Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

The-lower-middle-class-of-British-society
کالماہم ترینتازہ ترین

برطانوی معاشرے کا نچلی سطح کا متوسط طبقہ

By Akhtar Rasool
اکتوبر 22, 2024 4 Min Read
0

عہد وسطیٰ میں برطانوی معاشرہ دو طبقوں میں تقسیم تھا۔ جاگیردارانہ یعنی فیوڈل اور عوام۔

عوام میں کسان، مزدور، کاریگر اور چھوٹے دکاندار شامل تھے۔ اس دور میں متوسط طبقے کا کوئی وجود نہیں تھا۔

صنعتی انقلاب نے برطانوی معاشرے کی تشکیل کو بدل ڈالا۔ فیکٹری سسٹم نے ورکنگ کلاس کو پیدا کیا اور اس کے ساتھ ہی ریاست کے دوسرے اداروں میں بھی انتظامی تبدیلیاں آئیں اور ضرورت کے تحت تعلیم یافتہ متوسط طبقے کی ضرورت پیش آئی، لہٰذا معاشرہ دو بڑے طبقوں میں تقسیم ہو گیا۔

ورکنگ کلاس کو ’بلو کالر‘ کہا گیا اور متوسط طبقے کو ’وائٹ کالر‘ کا نام دیا گیا۔

متوسط طبقے میں جو لوگ شامل تھے، ان میں کلرکس، اساتذہ، اکاؤنٹنٹس، سرمایہ دار تاجر، دکاندار اور مختلف فنون کے ماہرین شامل تھے۔

متوسط طبقے اور ورکنگ کلاس میں فرق یہ تھا کہ ورکرز نے ٹریڈ یونینز کو منظم کیا تھا، جو ان کے حقوق کے لیے جدوجہد کرتی تھیں، لیکن متوسط طبقے نے کسی یونین کی بنیاد نہیں ڈالی۔

اس کی وجہ یہ تھی کہ مزدوروں کے مقابلے میں ان کی تعداد کم تھی۔ دوسرا وہ اتھارٹی کے خلاف کوئی تحریک چلانا نہیں چاہتے تھے، اس ڈر سے کہ انہیں ملازمت سے نہ نکال نہ دیا جائے۔

متوسط طبقے کی تشکیل اور اس کے کردار پر جیفری کروسکک کی کتاب ’The Lower Middle Class in Britain‘ ہے، جس میں انہوں نے تفصیل کے ساتھ نچلی سطح کے متوسط طبقے کے کردار کا تجزیہ کیا ہے۔

یہ متوسط طبقہ جن حالات میں تشکیل پایا، اس میں اپنے وجود کو برقرار رکھنا بہت مشکل تھا۔ سیاسی لحاظ سے اس طبقے کے نظریات قدامت پسند تھے۔

یہ معاشرے میں نہ تو کوئی انقلاب چاہتے تھے اور نہ ہی کوئی بڑی تبدیلی۔ حالانکہ انیسویں صدی کا یورپ انقلابوں اور تبدیلیوں سے گزر رہا تھا۔ قدامت پرستی میں یہ اپنے وجود اور اپنی جائیداد کا تحفظ دیکھتے تھے۔

اگرچہ ہندوستان میں اس وقت کئی مذہبی فرقے تھے اور یہ کسی نہ کسی فرقے کے عقیدے کو مانتے تھے۔

اس کی وجہ سے ان میں جو اخلاقی قدریں پیدا ہوئیں، ان میں ایمانداری، دیانت، فرض کی ادائیگی، معاشرے کی پابندی وغیرہ شامل تھیں، جس کی وجہ سے روزمرہ کے معاملات میں کوئی تلخی پیدا نہیں ہوتی تھی۔

متوسط طبقہ اپنے لڑکوں کو اعلیٰ تعلیم کے لیے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں تعلیم کے مواقع دیتا تھا، لیکن ملازمت کے لیے لیاقت اور ذہانت کے ساتھ سفارش کی بھی ضرورت ہوتی تھی۔ لہٰذا جو مراعات یہ ایک مرتبہ حاصل کر لیتے تھے اس کو ہر صورت میں برقرار رکھنا چاہتے تھے۔

متوسط اور ورکنگ کلاس کے درمیان علیحدہ علیحدہ کلچر کی بنیاد پڑی۔ متوسط طبقہ شہر کے مقامات میں تین سے چھ کمروں والے مکان میں رہنا پسند کرتا تھا۔

اس کے معیار کے مطابق گھر میں ملازم کا ہونا بھی ضروری تھا، جو اس کی عزت اور وقار کا باعث تھا۔

عورتیں محنت و مشقت کا کام نہیں کرتی تھیں، کیونکہ اس کا تعلق ورکنگ کلاس سے تھا۔ گھر میں پیانو بھی ہوتا تھا اور اعلیٰ درجے کا فرنیچر۔

اس کے مقابلے میں ورکنگ کلاس کا علاقہ دو کمرے کے مکانوں پر مشتمل ہوتا تھا۔ تنگ گلیاں ہوتی تھیں، تفریح کے مواقع بھی کم ہوتے تھے۔ متوسط طبقے کے علاقے میں دکانوں پر ہر قسم کا مال دستیاب ہوتا تھا، لیکن مزدوروں کے علاقے میں دکاندار وہی اشیا رکھتا تھا جو وہ خریدنے کی طاقت رکھتے تھے۔

متوسط طبقے نے اپنی معاشی خوشحالی، سازگار ماحول اور خوشگوار گھریلو زندگی کی وجہ سے ادب، آرٹ، موسیقی اور دوسرے فنون لطیفہ میں حصہ لیا اور برطانوی کلچر کو ایک نئی توانائی دی۔

طبقاتی تقسیم کی وجہ سے ورکنگ کلاس غربت اور مفلسی میں مبتلا رہی۔ روزی کے لیے انہوں نے محنت و مشقت کی لیکن اس کے باوجود انہیں معاشرے میں وہ سماجی رتبہ نہیں ملا، جس کے یہ مستحق تھے جبکہ متوسط طبقے کو سازگار ماحول ملا، جس کی وجہ سے اس نے برطانوی کلچر میں اضافہ کیا۔

طبقاتی معاشرے کی تاریخ سے اندازہ ہوتا ہے کہ جو جس طبقے میں پیدا ہو جائے اس کے لیے ترقی کے راستے بند ہو جاتے ہیں کیونکہ یہاں ذہانت کے بجائے یہ دیکھا جاتا ہے کہ فرد کا تعلق کس طبقے اور خاندان سے ہے۔

اس لیے بہت کم ایسی مثالیں ہیں کہ کچھ افراد نے انفرادی طور پر نچلی سطح سے ابھر کر اعلیٰ طبقے میں شمولیت حاصل کی ہو۔ برطانوی معاشرے میں اس کی مثالیں بہت کم ہیں، لیکن وہ افراد جن کا تعلق نچلے طبقوں سے تھا اور انہوں نے امریکہ میں جا کر اپنی ذہانت سے اعلیٰ مقام حاصل کیا، اسے Rag to Riches کہتے ہیں۔

پاکستان کا معاشرہ بھی اعلیٰ اور نچلے طبقات میں منقسم ہے۔ ان دونوں طبقات میں فرق بھی ہے اور دوری بھی۔ نچلے طبقے کے افراد کے لیے ذہین ہونے کے باوجود ترقی کرنا مشکل ہوتا ہے، لیکن یہی نوجوان یورپ اور امریکہ میں اپنی لیاقت سے اعلیٰ مقام حاصل کر لیتے ہیں۔

بشکریہ انڈیپینڈنٹ اردو۔

Tags:

Britishbritish classbritish class systembritish culturebritish social classbritish social classesbritish societybritish society explainedbritish society in 19th centurybritish society todaybritish upper classbritish way of lifeclassclass systemgreat british class surveymiddleMiddle Classmiddle class problemsmiddle class ukmiddle classessocial classsocial class in britainSocietyupper classWorking Class
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
The-tragic-story-of-a-man-who-was-the-smartest-person-in-the-world-according-to-the-prevailing-method
Previous

ایک شخص کی المناک کہانی، جو مروجہ طریقے کے مطابق دنیا کا ذہین ترین شخص تھا!

Less-consumption-of-salt-causes-death-What-does-the-new-research-say
Next

نمک کا کم استعمال موت کا باعث۔۔۔!؟ نئی تحقیق کیا کہتی ہے؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme