Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینتعلیم و صحتخبریں

بی اے کی ڈگری مکمل کرنے میں چون برس لگانے والے شخص کی کہانی: ”میری بیٹی کہتی ہے کہ اب مجھے ایم اے کرنا چاہیے“

By Akhtar Rasool
مئی 27, 2023 4 Min Read
0

یہ کہانی ہے ایک ایسے شخص کی، جسے اپنی گریجویشن مکمل کرنے میں نصف صدی سے زیادہ عرصہ لگا۔۔ جی ہاں! پورے چون برس۔۔

کینیڈا میں اپنی پڑھائی شروع کرنے کے لگ بھگ نصف صدی بعد آرتھر راس گذشتہ دنوں یونیورسٹی آف برٹس کولمبیا (یو بی سی) کے سٹیج پر پہنچے جہاں انھیں بیچلرز آف آرٹس (بی اے) کی ڈگری سے نوازا گیا

71 سال کے آرتھر راس وینکوور کی یونیورسٹی سے فارغ التحصیل قرار پانے والے ’سب سے سُست‘ طالبعلم سمجھے جا رہے ہیں۔ انہیں بی اے کی ڈگری مکمل کرنے میں 54 برس لگے اور خیال ہے کہ یہ عالمی ریکارڈ ہو سکتا ہے

وہ ممکنہ طور پر گینیز ورلڈ ریکارڈ ہولڈر رابرٹ کرونن کو شکست دے سکتے ہیں، جنھوں نے اپنی ڈگری باون برس میں مکمل کی تھی۔ انھوں نے پرنسٹن یونیورسٹی میں بیالوجی کی ڈگری کے لیے سنہ 1948ع میں داخلہ لیا تھا اور سنہ 2000ع میں فارغ التحصیل ہوئے تھے

تاہم آرتھر راس کہتے ہیں ”مجھے عالمی ریکارڈ کا اعزاز حاصل کرنے میں کوئی جلدی نہیں۔ اصل انعام وہ علم ہے، جو میں نے یونیورسٹی میں حاصل کیا۔“

انہوں نے کہا ”میں بس سیکھنا چاہتا تھا کیونکہ مجھے بہت تجسس تھا۔ سیکھنے کی خواہش نے ہی مجھے اتنے سال بعد ڈگری مکمل کرنے کے لیے آمادہ رکھا“

مسٹر راس نے سنہ 1969ع میں یونیورسٹی آف برٹس کولمبیا میں داخلہ لیا تھا۔ یہ وہی سال تھا جب امریکہ نے اپنا پہلا شہری چاند پر اُتارا تھا اور معروف بینڈ ’دی بیٹلز‘ اپنی البم ’ایبے روڈ‘ ریلیز کرنے ہی والے تھے

ہائی اسکول سے نکلنے کے بعد اُن کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اب آگے کیا کرنا چاہیے۔ راس نے کیمپس پر تھیٹر کلب میں شمولیت اختیار کی اور ان پر اداکاری کا جنون سوار ہو گیا

یونیورسٹی آف برٹس کولمبیا میں صرف دو سال گزارنے کے بعد راس نے کیریئر بدلنا چاہا۔ وہ مانٹریل چلے گئے جہاں انھوں نے نیشنل تھیٹر سکول میں پڑھنا شروع کر دیا

وہاں انہوں نے اپنی تعلیم ضرور مکمل کی، جس کے بعد انھیں کارکردگی کا سرٹیفیکیٹ دیا گیا۔ اس کے بعد راس کو احساس ہوا کہ وہ دراصل اداکار بننا نہیں چاہتے

وہ کہتے ہیں ”میں نے سوچا شاید مجھے لا اسکول جا کر وکیل بننا چاہیے۔۔ یہ ہر اس شخص کے لیے آخری راستہ ہوتا ہے، جسے سمجھ نہیں آ رہی ہوتی کہ آگے کیا کرنا ہے“

راس واپس یونیورسٹی آف برٹس کولمبیا گئے اور وہاں تین سال پورے کیے، جو کہ لا اسکول میں داخلے کی شرط تھی۔ ان کا داخلہ یونیورسٹی آف ٹورنٹو کے لا سکول میں ہوا جہاں انھوں نے جیورس ڈاکٹر کی ڈگری حاصل کی

انھوں نے پینتیس سال پر محیط وکالت کے کامیاب کیریئر کے بعد سنہ 2016 میں ریٹائرمنٹ لے لی

یہ وہ لمحہ تھا، جب راس نے فیصلہ کیا کہ انھیں وہ کام مکمل کرنا ہے جو انھوں نے قریب پانچ دہائیاں قبل شروع کیا تھا۔ ’یہ ہمیشہ سے میرے ذہن میں تھا کہ شاید کسی دن میں واپس یونیورسٹی جاؤں گا اور اپنی ڈگری مکمل کروں گا۔‘

راس نے اپنی رفتار اپنے مطابق ہی رکھی اور گریجویشن تک ایک وقت میں صرف ایک کورس پر دھیان دیا

انھوں نے پہلی عالمی جنگ پر مبنی 1909 کا ایک جرمن اوپرا دیکھنے کے بعد تاریخ کے موضوع پر توجہ دینا شروع کر دی۔ ’یہ وقت کا ضیاع نہیں جب آپ ایک وقت میں ایک چیز پڑھیں جس میں آپ کی دلچسپی پیدا ہوتی ہے۔ مجھے ایک موقع پیش کیا گیا اور میں نے اس کا بھرپور لطف حاصل کیا ہے۔‘

جب راس اتنے سال بعد یونیورسٹی آف برٹس کولمبیا واپس آئے تو بہت سی چیزیں بدل چکی تھیں جیسے کیمپس بڑا ہو گیا تھا اور ریٹائر ہونے کی وجہ سے ان کی یونیورسٹی ٹیوشن فیس مفت تھی۔

ٹیکنالوجی بھی کافی آگے جا چکی تھی جس کی مدد سے کووڈ-19 کی عالمی وبا کے دوران انھوں نے کچھ کلاسز آن لائن حاصل کیں

راس کہتے ہیں کہ اس تجربے نے انھیں یونیورسٹی آف برٹس کولمبیا کے اساتذہ اور ساتھی طلبہ نے بہت متاثر کیا جو عالمی وبا کی مشکلات اور رکاوٹوں کے باوجود پڑھائی میں مگن رہے

وہ کہتے ہیں کہ ’اس نے انھیں نقصان پہنچایا مگر انھوں نے اپنا کردار ظاہر کر کے کہا ’ٹھیک ہے، ہمیں اب چیزیں مختلف انداز میں کرنا ہوں گی‘

چھ سال تک ڈگری پر محنت کرنے کے بعد راس بڑے جذبے سے اسٹیج پر گئے اور اپنی کامیابی قبول کی

وہ کہتے ہیں ’میں اپنے سب بچوں کی گریجویشن کی تقریبات میں جا چکا ہوں۔‘ اب ان کے خاندان کی باری ہے کہ وہ ان کے ساتھ جشن منائیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ آگے کیا کرنے کا سوچ رہے ہیں، تو مسٹر راس نے کہا کہ وہ کسی جلدی میں نہیں بلکہ اطمینان سے اس کا فیصلہ کریں گے

”میری بیٹی کہتی ہیں کہ اب مجھے کہیں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرنی چاہیے۔ لیکن میں صبر کر کے مزید دیکھنا چاہتا ہوں۔ اتنی دور آ کر مجھے بہت خوشی ہوئی ہے۔“

Tags:

#emotional storyamazing storycenter of gravitygreat wall of china (tourist attraction)how to get on to ma illustrationhow to succeed in lifei wish someone told me this 20 years agoinspiring storylife storyoriginal storyreal storyshape of my heartshow me the meaning of being lonelysomebody that i use to knowsomebody that i used to knowstory timetop crypto to buy nowtop stocks to buy nowtrue life storytrue story
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

برطانیہ کا ورچوئل ریئلٹی اسکول جہاں ’آپ دل کے اندر سفر کر سکتے ہیں‘

Next

خبردار! چینی کی جگہ مصنوعی مٹھاس آپ کی زندگی میں زہر گھول سکتی ہے۔۔

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme