Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںعالمی

بھارت: اسکول پر ہرا رنگ کرنے کے ’جرم‘ میں ہیڈ ماسٹر معطل

By Akhtar Rasool
مئی 7, 2022 3 Min Read
0

بھارت کی شمالی ریاست اترپردیش کے ضلع حمیرپور میں سرکاری حکام نے ایک ہندو ہیڈ ماسٹر کو اسکول کی عمارت پر ہرا رنگ کروا کر اسے شکل و صورت میں ’مدرسے جیسا بنانے کے جرم‘ میں معطل کر دیا

تفصیلات کے مطابق ضلع حمیرپور کی تحصیل سریلا کے بھیڑی ڈانڈا نامی گاؤں میں تعمیر کی جانے والی پرائمری اسکول کی عمارت پر حال ہی میں ہیڈ ماسٹر برجیش گوتھم نے ہرا رنگ کروایا تھا

گذشتہ روز جب کچھ مقامی افراد نے اس پر اعتراض کیا تو حکام نے نہ صرف ہیڈ ماسٹر کو معطل کر دیا بلکہ عمارت پر ہرے کی جگہ سفید رنگ کروا دیا

واقعے کے حوالے سے بھارت کے مختلف شہروں سے شائع ہونے والے ہندی اخبار ’دینک جاگرن‘ نے لکھا ہے کہ ’ہیڈ ماسٹر برجیش گوتھم نے حال ہی میں اسکول کی عمارت کو ہرے رنگ سے پینٹ کروایا تھا۔ اسکول کی عمارت کو ہرا دیکھ کر گاؤں کے کچھ لوگوں نے شدید اعتراض ظاہر کیا۔ انہوں نے ہیڈ ماسٹر پر سازش کے تحت اسکول کو مدرسے جیسا بنانے کا الزام لگایا۔ ساتھ ہی لوگوں (ہندوؤں) کو مذہبی رسومات سے دور رہنے پر اکسانے کا بھی الزام لگایا“

رپورٹ کے مطابق ضلع مجسٹریٹ حمیرپور ڈاکٹر چندر بھوشن ترپاٹھی کی طرف سے تحقیقات کے احکامات جاری ہونے کے بعد بیسک شکشا ادھیکاری کلپنا جیسوال نے مذکورہ ہیڈ ماسٹر کو معطل کر دیا، نیز اسکول کی عمارت پر سفید رنگ کروا دیا

اخبار نے گاؤں کے کچھ مکینوں کے حوالے سے الزام عائد کیا کہ ’اسکول میں تعینات ہیڈ ماسٹر برجیش گوتھم ایک مخصوص نظریے سے متاثر ہیں اور وہ لوگوں کو مذہبی عقائد و رسومات سے دور رہنے کے مشورے دیتے رہتے ہیں۔

’انہوں نے جان بوجھ کر اسکول کو ہرا رنگ کروا کر مدرسے کی شکل دینے کی گھناؤنی کوشش کی ہے جو کہ غلط ہے۔‘

انگریزی اخبار ’ٹائمز آف انڈیا‘ نے لکھا کہ بھیڑی ڈانڈا گاؤں کے مکینوں نے پیر کے روز اسکول کی عمارت کو ہرا رنگ میں دیکھ کر ہنگامہ کھڑا کر دیا

اس نے مظاہرین کے حوالے سے لکھا: ’ہیڈ ماسٹر نے جان بوجھ اس پر ہرا رنگ کروایا۔ اب یہ ایک مدرسہ نظر آ رہا ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ اس پر سفید رنگ کروایا جائے‘

واضح رہے کہ بھارتی سیاست میں مذہبی منافرت کے بڑھتے ہوئے استعمال کی وجہ سے ہرے رنگ کو مسلمانوں یا پاکستان اور بھگوا یا زعفرانی رنگ کو ہندوؤں سے منسوب کیا جا رہا ہے

چوں کہ اتر پردیش کی کمان ہمہ وقت بھگوا لباس میں ملبوس رہنے والے سخت گیر ہندو نظریات کے حامل بی جے پی رہنما یوگی آدتیہ ناتھ کے ہاتھوں میں ہے، لہٰذا یہاں ’ہرے اور بھگوا رنگوں کا کھیل‘ زیادہ ہی چلتا ہے

دہلی یونیورسٹی کے شعبہ سیاسیات کے سابق پروفیسر اور کئی کتابوں کے مصنف ڈاکٹر شمس الاسلام کہتے ہیں کہ کسی رنگ کو کسی مخصوص مذہب کے ساتھ جوڑنا ٹھیک نہیں

”ہرا رنگ خوشحالی کی نشانی ہے۔ اگر انہیں ہرے رنگ سے اتنی ہی دشمنی ہے تو انہیں تمام درخت اور پیڑ پودے کٹوانے پڑیں گے۔ ملک کو ریگستان بنانا پڑے گا جو وہ بنانا چاہ رہے ہیں۔ بھارت کے ترنگے سے ہرا رنگ ہٹانا پڑے گا“

ڈاکٹر شمس الاسلام کا کہنا تھا کہ ”یہ لوگوں سے نہیں کہیں گے کہ تلسی اور پیپل کے پتے، جن کو ہم پوجتے ہیں، وہ بھی ہرے ہوتے ہیں۔ یہ نہیں کہیں گے کہ جب تک ہرا رنگ ہے، تب تک یہ دنیا باقی ہے۔“

ڈاکٹر شمس الاسلام نے بتایا کہ اسی اتر پردیش میں ایک نجی اسکول کی مسلمان خاتون پرنسپل پر اس وجہ سے مقدمہ درج کیا گیا کہ انہوں نے طلبہ کو ’عید کے کپڑوں‘ میں ویڈیو ریکارڈ کرنے کو کہا تھا

’الہ آباد کے ایک نجی اسکول کی پرنسپل ڈاکٹر بشریٰ مصطفیٰ نے طلبہ کو غیر نصابی سرگرمی کے طور پر عید کے کپڑوں میں عید کی مبارک بادی کی وڈیوز ریکارڈ کرنے کو کہا تھا

’اس بنا پر ان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔ وہ دیوالی اور ہولی کے تہواروں کے موقعوں پر بھی بچوں کو وڈیوز ریکارڈ کرنے کو کہتی تھیں لیکن تب کسی نے اعتراض نہیں کیا۔‘

نیوز پورٹل ’مسلم مرر ڈاٹ کام‘ کے ایڈیٹر سید زبیر احمد کہتے ہیں ”ایسی کارروائیاں بی جے پی کے سیاسی ایجنڈے کا حصہ ہیں“

Tags:

Hindu StateIndiaIndian Muslims
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

پاس ورڈ کا عالمی دن: ایپل، گوگل اور مائیکروسوفٹ کا بغیر پاس ورڈ لاگ ان ٹیکنالوجی پر اتفاق

Next

جنوبی وزیرستان میں ممکنہ آپریشن، قبائلیوں نے انخلا سے انکار کر دیا

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme