
امریکہ کے نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر کے ڈائریکٹر جو کینٹ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی پر اختلاف کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس جنگ کی حمایت اپنے ضمیر کے خلاف جا کر نہیں کر سکتے۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کینٹ نے کہا کہ ایران کے خلاف جاری مہم کو وہ درست نہیں سمجھتے اور اس کی تائید کرنا ان کے لیے ممکن نہیں۔
امریکی سینیٹ نے گزشتہ سال جولائی میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ان کی نامزدگی کی منظوری دی تھی، جس کے بعد انہوں نے یہ ذمہ داری سنبھالی تھی۔
صدر ٹرمپ کو لکھے گئے خط میں جو کینٹ نے دعویٰ کیا کہ ایران نے امریکہ کے لیے کوئی فوری خطرہ پیدا نہیں کیا تھا۔ ان کے مطابق یہ جنگ اسرائیل اور واشنگٹن میں موجود اس کے بااثر حلقوں کے دباؤ کے تحت شروع کی گئی۔
انہوں نے لکھا کہ وہ ان اصولوں اور خارجہ پالیسی کی حمایت کرتے رہے ہیں جن پر ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہمات کے دوران زور دیا تھا، خاص طور پر بیرونی جنگوں سے دور رہنے کے وعدے پر۔
کینٹ نے مزید کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کی طویل جنگیں امریکہ کے لیے نقصان دہ ثابت ہوئی ہیں، جنہوں نے نہ صرف انسانی جانوں کا ضیاع کیا بلکہ ملکی وسائل کو بھی کمزور کیا۔
اپنے خط میں انہوں نے بتایا کہ وہ بطور فوجی متعدد بار جنگی محاذوں پر تعینات رہے اور ایک “گولڈ اسٹار” شوہر بھی ہیں، کیونکہ ان کی اہلیہ شینن کینٹ 2019 میں شام میں ایک خودکش دھماکے میں ہلاک ہو گئی تھیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ آئندہ نسل کو ایسی جنگ میں نہیں جھونک سکتے جس کا امریکی عوام کو کوئی واضح فائدہ نہ ہو۔
وائٹ ہاؤس نے کینٹ کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ صدر کے پاس ایسے شواہد موجود تھے جن سے ظاہر ہوتا تھا کہ ایران امریکہ پر حملے کی تیاری کر رہا تھا۔
صدر ٹرمپ نے بھی ان کے بیانات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایران ایک سنگین خطرہ تھا اور دنیا کے بیشتر ممالک اس حقیقت سے آگاہ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کینٹ سکیورٹی معاملات میں کمزور مؤقف رکھتے تھے اور ان کا عہدہ چھوڑنا بہتر ہے۔
جو کینٹ ٹرمپ انتظامیہ کے اندر سے ایران کے خلاف امریکی۔اسرائیلی کارروائی پر کھل کر تنقید کرنے والی نمایاں شخصیات میں شامل ہو گئے ہیں۔
انہوں نے اپنے خط میں یہ بھی الزام لگایا کہ اسرائیلی حکام اور بعض امریکی صحافیوں نے غلط معلومات پھیلائیں، جس کے نتیجے میں صدر کو یہ باور کرایا گیا کہ ایران فوری خطرہ ہے۔
45 سالہ کینٹ امریکی اسپیشل فورسز اور سی آئی اے سے وابستہ رہ چکے ہیں۔ انہوں نے اپنے فوجی کیریئر کے دوران عراق سمیت کئی جنگی علاقوں میں خدمات انجام دیں اور بعد میں انٹیلی جنس کمیونٹی کا حصہ بنے۔
ان کی اہلیہ امریکی نیوی میں کرپٹولوجک ٹیکنیشن تھیں، جو شام میں ایک بم حملے میں ہلاک ہو گئی تھیں۔ اس سانحے کے بعد کینٹ نے سرکاری ملازمت چھوڑ دی تھی، تاہم بعد میں انہیں دوبارہ اہم سکیورٹی عہدے پر تعینات کیا گیا۔




