Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

ترکیہ اور شام میں تباہ کن زلزلے کے ایک ماہ بعد صورتحال کیسی ہے؟

By Akhtar Rasool
مارچ 7, 2023 4 Min Read
0

6 فروری کو جنوبی ترکیہ اور شمالی شام کو کئی زلزلوں نے ہلا کر رکھ دیا تھا۔ ان دونوں ممالک میں ہونے والی انسانی، سیاسی اور سماجی تباہی بہت حد تک ناقابل بیان ہے

ہولناک زلزلے کی وجہ سے اس خطے میں کم از کم پچاس ہزار افراد ہلاک جبکہ لاکھوں اپنے گھروں سے محروم ہو چکے ہیں۔ تخمینوں کے مطابق دو لاکھ چودہ ہزار سے زائد عمارتیں منہدم ہو چکی ہیں یا انہیں جزوی نقصان پہنچا ہے۔ لاکھوں لوگوں کو فوری امداد کی اب بھی اشد ضرورت ہے

ہزاروں انسانی جانوں اور املاک کے نقصانات ترکیہ کے گیارہ صوبوں تک پھیلے ہوئے ہیں۔ زلزلے کے ایک ماہ بعد وہاں مرنے والوں کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے، کیونکہ متعدد متاثرین کی شناخت ہونا ابھی باقی ہے۔ بہت سے لوگوں کو ابھی تک سرکاری طور پر بطور مردہ رجسٹر نہیں کیا گیا کیونکہ زندہ بچ جانے والے اپنے رشتہ داروں کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں

زلزلے کے فوری بعد زندہ بچ جانے والوں کا غم غصے سے جڑا ہوا تھا۔ لوگوں نے سوال کرنا شروع کر دیا تھا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ اتنی عمارتیں، جو کہ زلزلہ پروف سمجھی جاتی تھیں، بڑی حد تک منہدم ہو گئیں

متعدد کیسز میں سامنے آیا کہ دراصل تعمیراتی کمپنیوں نے بلڈنگ سیفٹی کوڈز پر عمل ہی نہیں کیا۔ ابھی تک تقریباً ایک ہزار لوگوں پر باضابطہ طور پر شک ہے کہ انہوں نے تعمیراتی ضوابط کی خلاف ورزی کی ہے۔ اس سلسلے میں حکومت نے کم از کم 235 افراد کو گرفتار کیا ہے، 330 کی عدالتی حکم کے مطابق نگرانی کی جا رہی ہے اور چار ٹھیکیدار مقدمے سے پہلے حراست میں ہیں

یونیسیف کے مطابق زلزلے سے تقریباً پچاس لاکھ بچے متاثر ہوئے ہیں۔ یکم مارچ کو ترکیہ کی خاندانی و سماجی خدمات کی وزارت نے کہا تھا کہ کھنڈرات سے بچائے گئے انیس سو سے زائد بچوں میں سے پندرہ سو سے زائد کو ان کے اہل خانہ تک پہنچا دیا گیا ہے۔ تقریباً ایک سو بچے خود وزارت کی دیکھ بھال میں ہیں اور اکیاسی کی شناخت ہونا ابھی باقی ہے

چند ماہ بعد ترکیہ میں صدارتی اور پارلیمانی انتخابات بھی ہونے والے ہیں، لیکن تاحال یہ بھی واضح نہیں ہے کہ زلزلے سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے شہروں میں ووٹنگ کیسے ہوگی

ایک تجویز یہ سامنے آئی ہے کہ زلزلہ زدہ علاقوں کے ووٹر صدارتی ووٹ کے لیے دوسرے شہروں میں اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکیں گے لیکن پارلیمانی انتخابات کے لیے ایسا نہیں ہو سکے گا

دوسری جانب ترکیہ پہلے ہی معاشی مشکلات سے دوچار تھا اور اب اسے تعمیرِ نو کا مشکل مرحلہ بھی درپیش ہے۔ ورلڈ بینک نے حساب لگایا ہے کہ زلزلے سے کم از کم 34.2 بلین ڈالر کا مادی نقصان ہوا ہے۔ ترکیہ کے شماریاتی دفتر کے مطابق زلزلہ زدہ علاقوں کے گیارہ اہم شہروں میں تقریباً چودہ ملین افراد رہائش پذیر ہیں۔ ان علاقوں کی معیشت زراعت اور مویشی پالنے کے ساتھ ساتھ ٹیکسٹائل، اسٹیل اور توانائی پر مبنی ہے اور یہ ملکی جی ڈی پی کا تقریباً 9.8 فیصد بنتی ہے

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ تباہی بہت سی مصنوعات اور خدمات کی مانگ میں اضافے کا باعث بنے گی، جس کے نتیجے میں افراطِ زر بھی بڑھے گا، جو پہلے ہی زیادہ ہے۔ ماہر معاشیات مورات کوبیلے کے مطابق انہیں خدشہ ہے کہ 2023ء کے آخر تک افراط زر کم از کم بھی پچاس فی صد تک پہنچ جائے گی

دوسری جانب شمالی شام میں 6 فروری کو آنے والا زلزلہ ایک ایسے علاقے کے لیے تازہ ترین دھچکا تھا، جو پہلے ہی بارہ سال سے جاری خانہ جنگی سے تباہ ہو چکا تھا۔ تباہی کے ہفتوں بعد بھی شامی علاقوں سے بہت کم معلومات سامنے آئی ہیں، جبکہ وہاں بہت سے لوگ برسوں کی لڑائی کے بعد غیر محفوظ ماحول میں رہ رہے ہیں

اقوام متحدہ نے اندازہ لگایا ہے کہ وہاں بھی زلزلے سے تقریباً 8.8 ملین افراد متاثر ہوئے ہیں، جن میں سے بہت سے لوگ اب بے گھر ہیں۔ سرکاری طور پر شام میں تقریباً چھ ہزار اموات کی اطلاع ہے لیکن اصل تعداد شاید اس سے کہیں زیادہ ہے

بین الاقوامی سرحدیں بند ہونے کی وجہ سے بہت سے شامیوں کو زلزلے کے بعد ابتدائی چند دنوں میں تو کوئی مدد ہی نہیں مل سکی۔ اگرچہ اب شام میں امداد بھیجی جا رہی ہے لیکن شامی حکومت کی نااہلی کی بنا پر وہ متاثرہ لوگوں تک نہیں پہنچ رہی ہے۔ زلزلہ زدہ علاقے کے بڑے حصے حکومت کے مکمل کنٹرول میں نہیں ہیں

ادلب شہر مؤثر طور پر باغیوں کا آخری گڑھ ہے اور وہاں بیس لاکھ سے زیادہ لوگ آباد ہیں۔ بنیادی طور پر یہ شہر اسلامی ملیشیا کے کنٹرول میں ہے۔ مبصرین نے کہا ہے کہ شامی حکومت کی جانب سے سرکاری امداد وہاں تک نہیں بھیجی جا رہی۔ زلزلے سے پہلے ہی شمال مغربی شام میں 1.8 ملین کے قریب بے گھر افراد عارضی خیموں اور پناہ گاہوں میں رہ رہے تھے۔

Tags:

earthquakeearthquake in syriaearthquake in turkeyearthquake turkeyearthquake turkey 2023Syriasyria earthquakesyria turkey earthquakeTurkeyturkey earthquaketurkey earthquake 2023turkey earthquake damageturkey earthquake footageturkey earthquake footage 2023turkey earthquake newsturkey earthquake nowturkey earthquake updateturkey earthquake videoturkey earthquakesturkey syria earthquaketurkey syria earthquake one month later
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

’دھماکے سے متعلق سچ بولنا مہنگا پڑا‘، کے پی کے برطرف اہلکار کیا کہتے ہیں؟

Next

اہلیہ کے ساتھ تنازع، نواز الدین صدیقی نے خاموشی توڑ دی

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme