Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینکالم

جانسن اور برنارڈ کی بکواس

By Akhtar Rasool
دسمبر 25, 2022 5 Min Read
0

معروف برطانوی عالم اور سیاستدان سیموئل جانسن سے یہ قول منسوب ہے کہ ”حب الوطنی بدمعاشوں کی آخری پناہ گاہ ہے۔‘‘ بیسویں صدی میں جارج برنارڈ شا نے مبینہ طور پر اس فقرے میں ترمیم کی کہ ”سیاست بدمعاشوں کی آخری پناہ گاہ ہے‘‘

اگر مذکورہ اقوال کو من و عن لے لیا جائے تو دونوں مؤقر اصحاب کی دماغی صحت پر شبہ بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن سیموئل جانسن یا برنارڈ شا کے علمی و ادبی قد کاٹھ کو دیکھا جائے تو پھر انہیں شک کا فائدہ دینا پڑے گا

فی زمانہ حب الوطنی جیسے لطیف جذبے کو ذاتی، گروہی، نسلی و نظریاتی مفادات آگے بڑھانے کے لیے جس بے دردی سے استعمال کیا جا رہا ہے اور حب الوطنی کے پردے میں ہر طرح کی جنونیت عام کر کے حریفوں کو جیسے نشانے پر رکھا جا رہا ہے

سیاست کے ہنر کو جس طرح بھانت بھانت کی مافیائیں اپنا اثر و رسوخ اندھا دھند بڑھانے کے لیے پورے پورے سماجی ڈھانچوں کو بے سدھ کر کے یرغمال بنانے کی دوڑ میں مبتلا ہیں اور ملکی مفاد کے نام پر کلپٹو کریسی جس طرح متعدد ریاستوں میں طرح طرح سے اپنے پنجے گاڑ رہی ہے۔ اس سب کے ہوتے سیموئیل جانسن یا برنارڈ شا کے مذکورہ اقوال کو یک بیک مسترد کرنے سے شائد مسئلہ حل نہ ہو

اگر میں دیگر ممالک کو چھوڑ کے صرف بھارت اور پاکستان کو ہی ہر دو اصحاب کے اقوال کے آئینے میں دیکھنے کی جرأت کروں تو اس آئینے میں بہت سے معززین اور ان کے پروردگان بے لباس نظر آ رہے ہیں

ایک زمانے تک سیاسی و ذاتی دشمنی کے درمیان واضح حدِ فاصل کھچی ہوئی تھی۔ کٹر سیاسی دشمن بھی ایک متفقہ غیر رسمی تہذیبی ضابطہِ اخلاق کے دائرے میں ہی رہتے تھے

اب یہ فرق تیزی سے مٹتا جا رہا ہے۔ پارلیمانی زبان اور تھڑے کی بازاری گفتگو میں تمیز نہ صرف مشکل تر ہو گئی ہے بلکہ کسی بھی نام نہاد رہنما یا مدبر کی جانب سے اس کی حوصلہ شکنی یا ناپسندیدگی کا اظہار عنقا ہوتا جا رہا ہے

حالت یہ ہو گئی ہے کہ والدین اب اس مشکل میں مبتلا ہیں کہ کچی عمر کے بچوں کو کسی ٹی وی چینل پر کوئی سیاسی مباحثہ بلا روک ٹوک دیکھنے کی اجازت دیں یا ریموٹ کنٹرول اپنے قبضے میں رکھیں؟

وہ یہ فیصلہ نہیں کر پا رہے کہ اپنے پسندیدہ رہنما کے کسی جلسے یا جلوس میں کنبے سمیت شرکت کریں یا نہ کریں۔۔ بس ایک کسر باقی ہے کہ ہر ٹاک شو کے آغاز سے پہلے یہ ہدایت بھی اسکرین پر آنے لگے کہ یہ پروگرام صرف اٹھارہ برس سے اوپر کے ناظرین کے لیے موزوں ہے

تعلیمی نصاب میں پڑھایا جاتا ہے کہ گاندھی جی اور محمد علی جناح کٹر سیاسی حریف تھے۔ ایک دوسرے پر فقرے بھی کستے تھے، طنز بھی کرتے تھے مگر آمنا سامنا ہونے پر ایک دوسرے کا حال احوال دریافت کرنا بھی نہیں بھولتے تھے

اچھا ہی ہوا کہ وہ نسل آج کا سیاسی ماحول دیکھنے سے بہت پہلے گزر گئی اور ان کی یاد اور آبرو صرف کرنسی نوٹ پر تصویر کی شکل میں محفوظ رہ گئی۔ ورنہ یہ سوچ سوچ کے ہی زندہ درگور ہو جاتے کہ کیا یہ ہیں وہ آئندہ نسلیں، جن کی آزادی و خوشحالی کے خواب کو عملی شکل دینے کی جدوجہد میں ہم نے عمریں تیاگ دیں

آج صرف گالم گلوچ، ٹرولنگ اور مجمع کے من و رنجن کے لیے توہین آمیز فقرے اور القابات کافی نہیں رہے۔۔ کسی کو بھی غدار یا ملک دشمن قرار دینے میں بھی کوئی خبریت نہیں رہی۔ ایک دوسرے کے خاندان کی خواتین کے بارے میں زو معنی گفتگو سے بھی تسکین نہیں ہو پا رہی۔ اب سیاسی مقاصد کے حصول کی خاطر حریف کو ہر اعتبار سے تباہ کرنے کی نئیت سے کوئی حربہ ناجائز یا گھناؤنا نہیں رہا

اب سیاسی دشمنی دالان سے ہوتی ہوئی مائیک اور کیمرے سمیت خواب گاہ میں گھس گئی ہے۔ ایک دوسرے کی آڈیوز اور وڈیوز منظرِ عام پر لانا نیا نارمل ہے

پاکستان کی حد تک یہ کہانی انیس سو ستر میں ہی شروع ہو گئی تھی جب ذوالفقار علی بھٹو کو ملحد اور کیمونسٹ ایجنٹ کہنے سے کام نہیں چلا تو مذہبی لابی کو حرکت میں لایا گیا اور شورش کاشمیری کے رسالے شہاب نے نہ صرف ایک سو بیس علما کا فتوی شائع کیا کہ جس نے بھٹو کو ووٹ ڈالا اس کا نکاح ٹوٹ جائے گا۔ بلکہ یہ کہانی بھی گھڑی گئی کہ بھٹو کی ولدیت مشکوک ہے اور ختنہ بھی نہیں ہوئی۔ مگر ایسی کردار کشی کا الٹا اثر ہوا اور مغربی پاکستان میں بھٹو سب سے بڑی سیاسی قوت بن کے ابھرا

لیکن پروپیگنڈہ اتنا راسخ تھا کہ اپنے ہی پھیلائے ہوئے جھوٹ کو اسٹیبلشمنٹ نے سچ سمجھ لیا۔ جیل میں بھٹو صاحب کی نگرانی پر مامور کرنل رفیع الدین نے اپنی کتاب ”بھٹو کے آخری تین سو تئیس دن‘‘ میں لکھا کہ پھانسی کے بعد ریکارڈ کی خاطر لاش کی، جو تصاویر کھینچی گئیں ان میں ایک ایسی تصویر بھی تھی، جس سے ختنہ کی تصدیق ہو سکے

بے نظیر بھٹو کا راستہ روکنے کے لیے ضیاءالحق کی وارث اسٹیبلشمنٹ نے انٹیلیجینس ایجنسیوں کی مدد سے انیس سو اٹھاسی میں اسلامی جمہوری اتحاد تشکیل دیا

مجھے یاد ہے کہ جس روز لاہور میں آئی جے آئی کا آخری انتخابی جلسہ ہونا تھا۔ شہر کے کچھ مقامات پر کرائے کے ایک طیارے سے ہینڈ بل سائز کے پوسٹر گرائے گئے۔اس پوسٹر میں بیگم نصرت بھٹو کی ایک پرانی تصویر تھی، جس میں وہ وائٹ ہاؤس میں دیے گئے عشائیے کے موقع پر صدر فورڈ کی ہم رقص تھیں۔ مگر پوسٹر میں وہ تصویر نہیں چھاپی گئی، جس میں وزیرِ اعظم بھٹو مسز فورڈ کے ہم رقص تھے

البتہ آج جو کچھ ہو رہا ہے اس کے آگے ماضیِ قریب کی گھٹیا کردار کشی بھی بچوں کا کھیل لگ رہی ہے۔ اب جب تک مخالف کی عزت تار تار کرنے والی کوئی ایسی تصویر، آڈیو یا وڈیو سامنے نہ آ جائے، جس کا شہرہ چار دانگِ عالم میں پٹ سکے تب تک تسکین نہیں ہوتی۔ بالخصوص پچھلے دو ڈھائی برس میں یہ چلن اتنا بڑھا ہے کہ اب کسی پر کسی تصویر، آڈیو یا وڈیو کا کوئی اثر نہیں ہوتا

تو کیا سیموئیل جانسن نے دو سو برس پہلے یا برنارڈ شا نے تقریباً سو برس پہلے حب الوطنی، سیاست اور بدمعاشیہ کے بارے میں جو رائے دی اس پر آج کے تناظر میں دھیان دیا جائے یا نری بکواس سمجھ کے مسترد کر دیا جائے؟

بشکریہ: ڈی ڈبلیو اُردو
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Tags:

barnard castlebarnard collegebarnard commencement 2018bernardine evaristoBoris Johnsonboris johnson corona interviewboris johnson coronavirusboris johnson coronavirus speechbrian johnsoncatherine johnsonethan and coleyJohnsonkatherine johnsonneal barnard diabetesneal barnard hormonesneal barnard podcastnutrition and autoimmune diseasepower and politicsrose gardensuper shoot and dunkworkshop on banach spaces and banach lattices
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

کراچی: تاریخی عمارت ایمپریس مارکیٹ کا رنگ و روغن، کیا قانونی تقاضے پورے کیے گئے؟

Next

فرانز فینون: جائزہ اور افادہ، وفات کے ساٹھ برس بعد (4)

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme