Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

خاتون کے جعلی نام سے انعام یافتہ ناول لکھنے والے تین مرد

By Akhtar Rasool
اکتوبر 20, 2021 3 Min Read
0

بارسلونا : گزشتہ دنوں اسپین میں ایک ادبی تقریب میں اس وقت دلچسپ صورتِحال پیدا ہوگئی جب ”کارمن مولا“ نامی ایک خاتون مصنفہ کو سنسنی سے بھرپور ناول ’لا بیستیا‘ (درندہ) پر دس لاکھ یورو انعام دینے کا اعلان کیا گیا، لیکن وہ انعام لینے کے لیے تین مرد اسٹیج پر آگئے

خبروں کے مطابق، اس سال اسپین میں ’2021 پریمیو پلینیٹا‘ ادبی انعام کا حقدار ”کارمن مولا“ نامی ایک خاتون کو قرار دیا گیا، جس کی مالیت دس لاکھ یورو ہے، جو بیس کروڑ پاکستانی روپے سے کچھ زیادہ بنتی ہے

تاہم جب تقریب میں خاتون کا نام پکارا گیا تو اسٹیج پر تین ادھیڑ عمر مرد پہنچ گئے، جن کے نام آگسٹین مارٹینیز، ہورگے ڈیاز اور اینٹونیو مرسیرو بتائے گئے ہیں، جو اسپین میں ٹی وی ڈراموں اور فلموں کے لیے اسکرین پلے لکھتے رہے ہیں

انہوں نے انکشاف کیا کہ”کارمن مولا“ کا کوئی وجود نہیں، بلکہ وہ تینوں ہی اس خاتون کے فرضی نام سے ناول نگاری کرتے ہیں

بتاتے چلیں کہ ناول ’لا بیستیا‘ کی کہانی 1834ع میں ہیضے کی عالمی وبا کے گرد گھومتی ہے، جس کا آغاز 1817ع میں ہندوستان سے ہوا، جو 1837ع تک مرحلہ وار جاری رہی اور یورپ سے لے کر امریکا تک پھیل گئی. ہیضے کی اسی وبا کے باعث مختلف یورپی ممالک میں بدترین حالات پیدا ہوئے اور نوبت خانہ جنگی تک پہنچ گئی

انعام پانے والے تینوں مرد مصنفین ”کارمن مولا“ کا مشترکہ فرضی نام اختیار کرنے سے پہلے اپنے اصل ناموں سے الگ الگ لکھا کرتے تھے اور ٹی وی سیریز ’سینٹرل ہاسپٹل‘ کے علاوہ ’بلائینڈ ڈیٹ‘ کے اسکرپٹ پر بھی کام کر چکے تھے

مارٹینیز، ڈیاز اور مرسیرو آپس میں دوست بھی ہیں اور اپنی اصل شناخت چھپاتے ہوئے ایک خاتون کے مشترکہ فرضی نام سے لکھنے کا فیصلہ انہوں نے چند سال پہلے کیا تھا

نام کے ساتھ ساتھ انہوں نے ”کارمن مولا“ کو ایک منفرد شناخت بھی دی، تاکہ لوگوں کو اس کے وجود پر یقین ہوسکے

ناولوں میں دیے گئے تعارف میں بتایا گیا کہ ”کارمن مولا“ ایک چالیس سالہ خاتون پروفیسر ہیں، جو اسپین کے شہر میڈرڈ میں پیدا ہوئیں، تین بچوں کی ماں ہیں اور اپنے فارغ وقت میں ناول لکھتی ہیں

دلچسپ بات یہ ہے کہ ”کارمن مولا“ کے انٹرویو بھی شائع ہوئے، لیکن کسی نے ان کا چہرہ نہیں دیکھا، بلکہ ہر تصویر میں انہیں کیمرے کی طرف پشت کیے ہوئے دکھایا گیا ہے

پبلشر پینگوئن رینڈم ہاؤس کے بقول، ”کارمن مولا“ ایک خاتون لکھاری تھیں، جو میڈرڈ میں پیدا ہوئیں۔ مولا کے بارے میں یہ بھی کہا گیا کہ ان کی عمر چالیس سال ہے اور تین بچوں کی ماں ہیں، جو بطور پروفیسر کام کرتی ہیں اور فارغ اوقات میں ناول لکھتی ہیں

”کارمن مولا“ کی حقیقت سامنے آنے پر جہاں لوگ اس دلچسپ صورتحال سے محظوظ ہوئے، وہیں تینوں مصنفین کو خواتین کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے

کینیڈین مصنفہ سوسین سوان نے اس حرکت کو فراڈ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ان مرد مصنفین میں انسانیت ہے تو انہیں انعام کی یہ رقم واپس کردینی چاہیے یا پھر خواتین کی فلاح و بہبود کےلیے کام کرنے والی کسی تنظیم کو عطیہ کردینی چاہیے.

Tags:

Carmen MullaPlanetarium AwardPublisher Penguin Random HouseSusan Swan
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

مادّے کی نئی حالت ’’الیکٹرون کواڈرپلٹ‘‘ دریافت

Next

سانحہ آرمی پبلک اسکول کی ذمہ دار اعلیٰ سول و عسکری قیادت ہے: لواحقین

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme