
جھمپیر (Jhimpir)کے علاقے میں ایک طرف جہاں آنے والے مہمان پرندوں کا شکار عام ہے، وہیں ونڈ ٹربائن کے منصوبوں نے بھی مہمان پرندوں کی آمد کو متاثر کیا ہے۔
جھمپیر میں زیرِ زمین پانی کھارا ہے، اس لیے لوگ کینجھر کا میٹھا پانی پیتے ہیں، لیکن افسوس کہ یہاں کے لوگ اپنے گھروں کا گندا پانی خود ہی کینجھر میں بہا کر اپنے ورثے کو تباہ کر رہے ہیں۔
سچ تو یہ ہے کہ جس نے کینجھر کو جھمپیر کے ساحل سے کھڑے ہو کر دیکھا، وہ یہ منظر زندگی بھر نہیں بھول سکے گا۔ یہ اس قدر پُرکشش اور دلکش نظارہ ہوتا ہے کہ انسان ایک نظر ڈالتے ہی تازہ دم ہو جائے۔ پھر پہاڑی علاقہ، گاؤں کے سامنے پہاڑی ہے، اس پر چڑھیں تو جنوب کی طرف بالکل قریب کینجھر کا حدِ نگاہ تک پھیلا ہوا پانی نظر آتا ہے۔ صبح کے وقت سورج کی کرنوں کے عکس میں کینجھر پر جیسے چاندی بچھی ہوتی ہے، اور شام کو میلوں تک نیلی چادر تنی دکھائی دیتی ہے، جس کا کوئی کنارہ نظر نہیں آتا۔
میں یونیورسٹی کے دنوں میں جھمپیر اور رسول بخش درس کا ذکر اپنے دوست کریم شیرازی سے سنتا آیا تھا۔ آخر کار کریم شیرازی کے ساتھ جھمپیر جانے کا موقع مل ہی گیا۔
جھمپیر ایک کوہستانی علاقہ ہے جو کینجھر جھیل کے کنارے واقع ہے۔ چاروں طرف جھیل ہونے کے باوجود یہاں کا زیرِ زمین پانی کھارا ہے۔ جھمپیر کے لوگ کینجھر جھیل کا میٹھا پانی پیتے ہیں، لیکن جھمپیر شہر کے لوگ اپنے روزمرہ استعمال کا گندا پانی کینجھر ہی میں خارج کرتے ہیں۔ یہ کتنی عجیب بات ہے کہ وہ اپنی جھیل اور اپنے ورثے کو خود گندا کر رہے ہیں۔
کچھ دن پہلے ایک بار پھر دوستوں شہنشاہ شر، ارسلان شر اور صوفی شر کے ساتھ جھمپیر جانا ہوا۔ ہم شام کو سری شہر سے ریحان پالاری کی اوطاق سے نکل کر سیدھا جھمپیر، مرحوم رسول بخش درس کی اوطاق پر پہنچے۔ سائیں تو اب حیات نہیں ہیں، لیکن ان کے صاحبزادے اور ہمارے بڑے بھائی سارنگ درس نے وہی محبتیں اور ادبی ماحول فراہم کیا جو کئی دہائیوں سے سندھ کے سیاسی اور ادبی طبقے کو ملتا رہا ہے۔
اس بار ہم نے جھمپیر کے دیہاتوں کا رخ کیا۔
سیاسی حوالے سے دیکھا جائے تو مجموعی طور پر ضلع ٹھٹہ میں رسول بخش پلیجو نے جو سیاسی بیج بویا تھا، اس کا اثر اب تک موجود ہے۔ یونین کونسل جھمپیر کے دیہاتوں میں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کی بھی اچھی سیاسی تربیت ہوئی ہے۔ ماضی میں رسول بخش درس کی وجہ سے جھمپیر ادبی اور سیاسی حوالے سے قومی تحریک کا گڑھ رہا ہے۔
جھمپیر کا یہ علاقہ ماحولیاتی لحاظ سے بہت حساس ہے، لیکن گزشتہ چند دہائیوں سے یہاں ہر قسم کا شکار عام ہو گیا ہے۔
جھمپیر کے ایک گاؤں نبی بخش پالاری میں ہماری ملاقات کمال پالاری سے ہوئی۔ وہ واقعی کمال کے انسان ہیں؛ اپنی دھرتی، اپنے لوگوں، پرندوں، جنگلی حیات اور رسم و رواج کے بارے میں مکمل علم رکھتے ہیں۔ اگر وہ بیان کرنا شروع کریں تو تھکتے ہی نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ کس طرح جھوٹی کہانیاں گھڑ کر جانوروں کو مارا جاتا ہے۔ انہوں نے جنگلی حیات اور ان کی ہونے والی نسل کشی کے بارے میں تفصیلی باتیں بتائیں۔
میں نے کمال پالاری سے پوچھا کہ یہاں کن پرندوں اور جنگلی جانوروں کا شکار ہو رہا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ مقامی پرندوں میں تیتر، بٹیر اور دیگر پرندوں میں تلور، بھونترو اور دیگر میں کامن ٹیل، ملر، ملرڈ، گارگنی (Garganey)، پوچارڈ، کُٹھ آڑی، کونج، پہن، تور، واٹر ہینڈ، کبوتر، فاختہ، بلبل، مینا اور ان کے علاوہ بھی کئی پرندے ہیں جن کی نسل کشی کی جا رہی ہے۔
اس علاقے میں پرندوں کی بڑی تعداد میں آمد کی وجہ کینجھر جھیل ہے، اور دوسرے ممالک سے آنے والے پرندوں کا راستہ (Indus Flyway) یہیں سے گزرتا ہے۔
لیکن ماضی میں ہوا یہ کہ جھمپیر میں ونڈ انرجی ٹربائنز لگانا شروع کر دیے گئے۔ کمال پالاری نے بتایا کہ ہم نے اس منصوبے کی مخالفت کی تھی۔ پہلے ترکی کے متبادل توانائی پر کام کرنے والے ادارے ”زورلو“ (ZORLU) کی پہلی پبلک ہیئرنگ یہاں ہوئی، جس میں ہم نے اعتراضات اٹھائے کہ یہ ’انڈس فلائی وے‘ ہے اور پرندوں کی گزرگاہ ہے، لہٰذا یہ منصوبہ مقامی ماحولیات کے خلاف ہے۔ اس کے باوجود انہوں نے کام جاری رکھا اور اب تو ان ٹربائنز کی تعداد بہت بڑھ گئی ہے۔
اس رات ہوا نے ڈیرہ ڈال رکھا تھا، کینجھر کی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا، کمال کی کمال کچہری اور رات گئے شکور پالاری کی آواز اور سُر، اور ساتھ ہی سائیں انور پالاری اور شہنشاہ شر کی سیاسی گفتگو؛ یوں محسوس ہوا جیسے کٹھن پہاڑوں کا یہ سفر کامیاب رہا۔
(فاروق سرگانی فری لانس لکھاری ہیں۔ انہوں نے کراچی یونیورسٹی سے گریجویشن کی ہے۔)




