Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

بورس بیکر جیل میں قیدیوں کو کھیلنا سکھائیں گے

By Akhtar Rasool
جولائی 14, 2022 3 Min Read
0

قید کی سزا کاٹنے والے ٹینس اسٹار بورس بیکر کو جیل میں ساتھی قیدیوں کو کھیل سکھانے کے لیے اسپورٹس سائنس ٹیچر کی نوکری دی گئی ہے

واضح رہے کہ تین بار ومبلڈن کے فاتح رہنے والے بورس کو اپریل میں اپنے اثاثے چھپا کر دیوالیہ ہونے کی شرائط توڑنے کے جرم میں ڈھائی سال قید کی سزا سنائی گئی تھی

اس کے بعد سے وہ آکسفورڈ شائر میں ہینلی آن ٹیمز کے قریب ایچ ایم پی ہنٹر کامبی میں واقع کیٹیگری سی جیل میں اپنی سزا کاٹ رہے ہیں

اب یہ رپورٹس ہیں کہ چون سالہ جرمن کھلاڑی کو کلاس روم اسسٹنٹ بنا دیا گیا ہے جہاں وہ پی ای تھیوری اور ساتھی قیدیوں کو ورزش اور صحت مند خوراک کے فوائد سکھاتے ہیں

لیکن سابق عالمی نمبر ایک اور چھ بار کے گرینڈ سلام چیمپیئن بورس کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہ قیدی کی حیثیت مطلوبہ عرصے تک اس جیل میں نہیں رہے اور اس لیے وہ جیل کے جم میں کام نہیں کر سکتے

برطانوی اخبار دا سن نے جیل کے اندرونی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ’یہ بالکل عیش و آرام کی زندگی نہیں ہے جس کے وہ (بورس) عادی تھے لیکن انہیں زیادہ تر قیدیوں سے بہتر سہولیات میسر ہیں۔‘

اخبار نے اسی اندورنی ذرائع کے دعوے کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا ہے کہ ’جیل میں اس بات پر بہت زیادہ ناراضگی پائی جاتی ہے کہ بورس کو اتنی جلدی یہ کردار سونپ دیا گیا۔ کچھ قیدیوں کے اہل خانہ نے اس بارے میں شکایت بھی درج کرائی ہے۔‘

تاہم جیل سروس کے ترجمان نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ جیل کے گورنر نے بدھ کی صبح انہیں بتایا تھا کہ ان کے پاس اس معاملے پر کسی شکایت کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے

جیل کے ایک ترجمان نے کہا ’یہ کہنا غلط ہوگا کہ کسی کے ساتھ ترجیحی سلوک کیا گیا ہے۔ مجرم جیل میں رہتے ہوئے مختلف قسم کے کام انجام دیتے ہیں اور تعلیم کے مواقع تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں‘

بورس بیکر کو اپریل میں انسولوینسی ایکٹ کے تحت چار الزامات میں قصوروار پایا گیا تھا جن میں ریموول آف پراپرٹی، جائیداد ظاہر کرنے میں ناکامی اور قرض چھپانے کے دو الزامات بھی شامل ہیں

سزا کی معطلی کی درخواست میں بورس بیکر کے وکیل نے استدلال پیس کیا تھا کہ سپورٹنگ سٹار پہلے ہی ’حقیقت میں سب کچھ کھو چکے ہیں‘ لیکن جج ڈیبورا ٹیلر نے کہا کہ بھلے ہی بورس کو شرمندگی محسوس ہوئی ہو لیکن انہوں نے کارروائی کے دوران ’عاجزی کا مظاہرہ نہیں کیا۔‘

جج ٹیلر نے ساؤتھ وارک کراؤن کورٹ کو بتایا کہ رہائی کے لیے غور کیے جانے سے پہلے بورس کو اپنی نصف سزا کاٹنا پڑے گی

لیکن اگلے ہی مہینے دی سن نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی ’ارلی ریموول سکیم‘ کے تحت بورس بیکر کو جرمنی بھیجا جا سکتا ہے

اخبار نے ایک ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: ’وہ بہت پراعتماد ہیں کہ وہ (بورس) کرسمس سے پہلے جرمنی واپس لوٹ جائیں گے۔ ان کا خیال ہے کہ وہ کرسمس تک وہاں سے لائسنس پر آزاد ہو جائیں گے کیونکہ ان (جرمن) کا انصاف کا نظام بہت زیادہ نرم ہے۔‘

اصل میں جنگی قیدیوں جیسے لوگوں کو حراست میں رکھنے کے لیے ایک حراستی کیمپ کے طور پر بنایا گیا ہنٹر کامبی کو دوسری جنگ عظیم کے بعد ایک جیل کے طور پر استعمال کیا گیا تھا اور 1983 تک یہ ایک بورسٹل یعنی نوجوانوں کا حراستی مرکز رہا

2000 سے اسے پندرہ سے اٹھارہ سال کی عمر کے لڑکوں کے لیے جیل کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا اور 2010 کے بعد اسے بالغ کیٹیگری سی کی تربیتی جیل میں تبدیل کیا گیا۔ 2012 سے اس میں صرف غیر ملکی مجرموں کو رکھا جاتا ہے

دسمبر 2020 میں کی گئی تازہ ترین انسپیکشن میں، جس کی رپورٹ پچھلے سال شائع ہوئی تھی، اس جیل کو ’اچھی قیادت والی اور ترقی پسند‘ جیل قرار دیا گیا تھا

ابتدائی نتائج میں کہا گیا تھا کہ یہ ’محفوظ، مہذب اور بامقصد‘ جیل ہے جس میں بہتر لائبریری اور ایک جم شامل ہیں حالانکہ حال ہی میں یہاں موجود آلات کو ’خستہ حال‘ قرار دیا گیا ہے جسے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

Tags:

Boris BeckerGerman Tennis Starteach prisoners
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

حیدرآباد: ہوٹل پر جھگڑے میں ایک شخص کی ہلاکت کے بعد کشیدگی، 3 افراد زخمی

Next

سکھر: سی ایس ایس کی مفت تیاری کروانے والے استاد

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme