Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںعالمی

بھارت نے مسلمانوں کو مظلوم اقلیت میں تبدیل کردیا ہے، نوم چومسکی

By Akhtar Rasool
فروری 13, 2022 4 Min Read
0

واشنگٹن – معروف اسکالر پروفیسر نوم چومسکی نے کہا ہے کہ بھارت میں اسلامو فوبیا انتہائی مہلک اور خطرناک شکل اختیار کر چکا ہے جہاں پچیس کروڑ بھارتی مسلمانوں کو مظلوم اقلیت میں تبدیل کر دیا گیا ہے

اے پی پی کی رپورٹ کے مطابق معروف مصنف اور سماجی رہنما اور میسیچیوسیٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں پروفیسر ایمریٹس نوم چومسکی نے واشنگٹن میں قائم بھارتی امریکی مسلمانوں کی وکالت کرنے والی تنظیم انڈین امریکن مسلم کونسل (آئی اے ایم سی) کے منعقدہ ویبنار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلامو فوبیا کے رجحان میں جہاں پورے مغرب میں اضافہ ہو رہا ہے، وہیں بھارت میں یہ اپنی مہلک ترین شکل اختیار کر رہا ہے“

نوم چومسکی کے ساتھ ساتھ دیگر کئی ماہرین اور سماجی رہنماؤں نے بھارت میں نفرت انگیز تقاریر اور جرائم کی بدتر ہوتے حالات سے متعلق ویبنار میں حصہ لیا

اس موقع پر نوم چومسکی کا کہنا تھا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی دائیں بازو کی ہندو قوم پرست حکومت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جرائم میں تیزی سے اضافہ کیا ہے

ان کا کہنا تھا ”کشمیر میں ہونے والے جرائم کی ایک طویل تاریخ ہے اور جموں و کشمیر کی ریاست اب ایک ۔وحشیانہ طور پر مقبوضہ علاقہ ہے اور اس کا فوجی کنٹرول متعدد طریقوں سے مقبوضہ فلسطین سےملتا جلتا ہے“

نوم چومسکی نے کہا کہ جنوبی ایشیا کی صورتحال اس حوالے سے دردناک ہے کہ وہاں انسانی حقوق، بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور تشدد کو فروغ دیا جارہا ہے، تاہم جنوبی ایشیا کے مصائب اور مشکلات فوری حل کرنے کی امید اور مواقع موجود ہیں، جن سے فوری طور پر فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے

اس موقع پر بھارتی مصنف اناپرنا مینن نے عالمی برادری پر زور دیا کہ بھارت میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت میں آزادی صحافت کی صورتحال تشویش کا باعث ہے، جس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے

اناپرنا مینن کا کہنا تھا کہ بھارت میں صحافیوں خاص طور پر خواتین صحافیوں کو ہراساں، غیر قانونی طور پر گرفتار، پولیس کی جانب سے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور انہیں بغاوت کے الزاما ت کا سامنا ہے جبکہ 2022ع میں اب تک چار صحافیوں کو قتل کیا جا چکا ہے

انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں حالات اس سے بھی زیادہ خطرناک ہیں، جہاں بھارت کی حکمراں جماعت بی جے پی کی موجودہ میڈیا پالیسی کے تحت صحافیوں کو روزانہ پولیس کی جانب سے پوچھ گچھ کا سامنا ہے، رپورٹنگ پر پابندی، انٹرنیٹ سروسز کی معطلی اور مالی پابندیوں کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے

انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی پولیس کی جانب سے نہ صرف صحافت کے خلاف کریک ڈاؤن میں اضافہ ہوا ہے بلکہ سری نگر کی فوٹوجرنلسٹ مسرت زہرا کے خاندان کو ہراساں اور دھمکیاں دی جارہی ہیں

اناپرنا مینن نے کہا کہ میگزین دا کشمیر والا کے بانی اور ایڈیٹر مشہور کشمیری صحافی فہد شاہ کو بھارتی پولیس کی جانب سے حال ہی میں پلوامہ میں دہشت گردی اور بغاوت کے قوانین کے تحت گرفتار کیا گیا ہے، اسی طرح رواں ماہ کے آغاز میں کشمیری صحافی سجاد گل کو بھی گرفتار کیا جاچکا ہے

ہیومن رائٹس واچ کے ایشیا ایڈووکیسی ڈائریکٹر جان سفٹن نے کہا کہ بھارتی حکومت کی طرف سے اقلیتوں کی قیمت پر ہندو مذہب کی تشہیر بھارتی آئین کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے

انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی حکومت اور اس سے وابستہ ارکان انتخابات میں ہندو ووٹرز کی حمایت حاصل کرنے کے لیے مسلمانوں کے خلاف نفرت پر مبنی بیانات دے رہے ہیں

ان کا کہنا تھا کہ بھارتی حکومت نے اقلیتوں خاص طور پر بھارتی مسلمانوں کو منظم طور پر نشانہ بنانے کے لیے سٹیزن شپ ایکٹ کا نفاذ کیا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز فیس بک، یوٹیوب اور ٹک ٹاک بھی نفرت کا پھیلاؤ روکنے میں ناکام ہو گئے ہیں

انہوں نے کہا کہ امریکی کانگریس بھارت میں انسانی حقوق اور اقلیتوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق بھارتی حکومت کو اپنی تشویش سے آگاہ کرے اور انسانی حقوق کے احترام کے لیے بھارتی حکومت پر دباؤ ڈالے

اس موقع پر بھارت کے سابق سرکاری ملازم اور انسانی حقوق کے کارکن ہرش مندیر نے کہا کہ مہاتما گاندھی نے عدم تشدد کے اصولوں کو برقرار رکھا جبکہ اس وقت بھارتی رہنما ہندو بالادستی کے نظریے کو فروغ دے رہے ہیں

ہرش مندیر کا کہنا تھا کہ بھارتی حکمراں جماعت بی جے پی کے دور اقتدار میں نفرت پر مبنی جرائم میں ہزار گنا اضافہ ہوا ہے، بی جے پی اقلیتوں کے خلاف جرائم کے حوالے سے بدنام ہے یہاں تک کہ مدر ٹریسا کی بھی توہین کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کومتعصب، غیر محب وطن، جہادی اور ظالم کے طور پرغلط انداز میں پیش کیا گیا ہے اور وزیر اعظم مودی بھی نفرت پھیلانے والوں کی پیروی کرتے ہیں اور وہ ان کی مذمت کرنے سے انکاری ہیں

ہرش مندیر نے کہا ”کشمیر وہ خطہ جہاں دنیا میں سب سے زیادہ فوجی تعینات ہیں.“

Tags:

IndiaIndian MuslimsNoam Chomsky
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

مبینہ توہین مذہب: خانیوال میں ہجوم کے ہاتھوں ایک شخص ہلاک

Next

”قیدی کی واپسی پر پولیس اہلکار بازیاب“ لاڑکانہ جیل میں کشیدگی کی وجہ کیا ہے؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme