Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

EIA-Port-Qasim-Karachi
اہم ترینتازہ ترینخبریںماحولیات

پورٹ قاسم نیویگیشنل چینل اپ گریڈنگ: عوامی سماعت یا نمائشی کارروائی؟

By Akhtar Rasool
دسمبر 25, 2025 4 Min Read
0

گزشتہ روز سندھ انوائرمنٹ پروٹیکشن ایجنسی (SEPA) کی جانب سے پورٹ قاسم نیویگیشنل چینل اپ گریڈنگ کی منظوری کے لیے ایک عوامی سماعت (Public Hearing) منعقد کی گئی۔ اس سماعت میں فِٹی کریک کے ذریعے سمندر کی طرف جانے والے راستے کو مزید گہرا کرنے کی تجویز پیش کی گئی، تاکہ بڑے جہازوں خصوصاً LNG ویسلز کی آمد ممکن بنائی جا سکے۔

حیرت انگیز طور پر اس نام نہاد عوامی سماعت میں مقامی ماہی گیر، ساحلی پٹی کی قدیم کمیونٹیز اور متاثرہ لوگوں کو مدعو ہی نہیں کیا گیا، بلکہ اس کے برعکس، پروگرام میں غیر متعلقہ اور فرضی افراد کو بلایا گیا، جو اس عمل کی شفافیت پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔

سندھ انڈیجینئس رائیٹس الائینس کی جانب سے کامریڈ حفیظ بلوچ اور یونس خاصخیلی نے اداروں کی پالیسیوں پر دوٹوک اور مدلل تنقید کی اور اس منصوبے کو مکمل طور پر مسترد کر دیا، کیونکہ منصوبے سے قبل مقامی لوگوں سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی، ماہی گیروں کے تاریخی راستے بند ہوں گے، تمر (منگرو) کے جنگلات مزید تباہ ہوں گے، تاریخی علاقہ رتو کوٹ پورٹ قاسم اتھارٹی کی ملکیت میں چلا جائے گا، دس سے زائد چھوٹے جزیرے شدید خطرے میں ہیں۔

اس موقع پر سندھ انڈیجینئس رائیٹس الائینس کے رہنماؤں کے ساتھ انڈیجینئس رائیٹس لیگل کمیٹی اور گرین چیمبر کی ٹیم بھی موجود تھی، جن میں فاروق سرگانی، نور ظہیر اور آمنہ شامل تھے۔

کامریڈ حفیظ بلوچ نے انوائرمنٹل امپیکٹ اسسمنٹ (EIA) رپورٹ پر تنقیدی جائزہ پیش کرتے ہوئے واضح کیا کہ جب تک ماہی گیروں اور ساحلی کمیونٹیز کو اعتماد میں لے کر فیصلہ سازی نہیں کی جاتی، ایسے منصوبے ماحولیاتی ناانصافی کے مترادف رہیں گے۔

سندھ انڈیجینئس رائیٹس الائینس کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ہم نے اس انوائرمنٹل امپیکٹ اسسمنٹ رپورٹ کا جائزہ لیا ہے۔

پورٹ قاسم نیویگیشنل چینل اپ گریڈنگ کی انوائرمنٹل امپیکٹ اسسمنٹ EIA رپورٹ NDMS کمپنی نے EMC پاکستان سے تیار کروائی ہے۔ رپورٹ تکنیکی زبان میں تو مضبوط دکھائی دیتی ہے، مگر مجموعی طور پر یہ منصوبے کے حق میں جھکی ہوئی ہے۔

سندھ انڈیجینئس رائیٹس الائینس کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اگر اس رپورٹ کے اہم نکات پر نظر دوڑائی جائے تو یہ محض خانہ پری لگتی ہے۔ تقریباً 34 ملین کیوبک میٹر مٹی نکالنے کی تجویز ہے، مگر مٹی ڈالنے کے مقامات واضح نہیں۔ بدنیتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مینگروز جنگلات اور ماہی گیری پر اثرات کو جان بوجھ کر کم ظاہر کیا گیا۔

دوسری جانب بنڈال اور بڈو جزائر کو محفوظ علاقہ تسلیم نہیں کیا گیا، حالانکہ وہ 2022 سے نوٹیفائیڈ محفوظ جنگلات ہیں۔ اس رپورٹ میں ماہی گیروں کی روزی، روایتی راستوں اور حقوق کو نظرانداز کیا گیا ہے

سندھ انڈیجینئس رائیٹس الائینس کے رہنماؤں کا مزید کہنا تھا کہ رپورٹ میں انڈس ڈیلٹا، قدرتی مٹی کے بہاؤ اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو سنجیدگی سے شامل نہیں کیا گیا۔ جبکہ مشاورت صرف بڑی صنعتوں تک محدود رکھی گئی۔ مزید یہ کہ رپورٹ کا یہ دعویٰ کہ منصوبہ ماحول کے لیے محفوظ ہے، زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔

سماعت کے اختتام پر سیپا کے افسران کی جانب سے یہ یقین دہانی کرائی گئی کہ انڈیجینئس رائیٹس لیگل کمیٹی اور گرین چیمبر کے وکلا کی جانب سے پیش کیے گئے تنقیدی جائزے اور تجاویز کا تفصیلی مطالعہ کیا جائے گا۔

سیپا کے بقول یہ دستاویزات متعلقہ اداروں کو ارسال کی جائیں گی۔ منصوبے پر مزید مشاورت کا عمل جاری رکھا جائے گا اور ماہی گیر کمیونٹی سے براہِ راست رابطہ کر کے ان کے خدشات کو سنا اور حل کیا جائے گا، اس کے بعد ہی منصوبے کی منظوری (Consent) کے عمل کو آگے بڑھایا جائے گا۔

اس موقع پر پورٹ قاسم اتھارٹی کے افسران بھی موجود تھے، جنہوں نے اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ سندھ انڈیجینئس رائیٹس الائینس، انڈیجینئس رائیٹس لیگل کمیٹی اور گرین چیمبر کی مشترکہ ٹیم کی جانب سے اٹھائے گئے تمام خدشات پر نہ صرف غور کیا جائے گا بلکہ ان پر بامعنی مشاورت بھی کی جائے گی۔

سندھ انڈیجینئس رائیٹس الائینس نے مطالبہ کیا کہ منظوری سے قبل حقیقی عوامی سماعت کا انعقاد کیا جائے، محض خانہ پری کے لیے نمائشی سماعت کا ڈھونگ نہ رچایا جائے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ ماہی گیروں اور ساحلی کمیونٹیز کی براہِ راست شمولیت کو یقینی بنایا جائے اور
مینگروز جنگلات کا آزاد اور تفصیلی سروے کیا جائے۔

رہنماؤں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ مٹی ڈالنے کے مقامات کی سائنسی ماڈلنگ کی جائے اور منصوبے بارے نئی اور غیر جانبدار EIA رپورٹ جاری کی جائے۔

سندھ انڈیجینس رائٹس الائنس نے این ڈی ایم ایس NDMS کی جانب سے ماہی گیروں کے نقصان کا ازالہ اور کم از کم 1:10 کے تناسب سے مینگروز شجرکاری کا مطالبہ بھی کیا۔

رہنماؤں کا کہنا تھا کہ جب تک یہ بنیادی نکات پورے نہیں ہوتے، پورٹ قاسم نیویگیشنل چینل اپ گریڈنگ منصوبے کی منظوری نہیں دی جانی چاہیے۔

Tags:

1 to 10 Plantation RatioBuddo IslandBundal IslandChannel Upgradationcivil society activismclimate change impactCoastal CommunitiesCoastal DevelopmentCoastal Ecologycoastal erosionCoastal Protectioncoastal sustainabilityCommunity Exclusioncommunity participationCompensation for FisherfolkConsent ProcessConservation EffortsCorporate influenceDeltaic EcosystemDisplacement RisksDredging ProjectEcological DamageEconomic Development vs EnvironmentEIA ReportEMC Pakistanenvironmental accountabilityenvironmental activismEnvironmental Assessment BiasEnvironmental Concernsenvironmental degradationenvironmental impact assessmentEnvironmental Justiceenvironmental lawEnvironmental Monitoringenvironmental planningEnvironmental Reviewenvironmental safeguardsFisherfolk Rightsfisheries impactFishermen LivelihoodsFishing LivelihoodsGovernance IssuesGreen ChamberHuman RightsIndependent SurveyIndigenous Advocacyindigenous communitiesIndigenous Rights Legal CommitteeIndus DeltaIndustrial InterestsLand Ownership IssuesLegal AdvocacyLivelihood LossLNG Vesselslocal communitiesMangrove destructionmangrove forestsMangrove Surveymarine biodiversityMarine Navigationmarine pollutionMaritime InfrastructureMeaningful Consultationnatural resource managementNatural Sediment FlowNavigational ChannelNDMS CompanyPolicy criticismPolicy TransparencyPort ExpansionPort QasimPort Qasim AuthorityProject ApprovalProject RejectionProtected ForestsProtest and Oppositionpublic consultationPublic HearingPublic Policy DebateRatto Kot AreaReforestation DemandRegulatory Oversightrights-based approachRisk AssessmentScientific ModelingSediment DisposalSEPAShipping Channel Deepeningsindh environmental protection agencySindh Indigenous Rights AllianceSmall Islands RiskSocial ImpactSoil Dumping SitesStakeholder EngagementSustainable Developmentsustainable fisheriesTechnical DocumentationToken HearingTraditional Fishing RoutesTransparency Issues
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Aravali-Karoonjhar-Khirthar-National-Park
Previous

اراولی مزاحمت، کارونجھر جدوجہد اور کھیرتھر پر مسلط خاموشی

Dharmendra
Next

عوامی ہیرو دھرمیندر: ایک تجزیہ (حصہ چہارم)

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme