Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینتعلیم و صحتخبریں

ہم کیسے اور کب ”مختصر اور غیرمحسوس نابینا پن“ کا شکار ہوتے ہیں؟

By Akhtar Rasool
دسمبر 6, 2021 2 Min Read
0

نیویارک –  ایک تازہ تحقیق میں سائنسدانوں نے ہماری آنکھ کی ایک دلچسپ کیفیت کے بارے میں انکشاف کیا ہے

انکشاف کے مطابق جب آنکھ سے باریک ترین تفصیل کو دیکھا جاتا ہے، تو ہم ایک سیکنڈ کے بھی معمولی حصے تک نابینا ہوجاتے ہیں، لیکن ہمیں اس کا احساس نہیں ہوتا

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ آنکھ کے ریٹینا میں ایک باریک حصہ ’فیویولا‘ ہوتا ہے، جو ہمیں کسی شے کی باریک ترین تفصیلات دکھاتا ہے۔ مثلاً بہت ساری اشیا کے ہجوم میں جب ہم اسٹال پر رکھی کتاب یا کسی اشتہار پر نظر جماتے ہیں، تو ’فیویولا‘ کی بدولت ہی دماغ تک اس کا سگنل پہنچتا ہے

ہماری آنکھیں جب فوری طور پر بڑے منظر سے کسی چھوٹی شے پر پڑتی ہیں تو اس منتقلی کو ’مائیکروسیکڈ‘ کہتے ہیں. اس عمل میں آنکھ صرف اسی باریک شے کو دکھاتی ہے اور بقیہ مناظر کو دھندلاتی نہیں بلکہ ان سے ہمیں اندھا کردیتی ہے

یونیورسٹی آف روچیسٹر میں بصریات سے وابستہ جینس انٹوئے کے مطابق مائیکروسیکڈز کی بدولت بہت تھوڑی دیر کے لیے بصارت دب جاتی ہے، جسے مختصر نابینا پن کہا جا سکتا ہے، اور جب جب ہم نظر ادھر ادھر ڈالتے ہیں تو یہ عمل ہوتا ہے

اس عمل کو اچھا قرار دینے پر اصرار کرتے ہوئے محققین کا کہنا ہے کہ جب ہم دوربین سے دیکھنے کے بعد آنکھ ہٹاتے ہیں اس وقت بھی یہ عمل واقع ہوتا ہے۔ اس میں آنکھ کو بڑے سے چھوٹے اور چھوٹے سے بڑے منظر کی جانب رجوع کرنے اور نظر کو موافق بنانے میں مدد ملتی ہے

اس کی تصدیق کے لیے ماہرین نے ایک تجربے کے دوران کچھ رضاکاروں کو کمپیوٹر اسکرین پر ایک گیم کھیلنے کو دیا، جس میں انہیں جانوروں کے باریک بالوں جیسی ایک چادر پر سے اچھلتی ہوئی جو نما مخلوق پر نظر جمانی تھی

جو یا فلی دکھائی دینے کی صورت میں انہیں جوائے اسٹک کا بٹن دبانا تھا۔ اس دوران ایک اسکینر آنکھوں کا جائزہ لیتا رہا تھا

سارے رضاکاروں نے اعتراف کیا کہ جیسے ہی انہوں نے بڑے پس منظر سے اپنی نظر ننھے کیڑوں پر ڈالی، تو وقتی طور پر وہ کیڑے نظر نہیں آئے۔ یہاں تک کہ وہ انہیں براہ راست بھی نہیں دیکھ سکے تھے

اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ بلائنڈ اسپاٹ سے ہٹ کر ہم وقتی طور پر بھی بینائی کھو دیتے ہیں اور یہ عمل خود بینائی کے لیے بہتر ہوتا ہے.

Tags:

Blindness
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

عرفان مہر کے قتل کیس سے متعلق اہم پیش رفت ہوئی ہے، تفتیشی ٹیم

Next

جہاز کی پرواز: سائنسدانوں نے دھوپ اور ہوا کی مدد سے نیا ایندھن بنا لیا

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme