Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

تین لاکھ سال قبل انسان برفانی دور سے کیسے بچا؟

By Akhtar Rasool
جنوری 7, 2023 3 Min Read
0

تازہ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ تین لاکھ سال سے زیادہ عرصہ قبل شمالی یورپ میں رہنے والے انسان سخت سردی میں زندہ رہنے کے لیے ریچھ کی کھال استعمال کیا کرتے تھے

حال ہی میں جرنل آف ہیومن ایوولوشن نامی جریدے میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں جرمنی کے علاقے ’لوئر سیکسنی‘ میں ’شوننگن‘ کے آثارِ قدیمہ کے مقام سے ملنے والی ہڈیوں پر نشانات کا جائزہ لیا گیا اور پتھر کے زمانے کے مقام پر دریافت شدہ غاروں میں رہنے والے ریچھ کے پیر اور انگلیوں کی ہڈیوں کی باقیات پر زخم کے نشانات پائے گئے

محققین، جن میں جرمنی کی یونیورسٹی آف ٹیوبنگن کے افراد بھی شامل ہیں، کا کہنا ہے کہ نئی دریافتیں دنیا میں ان ابتدائی انسانی آبا و اجداد سے حاصل ہونے والے اس قسم کے قدیم ترین شواہد میں سے ایک ہیں، جو اس وقت تک جدید لوگوں جیسی جسمانی خصوصیات کے مالک نہیں تھے

ٹوبنگن یونیورسٹی کے محقق آئیو وریجن نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ”نئے دریافت ہونے والے کٹ کے یہ نشانات بتاتے ہیں کہ تقریباً تین لاکھ سال پہلے شمالی یورپ میں لوگ ریچھ کی گرم کھالوں کی بدولت موسم سرما میں زندہ رہنے کے قابل تھے“

اس سے قبل ہونے والی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ موسم سرما کے کوٹ، خاص طور پر معدوم ہو جانے والے غار میں رہنے والے ریچھوں کے، لمبے بیرونی بالوں (جو ایک ہوا دار حفاظتی تہہ بناتے ہیں) اور چھوٹے گھنے دونوں قسم کے بالوں سے بنے ہوتے ہیں، جو سردیوں میں غیر فعال رہنے کے دوران انتہائی گرم ہوتے ہیں

آثارِ قدیمہ میں ہڈیوں پر موجود کٹ کے نشانات کو عام طور پر گوشت کے استعمال کی علامت کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ ہاتھ اور پیر کی ہڈیوں پر گوشت مشکل سے ہی پایا گیا

ٹوبنگن کی یونیورسٹی کے محقق کے مطابق ”اس کیس میں ہم کٹ کے باریک اور معیّن نشانات کو احتیاط کے ساتھ کھال اتارنے کے عمل سے منسوب کر سکتے ہیں“

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ پتھر کے قدیم زمانے کا مقام ابتدائی انسانوں اور تب سے شکار کے آغاز کو سمجھنے میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے کیونکہ ’دنیا کے قدیم ترین نیزے یہیں سے دریافت ہوئے‘

عام طور پر جب آثار قدیمہ کے کسی مقام سے صرف بالغ جانور ہی ملتے ہیں، تو ماہرینِ آثارِ قدیمہ اسے شکار کا ممکنہ ثبوت سمجھتے ہیں، اور شوننگن کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ ریچھ کی تمام ہڈیاں اور دانت بالغ جانوروں کے ہیں

ان کا کہنا ہے کہ ریچھ کی کھال کو اس کی موت کے فوراً بعد اتار لینا ضروری ہے کیونکہ اس کے بعد بال جھڑ جاتے ہیں اور کھال ناقابل استعمال ہو جاتی ہے

وریجن کے بقول ”چونکہ جانور کی کھال اتار لی گئی، اس لیے وہ اس لمحے تک زیادہ دیر سے مردہ نہ ہو سکتا تھا“

ریچھوں پر پڑے نشانات کا مقام بھی اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ان جانوروں کا ان کی کھالوں کے لیے استحصال کیا گیا۔ سائنسدانوں کا مزید کہنا ہے کہ ایسا ممکنہ طور پر ابتدائی انسانوں کی شمال کی آب و ہوا کے ساتھ کلیدی موافقت کے لیے کیا گیا

ان کا کہنا ہے کہ ریچھ کے ان نمونوں پر کٹ کے بہت باریک نشانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ کھال اتارنے میں بڑی صفائی کا مظاہرہ کیا گیا۔ ان نشانات کی پتھر کے دور کے دوسرے مقامات پر کھال اتارنے کے عمل سے مماثلت ہے

تحقیق کے ایک مصنف نکلس کونارڈ کہتے ہیں ”لہٰذا ان جانوروں کو خوراک کے طور پر استعمال نہیں کیا گیا بلکہ ان کی کھالیں سردی میں زندہ رہنے کے لیے ضروری تھیں“

سائنسدانوں نے تحقیق میں لکھا ہے ”ریچھ کی کھال بہت گرم ہوتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اس نے برفانی دور کے وسط کے انسانوں کو شمال مغربی یورپ کے شدید موسم سرما میں زندہ رہنے کے قابل بنایا ہو“

Tags:

000 years ago30 thousand years oldall of earth's climate changes since the beginningancient humansclimate change ice agecould humans survive another ice agehow did humans survive the ice agehow to survive in ice ageHuman Evolutionhumans survive ice ageICEice agejourney to ice agelife in ice ageother human speciesstone agethe stone agewas the ice age caused by climate changewhat earth was like millions of years ago
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

اسپین میں تارکین وطن سے بہترین نوکری کے وعدے کر کے کھیتوں میں مشقت لینے کا انکشاف

Next

”ہیری! آپ نے جنہیں قتل کیا وہ شطرنج کے مہرے نہیں، انسان تھے“ انس حقانی

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme