Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینتعلیم و صحتخبریں

تاریخ میں پہلی بار ہوا سے انسانی ڈی این اے حاصل کرنے کا کامیاب تجربہ

By Akhtar Rasool
اپریل 7, 2021 2 Min Read
0

کوئن میری یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے فضا کے اطراف سے انسانوں اور جانوروں کا ڈی این اے کشید کرنے کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ اس محتاط عمل میں چونکہ اطراف کی ہوا اور ماحول سے ڈی این اے نکالا جاتا ہے، اسے انوائرمینٹل ڈی این اے یا مختصراً ’ای ڈی این اے‘ کا نام دیا گیا ہے

یونیورسٹی کی سالماتی ایکولوجسٹ ڈاکٹر ایلزبتھ کلیئر کا کہنا ہے اس طرح ہم پانی، مٹی اور دیگر مقامات سے بھی ڈی این اے اخذ کر سکتے ہیں، جس کے بہت سے استعمالات بھی ہیں۔ ان کے مطابق  کسی بھی تالاب یا دریائی حصے میں ڈی این اے کی آزمائش سے وہاں موجود مچھلیوں کی اقسام معلوم کی جا سکتی ہیں

اگرچہ اس سے قبل مٹی اور پانی سے مختلف انواع اور اقسام کے جانوروں کے ڈی این اے نکالے گئے ہیں، لیکن ہوا کے لیے ای ڈی این اے کی آزمائش نہیں کی گئی تھی۔ اس ضمن میں کوئن میری یونیورسٹی کی تحقیق دنیا میں اپنی نوعیت کا پہلا کام ہے

اس مقصد کے لیے انہوں نے ایک قسم کے بے بال نابینا چوہوں (نیکڈ مول ریٹس) کو ایک کمرہ نما فارم میں ایک برس تک رکھا، تاہم اس میں سائنسدانوں کی آمدورفت جاری رہی تھی۔ یہاں ہوا کے فلٹر بھی لگے تھے جس سے ہوا کے نمونے جمع کیے گئے اور مرکزی کمرے کے اندر سے بھی ہوا کے نمونے حاصل کیے گئے۔ چونکہ یہ چوہے لمبے بلوں میں رہتے ہیں، اس لیے ایک بل پر لگائے فلٹر سے بھی ہوا جمع کی گئی

دلچسپ بات یہ ہے کہ سرنگ نما بل کی ہوا اور خود کمرے کی ہوا میں چوہوں کے ڈی این اے نوٹ کیے گئے اور اس طرح ہوا سے ڈی این اے نکالنے کا پہلا کامیاب تجربہ دنیا میں رپورٹ ہو گیا

غیر متوقع طور پر ہوا کے اندر انسانی ڈی این اے بھی دیکھا گیا اور یہ ایک حیرت انگیز امر ہے۔ ماہرین پہلے اسے ایک طرح کی آلودگی قرار دیتے رہے، لیکن اصل میں یہ تحقیق کا ایک نیا دور بھی ہے

لیکن ذرا سوچیے کہ اگر کسی بند کمرے سے انسانی ڈی این اے نکالا جائے، تو جرم اور واقعات کی تحقیق کو ایک نیا رخ مل سکے گا۔ اس طرح ماضی کے راز افشا کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ اس طرح قدیم ڈی این اے کی شناخت اور دیگر پہلوؤں سے آثارِ قدیمہ اور بشریات کے علم میں بھی مدد ملے گی

ڈاکٹر ایلزبتھ اس سے قبل جوہڑ اور تالاب میں ڈی این اے کی نشاندہی اور درجہ بندی پر خاصا کام کر چکی تھیں۔ اسی تجربے نے انہیں ہوا سے ڈی این اے کے اخراج پر مائل کیا۔ اس کے لیے انہوں نے خاص فلٹر بنائے اور ڈی این اے جمع کرنے والا ایک نظام ترتیب دیا.

Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

بلوچستان: صحت عامہ کی صورت حال اور کرپشن کا جال

Next

پاکستان ایک زرعی ملک: درآمدی گندم 2400 روپے من اور اپنے کسان سے 1800 روپے!

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme