری کتاب پڑھتا ہوں، اس میں سے کم از کم ایک خیال ایسا مجھے مل جاتا ہے، جو میرے لیے نیا ہوتا ہے۔ اس پر میں سوچ سکتا ہوں، میں مطمئن ہو جاتا ہوں۔

میں سوچتا ہوں کہ انہوں نے بھی کیا وہی ایک بات کہنے کے لیے پوری کتاب لکھی ہوگی؟

بعض کتابوں میں چند صفحے میں بطور نشانی موڑ دیتا ہوں، کچھ سطروں پر نشان لگا دیتا ہوں، کیا لکھنے والوں کو بھی آئیڈیا ہوگا کہ اس کتاب کا اصل مغز وہی صفحے یا لائنیں تھیں؟

اصل مغز ہی کی بات پر مجھے خیال آتا ہے کہ وہ لوگ اگر بسیار نویس نہ ہوتے، جلدی تھک جانے والے ہوتے، سوچتے کہ ہم نے کیا لکھنا ہے اور کتنا کاٹنا ہے؛ تو کیا وہ لوگ یہ سب کچھ لکھ پاتے؟

اور کیا میں ظلم کر رہا ہوتا ہوں، جب میں سمجھتا ہوں کہ اصل کام کی بات وہی تھی جو میں نے سمجھی؟

تب مجھے آئیڈیا ہوتا ہے کہ ہر زمانہ کسی موجود کتاب سے اپنی ریلیونس خود پیدا کرتا ہے۔ جب تک ریلیونس رہتی ہے مصنف زندہ رہتا ہے، وہ ختم تو پھر ان کتابوں کے تازہ ایڈیشن چھپنے بند ہوتے ہیں اور اس کے بعد وہ لائبریری کے پچھلے خانوں میں دفن ہو جاتی ہیں۔

کوئی ایک آدھ نئے پن کا متلاشی انہیں فٹ پاتھ یا اندھیرے شیلفوں سے ڈھونڈتا ہے، پڑھتا ہے، اسے کوئی نئی بات نظر آ جاتی ہے ۔۔۔ یعنی ایک نئی ریلیونس ۔۔۔ کتاب پھر سے حرکت میں آ جاتی ہے۔

اساطیر اور بیسٹ سیلرز (پاپولر اور کلاسیک دونوں ادب پارے) میں ایک بات مشترک ہوتی ہے کہ انہیں لکھنے والے جانتے ہیں کہ انسان کس چیز کے بارے میں جاننا کبھی نہیں چھوڑے گا، کیا چیز ہمیشہ ریلیونٹ رہے گی، اور کون سے موضوع فیصلہ چاہتے ہیں۔

وہ یہ سب کچھ سوچ کر لکھی دی جاتی ہیں، ان میں بات فیصلہ کن ہوتی ہے اور ہر معاملے پر ایک رخ میں بات کر کے فیصلہ پیش کر دیا جاتا ہے۔

جن کتابوں کی بات میں کر رہا تھا، ان میں فیصلے کا راستہ بالعموم قاری پر چھوڑا جاتا ہے، یہ ان کی خوبصورتی ہوتی ہے۔

ہر زمانے کے بیسٹ سیلرز کو پڑھنے والے فیصلہ سننا چاہتے ہیں، خود سے تولنا نہیں چاہتے۔ ہر زمانے کے سنجیدہ پڑھنے والے چونکہ خود بھی سوچتے ہیں، تو انہیں باغی ہونا پڑتا ہے اور وہی ہوتے ہیں جو کونے کھدروں میں جھانکتے ہیں اور اگنورڈ کتابیں تلاش کرتے ہیں۔

تو میں اس نتیجے پر پہنچتا ہوں کہ ‘کسی نہ کسی نے تو بہرحال یہ کام کرنا تھا’ ۔۔۔ یہ بھی ٹھیک سوچ نہیں۔

میرے پاس صرف شکرگزاری بچتی ہے ان کے لیے، جو فیصلے کا تعین کیے بغیر میرے لیے سڑک پہ نشان لگا گئے کہ یہ راستہ فلاں طرف جائے گا اور یہ فلاں سمت، جدھر جانا ہے جاؤ، ہم اس سے آگے نہیں جائیں گے۔

اور کل ملا کے یوں ہے کہ لکھنے سے جان نہیں چھڑانا چاہیے۔ اگر آپ کے پاس کوئی خیال ہے اور آپ لکھنا جانتے ہیں تو اسے سامنے ضرور لانا چاہیے، کتاب نہیں تو سوشل میڈیا پر ہی سہی، لیکن لکھیں ضرور۔

کوئی پرانی کتاب ہے اور آپ اس کی نئی اشاعت چاہتے ہیں اور وسائل نہیں ہیں تو کم از کم ای بک ضرور بنا دینی چاہیے۔

اسی طرح اگر آپ مصنف ہیں تو بھی بسیار نویسی کے خوف کی بجائے مستقل مزاجی آپ کا اہم مسئلہ ہونا چاہیے (اوپر درج کیے گئے نام سوچ کر یہ بات کہہ رہا ہوں۔)

اور اگر آپ تدوین کار ہیں، نئی کتاب مرتب کر سکتے ہیں تو بھی اس کی سافٹ کاپی ضرور بنا دیجیے۔

پڑھنے والا پہنچ جائے گا، خیال اور اس کا مکمل متن ریکارڈ پر موجود ہونا چاہیئیں۔ ڈیجیٹل ہو یا کتابی شکل، یہ غیر اہم ہے۔

لکھا ہوا کچھ بھی ہو، وہ ایک دم بے کار کبھی بھی نہیں ہوتا۔ کچھ نہ کچھ اس میں سے ایسا نکل آتا ہے جو نئے پڑھنے والے کو آگے بڑھا دیتا ہے۔

ایک کڑی، ایک زینہ، ایک مثلث، ایک خیال ۔۔

بشکریہ انڈپینڈنٹ اردو
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، کالم یا تبصرے میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ/ تبصرہ نگار کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Tags:

benefits of reading booksBooksbooks that will get you into readingbooks to get you out of a reading slumpnew favorite books reading vlognew romance books reading vlogonly reading romance books for a weekreadingreading 5 summer books in 5 daysreading booksreading books strangers recommendreading fantasy books for a weekreading my unread booksreading only romance books for a weekreading vlogsummer reading books
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
1582-AD-when-ten-days-of-the-year-disappeared.-Interesting-story-of-the-calendar
Previous

سن 1582ع، جب سال کے دس دن غائب ہو گئے۔۔ کیلنڈر کی دلچسپ کہانی!

Young-Naheed-Islam-and-Iron-Lady-Hasina-Wajid-of-Bangladeshs-soft-talk-of-the-student-protest-movement
Next

طلبہ احتجاجی تحریک کا نرم گفتار نوجوان ناہید اسلام اور بنگلہ دیش کی آئرن لیڈی حسینہ واجد

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme