ہنستی ہوئی میم سے دسویں کے امتحان تک: سڑکوں پر لکھی گئی ایک انوکھی تعلیم کی کہانی
رات کے کسی پچھلے پہر، ہائی وے پر دوڑتے ایک مال بردار ٹرک کے اندر زرد بلب کی مدھم روشنی جل رہی تھی۔ باہر سڑک خاموش تھی، صرف انجن کی مسلسل گرج سنائی دے رہی تھی۔ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا ایک تھکا ہوا آدمی اسٹیئرنگ سنبھالے ہوئے تھا، جبکہ اس کے برابر والی نشست…
دلی کی سیر
’’اچھی بہن ہمیں بھی تو آنے دو‘‘ یہ آواز دالان میں سے آئی اور ساتھ ہی ایک لڑکی کرتے کے دامن سے ہاتھ پونچھتی ہوئی کمرے میں داخل ہوئی۔ ملکہ بیگم ہی پہلی تھیں جو اپنی سب ملنے والیوں میں پہلے پہل ریل میں بیٹھی تھیں۔۔ اور وہ بھی فرید آباد سے چل کر دہلی…
گورمکھ سنگھ کی وصیت
پہلے چھرا بھونکنے کی اکا دکا واردات ہوتی تھیں، اب دونوں فریقوں میں باقاعدہ لڑائی کی خبریں آنے لگیں، جن میں چاقو چھریوں کے علاوہ کرپانیں، تلواریں اور بندوقیں عام استعمال کی جاتی تھیں۔ کبھی کبھی دیسی ساخت کے بم پھٹنے کی اطلاع بھی ملتی تھی۔ امرتسر میں قریب…
کراچی کے میوزیم میں رکھے چاند کے ٹکڑے کی کہانی
چاند کی خوبصورتی پر بہت شاعری کی گئی ہے۔ ہمارے ہاں کسی کی خوبصورتی کی تعریف کرنی ہو تو اکثر اسے ’چاند کا ٹکڑا‘ کہا جاتا ہے۔۔ لیکن اگر آپ کو واقعی چاند کا ٹکڑا دیکھنا ہے تو آپ کراچی میوزیم میں اسے دیکھ سکتے ہیں، جس کے بعد امید ہے کہ آپ کسی کے…
بی اے کی ڈگری مکمل کرنے میں چون برس لگانے والے شخص کی کہانی: ”میری بیٹی کہتی ہے کہ اب مجھے ایم اے کرنا چاہیے“
یہ کہانی ہے ایک ایسے شخص کی، جسے اپنی گریجویشن مکمل کرنے میں نصف صدی سے زیادہ عرصہ لگا۔۔ جی ہاں! پورے چون برس۔۔ کینیڈا میں اپنی پڑھائی شروع کرنے کے لگ بھگ نصف صدی بعد آرتھر راس گذشتہ دنوں یونیورسٹی آف برٹس کولمبیا (یو بی سی) کے سٹیج پر پہنچے جہاں انھیں…
فرے منریک: ایک پرتگیز پادری کی سفرِ سندھ کی کتھا (دوسرا حصہ)
یہ 21 اگست 1641ء بدھ کے دن کے ابتدائی پہر ہیں۔ بارش کا موسم اس برس تھوڑی بارشوں کے ساتھ آیا اور اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے۔ رات کے وجود میں ہلکی سی نمی اور ٹھنڈک ہے۔ شاہی قلعے کے شمال میں راوی کنارے بندرگاہ پر چہل پہل ہے۔ بہت سارے جہاز جانے کی…