Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںماحولیات

ای-ویسٹ: 2022 کے آخر تک پانچ ارب فونز کو پھینک دیا جائے گا۔۔

By Akhtar Rasool
اکتوبر 17, 2022 3 Min Read
0

آپ کا فون یقیناً آپ کو عزیز بھی ہوگا اور آپ کے لیے اہم بھی، اس بات سے قطع نظر کہ یہ آئی فون کا نیا ماڈل ہے یا نوکیا کا 3310 ماڈل۔۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ سال 2022ع کے آخر تک عالمی سطح پر تقریباً پانچ ارب موبائل فونز کو الیکٹرونک کچرا قرار دے کر پھینک دیا جائے گا؟

جی ہاں۔۔ بلکل ایسا ہی ہے۔ عالمی ادارہ برائے الیکٹریکل اینڈ الیکٹرونک اکیومپنٹ ویسٹ (ڈبلیو ای ای ای ) کا کہنا ہے کہ رواں برس 5.3 ارب موبائل فونز کو ری سائیکل نہیں کیا جائے گا بلکہ انہیں الیکٹرک کچرا (ای ویسٹ) قرار دے کر پھینک دیا جائے گا

عالمی تجارتی اعداد و شمار پر مبنی یہ تخمینہ ’ای ویسٹ‘ کے بڑھتے ہوئے ماحولیاتی مسئلے کو نمایاں کرتا ہے

تحقیق سے یہ پتا چلا ہے کہ بہت سے لوگ اپنے پرانے موبائل فونز کو ری سائیکل کرنے کی بجائے انہیں اپنے پاس ہی رکھتے ہیں

اور ان فونز میں موجود قیمتی دھاتیں مثلا تاروں میں موجود تانبہ، اور ری چارج ایبل بیٹریوں میں موجود کوبالٹ کو نکال کر دوبارہ استعمال نہ کرنے سے ان معدنیات کے لیے کان کنی کرنی پڑتی ہے

ڈبلیو ای ای ای کے ڈائریکٹر جنرل پاسکل لیروئے کا کہنا ہے ’لوگوں کو یہ احساس نہیں ہوتا کہ یہ تمام بظاہر غیر معمولی اشیا کی بہت زیادہ قیمت ہے اور مجموعی طور پر یہ عالمی سطح پر ایک بڑے حجم کی نمائندگی کرتے ہیں‘

دنیا بھر میں ایک اندازے کے مطابق سولہ ارب موبائل فونز ہیں اور یورپ میں موجود موبائلز میں سے تقریباً ایک تہائی موبائل فونز اب استعمال میں نہیں ہیں

ڈبلیو ای ای ای کا کہنا ہے کہ اس کی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ واشنگ مشین سے لے کر ٹوسٹر تک اور ٹیبلٹ کمپیوٹرز سے لے کر جی پی ایس ڈوائسز تک، عالمی سطح پر الیکٹرونک کچرے کا ایک پہاڑ ہے اور سنہ 2030ع تک یہ بڑھ کر 74 ملین ٹن تک پہنچ جائے گا

واضح رہے کہ اس سال کے شروع میں، رائل سوسائٹی آف کیمسٹری نے نئی مصنوعات تیار کرنے کے لیے پرانے آلات میں سے قیمتی دھاتیں نکال کر استعمال کرنے کو فروغ دینے کے لیے ایک مہم شروع کی تھی، جس میں یوکرین جنگ سمیت عالمی تنازعات کو اجاگر کیا گیا، جس سے قیمتی دھاتوں کی سپلائی چین کو خطرہ ہے

ڈبلیو ای ای ای کی اہلکار میگڈلینا کا کہنا ہے ’یہ پرانے آلات بہت سے اہم اور قیمتیں وسائل (دھاتیں) فراہم کرتے ہیں، جنہیں نئے الیکٹرانک آلات یا دیگر آلات کی تیاری میں استعمال کیا جا سکتا ہے، جیسے ونڈ ٹربائنز، الیکٹرک کار بیٹریاں یا سولر پینلز۔ یہ سب کم کاربن اخراج کرنے والے معاشروں میں ڈجیٹل منتقلی کے لیے بہت اہم ہیں‘

دنیا کے صرف 17 فی صد سے زیادہ الیکٹرونک کچرے کو صحیح طریقے سے ری سائیکل کیا جاتا ہے۔ لیکن اقوام متحدہ کی بین الاقوامی ٹیلی کمیونیکیشن یونین نے اگلے سال تک اسے 30 فی صد تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے

اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ’یہ تیزی سے بڑھنے والے اور سب سے پیچیدہ کچرے میں سے ایک ہے، جو انسانی صحت اور ماحول دونوں کو متاثر کرتا ہے، کیونکہ اس میں نقصان دہ مادے ہو سکتے ہیں۔‘

میٹریل فوکس نامی تنظیم کے سروے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ برطانیہ میں گھروں میں تقریباً 5.63 ارب پاونڈز مالیت کی دس لاکھ سے زائد غیر استعمال شدہ لیکن قابل استعمال برقی اشیا موجود ہیں

یہ حساب بھی لگایا گیا ہے کہ برطانیہ میں اوسطاً فی گھر تقریباً دو سو پاؤنڈ تک کی غیر استعمال شدہ الیکٹرک آلات کو فروخت کر سکتا ہے

اس تنظیم کی آن لائن آگاہی مہم میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ آپ کے قریب ترین ری سائیکل پلانٹ کہاں کہاں موجود ہیں

پاسکل لیروئے کہتے ہیں اس ضمن میں اور بھی بہت کچھ کیا جا سکتا ہے۔۔ مثال کے طور پر سپر مارکیٹوں میں کلیکشن بکس فراہم کرنا، نئے آلات کی ڈیلیوری پر چھوٹے ٹوٹے ہوئے آلات کو اٹھانا اور چھوٹے ای ویسٹ کو واپس کرنے کے لیے پی او (پوسٹ آفس) بکس پیش کرنا ان چیزوں کی واپسی کی حوصلہ افزائی کے لیے متعارف کرائے گئے کچھ اقدامات ہیں۔‘

Tags:

E-WasteSMART PHONEWaste
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

پیرس: سوٹ کیس میں بند 12 سالہ بچی کی لاش، جسم پر پراسرار نمبر۔۔ معاملہ کیا ہے؟

Next

عمرکوٹ کا تاریخی قلعہ، جہاں مغلیہ دور کی قیمتی کتابیں موجود ہیں

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme