Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

جہاز کی پرواز: سائنسدانوں نے دھوپ اور ہوا کی مدد سے نیا ایندھن بنا لیا

By Akhtar Rasool
دسمبر 6, 2021 2 Min Read
0

زیورک – سوئزرلینڈ میں سائنسدان ایسا طریقہ کار وضع کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں ، جس سے دھوپ اور ہوا کی مدد سے ایسا ایندھن تیار کیا جا سکتا ہے، جس سے جہاز کو اڑانا ممکن ہے

سائنسی تحقیق کی ویب سائٹ سائنس ڈیلی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ای ٹی ایچ زیورک کے سائنسدانوں کا اگلا ہدف یہ ہوگا کہ اس ٹیکنالوجی کو صنعتی بنیادوں پر استعمال کیا جائے

سوئٹزرلینڈ کے شہر زیورک میں قائم ادارے میں بنائے گئے پلانٹ میں کاربن ڈائی آکسائیڈ اور پانی کو براہ راست ہوا سے حاصل کیا جاتا ہے اور پھر انہیں سورج کی توانائی کی مدد سے الگ کیا جاتا ہے

اس عمل سے ہائیڈروجن اور کاربن مونوآکسائیڈ کا مکسچر سین گیس کی شکل میں حاصل ہوتا ہے، جسے کروسین، میتھانول یا دیگر ہائیڈروکاربنز میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ جس کو جہاز اُڑانے کے لیے بطو ایندھن استعمال کیا جا سکتا ہے

اس تمام عمل کے تجزیے سے پتہ چلا ہے کہ اگر اس پلانٹ سے حاصل کیے گئے ایندھن کو صنعتی سطح پر استعمال کیا جائے تو اس کی قیمت 1.2 سے دو یورو فی لیٹر ہوگی

صحرائی علاقوں میں تیز دھوپ پڑتی ہے اس لیے ان کو ایندھن کے پیداواری مقاصد کے لیے موزوں مقامات قرار دیا گیا ہے

اس حوالے سے انسٹیٹیوٹ آف ایڈوانسڈ سسٹین ایبیلیٹی اسٹڈیز کے محقق جوائن للیسٹیم کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی میں جیٹ فیول کی عالمی طلب پوری کرنے کی صلاحیت ہے اور ایسا کرنے کے لیے پوری دنیا کے ایک فیصد سے بھی کم بنجر زمین کو استعمال کرنا پڑے گا

انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری کے لیے ابتدائی طور پر بہت بڑی رقم درکار ہوگی۔ اس لیے مارکیٹ میں جگہ بنانے کے لیے سیاسی سپورٹ کی ضرورت ہوگی

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یورپی یونین کا موجودہ نظام ایندھن کے مارکیٹ میں جگہ بنانے کے لیے ناکافی ہے

جوائن للیسٹیم نے یہ تجویز بھی دی کہ یہ ایندھن حاصل کرنے کے لیے یورپی ٹیکنالوجی کا کوٹہ استعمال کیا جائے، اس سے ایئرلائنز اپنے جہازوں کے لیے درکار فیولز کا کچھ حصہ اس ٹیکنالوجی سے حاصل کر سکیں گی.

Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

ہم کیسے اور کب ”مختصر اور غیرمحسوس نابینا پن“ کا شکار ہوتے ہیں؟

Next

پاکستانیوں کو نوکریاں دینے کے لیے حکومت اور سعودی عرب کے درمیان دو معاہدے

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme