بحیرہ قطب شمالی کی لگ بھگ ساری برف 2027 تک پگھل سکتی ہے۔۔ اگر ایسا ہوا تو کیا ہوگا؟
بحیرہ قطب شمالی کی سمندری برف (Arctic Sea Ice) سمندر کے پانی سے بننے والی برف ہے جو قطب شمالی کے علاقے میں سطح پر جم جاتی ہے۔ یہ برف سمندری پانی کے سرد درجہ حرارت کے باعث بنتی ہے اور سال بھر مختلف مقدار میں موجود رہتی ہے، موسم گرما میں یہ کم ہو…
اینٹارکٹیکا برف کا پگھلاؤ۔۔ کیا عالمی سمندری نظام درہم برہم ہونے والا ہے؟
ایک نئی تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ اینٹارکٹیکا کے گرد موجود برف کا پگھلاؤ 2050ع تک بڑے سمندروں کی کرنٹ (پانی کے بہاؤ) کو سست رفتار کر دے گا۔ ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایسا ہونے سے عالمی آب و ہوا، سمندری نظام، سمندری خوراک کے سلسلے اور یہاں تک کہ برف…
انٹارکٹک کی برف میں ریکارڈ کمی، جنوری یورپ کے لیے بھی گرم مہینہ رہا
سائنسدانوں نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انٹارکٹک اوقیانوس کا علاقہ، جہاں ہزاروں برسوں سے برف کی موٹی تہیں موجود ہیں، گلوبل وارمنگ کی وجہ سے وہاں کی برف تیزی سے پگھل رہی ہے اور جنوری کے مہینے میں وہاں موجود برف کی تہہ، جب…
تین لاکھ سال قبل انسان برفانی دور سے کیسے بچا؟
تازہ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ تین لاکھ سال سے زیادہ عرصہ قبل شمالی یورپ میں رہنے والے انسان سخت سردی میں زندہ رہنے کے لیے ریچھ کی کھال استعمال کیا کرتے تھے حال ہی میں جرنل آف ہیومن ایوولوشن نامی جریدے میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں جرمنی کے علاقے ’لوئر…
برفانی جھیل پر ٹکے پتھروں کا معما حل ہوگیا
پیرس : فطرت اپنے سینے میں عجب راز اور اسرار سموئے ہوئے ہے، جو انسان کو بعض اوقات دنگ کر دیتے ہیں ایسا ہی ایک اسرار سائبیریا کے علاقے میں بعض منجمند جھیلوں پر خاص انداز میں متوازن رہنے والے پتھر بھی ہیں، جن کے نیچے پانی خاص نوکدار شکل اختیار کر کے پتھر کو…