Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںعالمی

بھارت: مسلمان خواتین کی آن لائن نیلامی.. ”بُلی بائی اسکینڈل“ کیا ہے؟

By Akhtar Rasool
جنوری 8, 2022 4 Min Read
0

نئی دہلی – دہلی پولیس نے بھارتی مسلمان خواتین کی ’بُلی بائی‘ ایپ پر آن لائن ’نیلامی‘ کے لیے نیرج بشنوئی نامی بیس سالہ طالب علم کو اس سازش کا مرکزی ملزم نامزد کرتے ہوئے گرفتار کر لیا ہے

جمعرات کو عمل میں لائی گئی یہ گرفتاری اس کیس کے سلسلے میں ممبئی پولیس کی جانب سے بھی تین دیگر افراد کو حراست میں لیے جانے کے چند دن بعد سامنے آئی

’بُلی بائی‘ ایپ ہے کیا؟

نئے سال کے آغاز پر بھارت میں صحافی، سماجی کارکن اور دیگر اہم شخصیات سمیت سینکڑوں مسلم خواتین نے ُبُلی بائی‘ نامی ایک نئی ایپ پر اپنی تصاویر اور ان کے بارے میں توہین آمیز مواد دریافت کیا

یہی نہیں بلکہ ہوسٹنگ پلیٹ فارم ’گٹ ہب‘ پر بنائی گئی اس ایپ پر مسلم خواتین کو آن لائن ’نیلامی‘ کے لیے بھی پیش کیا گیا

اس ایپ کا نام بھی ’بُلی بائی‘ فقرے سے اخذ کیا گیا ہے، جو بھارت میں مسلم خواتین کے لیے استعمال ہونے والی توہین آمیز اصطلاح ہے

ایپ کو کھولنے والے صارفین کو خواتین کی زیادہ تر ایڈیٹ کی گئی تصاویر دکھائی گئیں اور انہیں ’یور بُلی بائی آف دا ڈے‘ ٹیگ لائن کے ساتھ پیش کیا گیا

چند ماہ کے دوران ایسی دوسری ایپ

یہ ایپ واضح طور پر آن لائن ٹرولنگ کی ایک مثال ہے، جس میں کوئی حقیقی لین دین شامل نہیں ہے اور یہ دوسری بار ہے کہ بھارت میں اس طرح کی ایپ صرف چھ ماہ کے عرصے میں سامنے آئی ہے

اس سے قبل گذشتہ سال جولائی میں بھی اسی طرح کی ایک ایپ ’سُلی ڈیلز‘ منظر عام پر آئی تھی۔ سُلی ڈیلز کی ہوسٹنگ بھی گٹ ہب پلیٹ فارم پر ہی کی گئی تھی

بُلی بائی ایپ کی طرح سُلی ڈیلز میں بھی سینکڑوں ممتاز مسلم خواتین کی تصاویر پیش کی گئیں اور انہیں ’نیلامی‘ کے لیے پیش کیا گیا

اس ایپ کو کھولنے والے صارفین کو بھی خواتین کی تصاویر دکھائی گئیں، جس میں ایک بلکل ایسی ہی ٹیگ لائن تھی یعنی ’یور سُلی ڈیل آف دی ڈے۔‘‘

سُلی ڈیلز کیس میں آج تک کوئی گرفتاری نہیں ہوئی، حالانکہ ایپ کو بعد میں گٹ ہب نے ہٹا دیا تھا

اس کے بعد گٹ ہب نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’ہم نے اس طرح کی سرگرمیوں کے حوالے سے رپورٹس کی تحقیقات کے بعد صارف کے اکاؤنٹس کو معطل کر دیا۔ یہ سب ہماری پالیسیوں کی خلاف ورزی تھی۔‘

قبل ازیں دہلی پولیس کے ذرائع نے کہا تھا کہ وہ سُلی ڈیل کیس میں ’بنیادی سازشی کرداروں‘ کو تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں

ذرائع نے پہلے کہا تھا کہ حکام کیلیفورنیا میں قائم گٹ ہب پلیٹ فارم سے سُلی ڈیلز کے تخلیق کاروں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے میوچل لیگل اسسٹنس ٹریٹی (MLAT) کا استعمال کر رہے ہیں

سوشل میڈیا پر ردعمل

ہفتے کو ”بُلّی بائی“ ایپ پر تصاویر منظر عام پر آنے کے فوراً بعد بہت سی خواتین نے ٹوئٹر پر کہا کہ ”سلی ڈیلز“ کیس میں پولیس کی جانب سے کوئی کارروائی عمل میں نہ لانے کی وجہ سے ایسی ہی ’آن لائن نیلامی‘ پھر سے ہو رہی ہے

خواتین نے کہا کہ یہ ایپ دائیں بازو کی ہندو قوم پرست نریندر مودی حکومت کے دوران ملک میں بڑھتے ہوئے منقسم ماحول میں سوشل میڈیا پر انہیں ہراساں کیے جانے والی مہم کا حصہ ہے

صحافی عصمت آرا، جن کی شکایت پر دہلی پولیس نے گذشتہ ہفتے ایف آئی آر درج کی تھی، کا کہنا ہے کہ ’ایسا پہلی بار نہیں ہوا۔ مسلم خواتین کے ساتھ بار بار ایسا ہو رہا ہے اور یہ ایسے مسائل کو اجاگر کرتا ہے، جن کے بارے میں لوگ بات نہیں کرنا چاہتے۔‘

ٹوئٹر پر سامنے آنے والے غم و غصے کے بعد بھارت کے وفاقی وزیر اطلاعات و ٹیکنالوجی اشونی وشنو نے کہا کہ اس معاملے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور گٹ ہب سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اس میں ملوث صارفین کو بلاک کر دے

بھارتی حکومت کو حزب اختلاف کی جماعتوں کے ردعمل کا بھی سامنا کرنا پڑا، جنہوں نے کہا کہ پولیس اور حکومت کی جانب سے کارروائی نہ کیے جانے سے مسلمان خواتین کو آن لائن نشانہ بنانے کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے

کیس میں چار گرفتاریاں

بھارت کی وفاقی وزارت داخلہ کے زیر کنٹرول دہلی پولیس کو جہاں دونوں معاملات میں فوری کارروائی نہ کرنے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا وہیں ممبئی میں پولیس نے اس معاملے میں تین افراد کو گرفتار کیا ہے

پیر کو ممبئی پولیس نے بنگلور سے تعلق رکھنے والے انجینئرنگ کے طالب علم اکیس سالہ وشال جھا کو گرفتار کیا تھا

پولیس نے ایک دن بعد شمالی ریاست اتراکھنڈ سے انیس سالہ شویتا سنگھ کو گرفتار کیا اور ایک اور مشتبہ شخص میانک راوت کو بدھ کو گرفتار کیا گیا

اکیس سالہ راوت دہلی یونیورسٹی کے طالب علم ہیں جن کا تعلق بھی اتراکھنڈ سے ہے

جمعرات کو دہلی پولیس نے بتایا کہ بشنوئی کو شمال مشرقی ریاست آسام سے گرفتار کیا گیا ہے، جو اس معاملے میں ’بنیادی سازش کردار‘ تھے

دہلی پولیس کے خصوصی سائبر سیل یونٹ کے ایک اعلیٰ افسر کے پی ایس ملہوترا کا کہنا ہے کہ خصوصی سیل نے گٹ ہب پر بُلی بائی ایپ بنانے والے مرکزی سازش کار کو گرفتار کیا ہے۔ اس گرفتاری کے ساتھ متنازع بلی بائی ایپ کیس مکمل طور پر حل ہو گیا ہے.

Tags:

Bully AppBully By appBully IndiaIndia
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

کرپٹو کرنسی کی آڑ میں پاکستانیوں کے ساتھ اربوں روپے کے فراڈ کا انکشاف

Next

یوریا کھاد کے بحران نے حکومت کی اہلیت کی قلعی کھول دی

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme