Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتاریختازہ ترینخبریں

بھارت: غاروں میں قائم پہلی صدی قبل مسیح کی درس گاہوں کی کہانی

By Akhtar Rasool
اگست 3, 2022 5 Min Read
0

بھارتی ریاست اڑیسہ کے جڑواں پہاڑوں ادے گیری اور کھنڈا گیری میں واقع غاروں کے آثار قدیمہ ہیں، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ پہلی صدی قبل مسیح کی درس گاہیں تھیں

ادے گیری اور کھنڈا گیری میں ان آثار قدیمہ کی تاریخی معلومات سیاحوں تک پہنچانے والے ایک مقامی گائیڈ سبھاش چندر پردھان بتاتے ہیں ”ان کی تعمیر جنگ کلنگا کے بعد ہوئی۔ اس وقت یہاں جین مذہب کے پیروکار موریا سلطنت کے راجہ اشوک سے چھپنے کے لیے آباد ہوئے“

واضح رہے کہ جنگ کلنگا موریا سلطنت اور کلنگا سلطنت کے درمیان پہلی صدی قبل مسیح کے زمانے میں لڑی گئی تھی، جس کے بعد راجہ کلنگا نے جین مذہب اور اشوک نے بدھ مت اختیار کر لیا تھا۔ جنگ سے پہلے دونوں کا مذہب ایک ہی تھا

سبھاش کے مطابق ”ان غاروں کا بنیادی مقصد جنگ کے دوران چھپنا تھا مگر بعد میں انہیں درس و تدریس کے لیے استعمال کیا جانے لگا“

اڑیسہ کی مقامی کہانیوں میں اس بات کا ذکر یوں کیا گیا ہے کہ صدیوں پہلے یہ دو پہاڑ ایک ہی تھے، لیکن پھر ایک بڑے زلزلے نے دونوں کو الگ کر دیا جس سے غار بھی الگ الگ ہو گئے

سبھاش کہتے ہیں ”ادے گیری اور کھنڈا گیری نام کے یہ دو پہاڑ زلزلے سے پہلے ایک تھے۔ ادے کا مطلب عروج اور گری کا مطلب پہاڑی۔ اس لیے اسے ادے گیری کہتے ہیں۔ کھنڈا کا مطلب میٹھا۔ اس لیے اسے سویٹ ہل بھی کہتے ہیں“

آثار قدیمہ کے حوالے سے سبھاش کا کہنا تھا ”یہ ایک یک سنگی ڈھانچہ ہے۔ یہ بھارت کا پہلا مونو لیتھک اسٹرکچر ہے، جبکہ دوسرا الورا اجنتا ہے“

اڑیسہ کے ان غاروں میں کئی اقسام کے نقوش بنے ہوئے ہیں۔ سبھاش کے مطابق یہ نقوش ان غاروں میں مراقبے کے لیے بیٹھنے والے جین مذہب کے بھکشوؤں کی طرف نشاندہی کرتے ہیں

وہ بتاتے ہیں ”یہاں غاروں میں کئی نقوش ہیں۔ جین مذہب کے مذہبی پیشوا اور مبلغ کے نقوش بھی یہاں ہیں۔ ہر پیشوا کی نشانی بھی ہے۔ رشوناتھ سے لے کر مہاویر چوبیس پیشواؤں کی مورتیاں بھی ہیں“

”جین مذہب کے ایک پیشوا رشو کی علامت آدی ناتھ یعنی گائے کی سواری اور پیشوا مہاویر کی علامت شیر ہے، جو یہاں غاروں میں بنی ہوئی ہے“

سبھاش نے بتایا کہ یہاں باقی جین مبلغوں کی علامتیں بھی ہیں، جو یہاں کے غاروں میں موجود ہیں

اڑیسہ کے ان غاروں کے آثار قدیمہ سے ماضی کے دھندلکوں میں جھانکا جا سکتا ہے۔ سبھاش کے مطابق یہ آثار بتاتے ہیں کہ کلنگا سلطنت کتنی ترقی یافتہ تھی

’یہاں سب سے پہلا غار رانی غار ہے۔ یہ 10 منزلہ تھا جو اب دو منزلہ بچا ہے۔ آٹھ منزلیں زلزلے میں گر گئیں۔ اس میں ہاتھی غار بھی ہے۔‘

سبھاش کے مطابق یہاں بھارت کے سب سے طاقت ور راجہ کلنگا کی نشانی ہے۔ پالی زبان۔ برہمنی سکرپٹ۔ کلنگا کی شہری اور فوجی ترقی کی نشانیاں ہیں۔ شانتی مایتری اور پریتی لکھا ہے۔ وہاں سواستک بھی ہے جو رحم دلی معافی اور امن سے عبارت ہے۔‘

سبھاش نے قبل مسیح کے زمانے میں غاروں میں پائی جانے والی سہولیات پر بات کرتے ہوئے کہا ’ ان غاروں میں سیوریج سسٹم بھی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ یہاں پانی کی ترسیل تھی۔ ٹھنڈے پانی کا بندوبست تھا۔ پانی کے ذریعے پیغام رسانی اور مواصلات کا بندوبست بھی تھا۔ ان کے پاس ٹیکنالوجی تھی ہمارے پاس کچھ نہیں۔‘

جنگ کلنگا کیوں ہوئی؟

دراصل تقریباً ڈیڑھ سو قبل مسیح میں شہنشاہ کھار بیل نے، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ باختر کے ڈیمیٹریس اول کا ہم عصر تھا، موجودہ بھارت کا ایک بڑا حصہ فتح کر لیا

کھار بیل ایک جین حکمران تھا۔ اس نے ادے گیری پہاڑی کے اوپر مٹھ (خانقاہوں کے مساوی) تعمیر کی۔ تاریخی دستاویزات میں درج ہے کہ کورکھشیتر کی جنگ سے سالہا سال قبل کلنگا ایک با اختیار ریاست تھی

اس وقت سلطنت کلنگا ہندوستان کی عظیم قوتوں میں شمار ہوتی تھی۔ میگھا واہانا، جسے چیدی خاندان کہا جاتا ہے، کے راجا کھار بیل کے عہد میں تقریباً پہلی یا دوسری صدی قبل مسیح یہ غار بنائے گئے تھے

یہ وہ عہد تھا، جب ریاست کلنگا کو سمندری تجارت کی وجہ سے مقامی رسم و رواج میں ناپاک مانا جاتا تھا۔ مورخین کا ماننا ہے کہ خود مختار کلنگا کی بحری تجارت کی وجہ سے موریہ سلطنت کو سیاسی اور تجارتی خطرات لاحق ہوئے

ان خطرات کے پیش نظر راجہ اشوک نے جنگ عظیم چھیڑی تھی اور قتل و غارت کی ایک داستان رقم کردی، جس سے شرمندہ ہو کر اشوک نے ہندو دھرم چھوڑ کر بدھ مذہب اختیار کر لیا

پہلی صدی قبل مسیح میں چیدی شاہی خاندان نے کلنگا پر حکمرانی شروع کی۔ اس خاندان کے تیسرے حکمراں کھار بیل تھے جن کا شمار اس وقت کے عظیم ترین حکمرانوں میں کیا جاتا ہے اور حفیظ اللہ نوال پوری (مؤرخ) نے انہیں روم کے بادشاہ جولیس سیزر کا ہم عصر قراردیا ہے

کھار بیل کے عہد میں یہ غار بنے تھے۔ غاروں کے فن تعمیر سے چیدی عہد کی طرز تعمیر اور مہارت کا پتہ چلتا ہے

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ شیشوپال گڑھ (موجودہ ریاست کا ایک علاقہ) کی کھدائی جو مسٹر بی بی لال کی نگرانی میں 1984 میں ہوئی۔ اس میں یہاں سے چیدی خاندان کے عہد کے ایسے نایاب جنگی ہتھیار ملے ہیں جسے صرف رومی فوج استعمال کرتی تھی

مؤرخین کہتے ہیں کہ اس امر سے چیدی حکمرانوں کے بین الاقوامی تعلقات کا پتہ چلتا ہے۔ کھار بیل نے بھی اپنے پیش رؤوں کے مطابق سلطنت کو مضبوط کرنے کی کوشش کی

کھاربیل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ پیدائشی جینی تھا اور اشوک کی طرح اس نے کوئی دوسرا مذہب اختیار نہیں کیا۔ جین مذہب کی اشاعت کے لیے کھاربیل نے مندروں کی تعمیر کے علاوہ پہاڑ وں کو کٹوا کرغار بنوائے

یہ دونوں پہاڑ، جو کہ پہلے ایک تھے، ہندوستان کی مشرقی ساحل پر واقع اڈیشہ کی راجدھانی بھوبنیشور سے تقریباً سات کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہیں اور سال بھر سیاحوں کی نگاہِ ستائش و حیرت کا مرکز بنے رہتے ہیں

ان غاروں کو پہلی مرتبہ انیسویں صدی عیسوی میں برطانوی افسر انڈریو سٹرلنگ نے دریافت کیا تھا

اڑیسہ کے آثار قدیمہ کی اہمیت

جین کی مذہبی روایتوں میں ادے گیری اور کھنڈا گیری کی باقیات کی بہت اہمیت ہے۔ یہ دونوں مراکز اب حکومت ہند کے محکمہ آثار قدیمہ کے ماتحت آتے ہیں

آثار قدیمہ کی ویب سائٹ کے مطابق ان غاروں کو بنانے کی وجہ جینی بھکشوؤں کو مراقبہ گاہیں فراہم کرنا تھا، جسے بعد میں جین مذہب کی تعلیم کے لیے بطور درس گاہ استعمال کیا گیا

محکمے کے نوٹس میں لکھا ہے کہ رتنا گیری اور کھنڈا گیری میں پہلے ایک سو سترہ غاریں تھیں، جو زلزلے اور زمانے کی دست و برد کے بعد صرف 33 بچی ہیں

سب سے اہم غار

ادے گیری میں اٹھارہ غار ہیں، جس میں سب سے اہمیت کی حامل رانی غار ہے۔ اس غار میں بتیس کمرے ہیں۔ اس میں لالا تین دوکیسری کی رانی رہتی تھیں۔ اس غار میں راجا کھاربیل کی فتوحات کی منظر کشی دیواروں پر کندہ کی گئی ہے

اس کے علاوہ گنیش گپھا ہے، جس میں گنیش (ہاتھی کی شکل والا ہندو بھگوان) کی تصویر ہے۔ اسی کے ساتھ ہاتھی غار ہے جس میں راجا کھاربیل کی جنگ کی روداد تصویروں کی شکل میں ملتی ہے۔ اس کے علاوہ اٹھارہ سطروں کی ایک جینی منتر بھی تحریر ہے

انہی اہم غاروں میں ایک باگھ (شیر) غار ہے جس کا بیرون شیر کے سر جیسا ہے۔ اسی کے ساتھ کھنڈا گیری میں پندرہ غار ہیں، جس میں درگا (ہندو دیوی) کی ایک تصویر ہے۔

Tags:

Ancient IndiaCave SchoolsCavesOld Schools
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

سکھر کے تیراک، جو جان خطرے میں ڈال کر بیراج کے گہرے پانی سے لاشیں نکالتے ہیں

Next

اگر ملک دیوالیہ ہو جائے تو بینکوں میں موجود رقوم کا کیا بنے گا؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme