Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

بیس روپے کے لیے بائیس سال تک مقدمہ لڑنے والے چھیاسٹھ سالہ شخص کی کہانی

By Akhtar Rasool
اگست 12, 2022 3 Min Read
0

ایک بھارتی شہری نے محکمہِ ریلوے کے خلاف ایک ایسا مقدمہ جیت لیا ہے، جس کا آغاز بائیس سال قبل اس وجہ سے ہوا کہ ان سے کرائے کی مد میں ٹکٹ کے بیس روپے اضافی وصول کیے گئے تھے

تنگناتھ چترویدی، جو پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں، سے 1999ع میں دو ٹکٹوں کے لیے بیس روپے اضافی وصول کیے گئے تھے

یہ واقعہ بھارت کی شمالی ریاست اتر پردیش میں متھورا ریلوے اسٹیشن پر پیش آیا تھا

گذشتہ ہفتے ایک مقامی کنزیومر کورٹ (صارف عدالت) نے تنگناتھ چترویدی کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے بھارتی ریلوے کو حکم دیا کہ ان کو بیس روپے سود سمیت واپس ادا کیے جائیں

”لیکن اس توانائی اور وقت کی کوئی قیمت نہیں، جو میں نے یہ کیس لڑنے میں صرف کی“ یہ کہنا ہے بائیس سال میں سو سے زیادہ پیشیاں بھگت کر مقدمہ جیتنے والے چھیاسٹھ سالہ تنگناتھ چترویدی کا

یہ 1999 کی بات ہے، جب اتر پردیش کے رہائشی، تنگناتھ چترویدی متھورا سے مراد آباد تک کا سفر کر رہے تھے

انہوں نے ٹکٹ بکنگ کلرک سے دو ٹکٹ خریدے۔ ایک ٹکٹ کی قیمت 35 روپے تھی۔انیوں نے کلرک کو 100 روپے دیے، جس نے ان کو صرف 10 روپے واپس کیے، یعنی 70 روپے کی جگہ 90 روپے کی کٹوتی کی

تنگناتھ چترویدی نے جب کلرک کو بتایا کہ اس نے زیادہ پیسے کاٹے ہیں، تب بھی ان کو کلرک نے بقایا بیس روپے واپس نہیں دیے

یہی وہ لمحہ تھا، جب تنگناتھ چترویدی نے فیصلہ کیا کہ وہ نارتھ ایسٹ ریلوے (گورکھ پور) اور بکنگ کلرک کے خلاف متھورا کی صارف عدالت میں مقدمہ کریں گے

وہ بتاتے ہیں ”مجھے اس کیس میں کئی سال اس لیے لگے کیوں کہ بھارت میں عدالتی نظام بہت سست رفتاری سے کام کرتا ہے“

چترویدی کا کہنا ہے ”ریلوے نے بہت کوشش کی کہ کیس خارج ہو جائے، یہ بھی کہا کہ ریلوے کے خلاف شکایت ریلوے ٹریبونل میں کی جاتی ہے، صارف عدالت نہیں سن سکتی“

واضح رہے کہ بھارت میں ریلوے ٹریبونل ایک نیم عدالتی نظام ہے، جو ٹرین کے سفر سے متعلق معاملات دیکھتا ہے

چترویدی کہتے ہیں ”ہم نے 2021ع کے سپریم کورٹ کے ایک فیصلے سے ثابت کیا کہ یہ معاملہ صارف عدالت میں سنا جا سکتا ہے“

انہوں نے بتایا کہ اکثر مقدمے کی سماعت اس لیے تاخیر کا شکار ہو جاتی تھی، کیونکہ جج چھٹی پر ہوتے تھے

اس طویل قانونی جنگ کے بعد عدالت نے حکم دیا کہ ریلوے ان کو پندرہ ہزار روپے جرمانہ ادا کرے۔ عدالت نے ساتھ یہ حکم بھی سنایا کہ ریلوے چترویدی سے لیے جانے والے اضافی بیس روپے ان کو سالانہ بارہ فیصد سود سمیت واپس کرے

عدالتی حکم کے مطابق اگر یہ جرمانہ تیس دن کے اندر ادا نہیں کیا گیا تو سود کا ریٹ بڑھا کر پندرہ فیصد کر دیا جائے گا

چترویدی کہتے ہیں ”مجھے جو معاوضہ دیا جا رہا ہے وہ نہایت معمولی ہے اور یہ اس ذہنی تکلیف کا ازالہ نہیں کر سکتا، جس کا سامنا مجھے اس کیس کی وجہ سے کرنا پڑا“

ان کے خاندان نے بہت کوشش کی کہ وہ اس مقدمے کو چھوڑ دیں، جو ان کے مطابق وقت کا ضیاع تھا، لیکن چترویدی یہ کیس لڑتے رہے

وہ کہتے ہیں ”پیسے کی بات نہیں ہے۔ یہ انصاف کی لڑائی تھی، کرپشن کے خلاف لڑائی تھی، اس چیز کی کوئی قیمت نہیں ہوتی“

انہوں نے کہا ”اور کیوں کہ میں خود بھی وکیل ہوں، مجھے کسی وکیل کو پیسے نہیں دینے تھے یا عدالت تک سفر کرنے کا الگ سے کوئی خرچہ نہیں تھا۔ ان خرچوں سے یہ معاملہ مہنگا ہو جاتا“

تنگناتھ چترویدی کہتے ہیں ”کسی فرد کا کوئی بھی عہدہ کیوں نہ ہو، اگر عام لوگ ان سے سوال کرنے کے لیے تیار ہیں تو کوئی بھی غلط کام کر کے بچ نہیں سکتا۔۔ مجھے یقین ہے کہ یہ مقدمہ دوسروں کے لیے ایک مثال بنے گا کہ اگر لڑائی مشکل بھی ہو تو ہمت ہارنے کی ضرورت نہیں“

Tags:

Case of CourtIndiaIndian RailwayStory of CaseStory of Court
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

بلوچستان میں مختلف علاقوں میں اب بھی متاثرین کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور

Next

لاہور کی ہوا میں میتھین گیس کی مقدار میں پریشان کن حد تک اضافہ

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme