Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

دنیا میں کتنے لوگ مستقبل سے پُرامید ہیں؟ سروے کے تشویشناک نتائج

By Akhtar Rasool
جنوری 30, 2023 3 Min Read
0

حال ہی میں ایک عالمی سروے کے نتائج کے مطابق دنیا میں ہر پانچ میں سے بمشکل دو افراد کو مستقبل ميں اپنے خاندان کی بہتری کی امید ہے۔ کم آمدنی والے گھرانوں کا اداروں پر سے اعتماد اُٹھتا جا رہا ہے

ایڈلمین ٹرسٹ بیرومیٹر، جو دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے ہزاروں لوگوں کے معاشرتی رویوں کا جائزہ لے رہا ہے، کی حالیہ رپورٹ ميں انکشاف کيا گيا ہے کہ دنیا کے بعض ترقی یافتہ اور اعلیٰ اقدار کے حامل سمجھے جانے والے ممالک کے عوام میں مایوسی عروج پر ہے۔ مثال کے طور پر امریکہ، برطانیہ، جرمنی اور جاپان جیسی مضبوط معیشتوں میں

مذکورہ بیرومیٹر کے جائزے سے مزید اس بات کی تصدیق بھی ہوئی ہے کہ بہتر مستقبل کی امید اور معاشرتی استحکام کی عدم موجودگی ایسے معاشروں کو کس طرح توڑ رہی ہے

مہنگائی اور وبائی امراض کے اثرات کے باوجود زیادہ آمدنی والے گھرانے اب بھی بڑے پیمانے پر اداروں پر بھروسہ کرتے ہیں، لیکن کم آمدنی والے گروپوں میں معاشرتی بیگانگی اور معاشی مایوسی بڑھتی جا رہی ہے

اس سروے میں اٹھائیس ملکوں کے بتیس ہزار سے زیادہ جواب دہندگان کے جوابات شامل کیے گئے ہیں۔ ان کا گزشتہ سال یکم نومبر سے 28 نومبر تک انٹرویو لیا گیا تھا

یہ سروے رپورٹ شائع کرنے والے ’ایڈلمين کمیونیکیشنز گروپ‘ سے وابستہ رچرڈ ایڈلمین کہتے ہیں ”اس سے حقیقی معنوں میں بڑی طبقاتی تقسیم دوبارہ سے دکھائی دے رہی ہے۔‘‘

رچرڈ ایڈلمین نے کہا ”ہم نے یہ تقسیم وبائی مرض کے پھیلاؤ کے دوران دیکھی، جس کے اثرات صحت کے ادارے پر پڑے اور اب ہم اسے افراطِ زر کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت اور دیگر اداروں نےغریبوں پر وبائی امراض کے زیادہ نقصان کا اندازہ لگایا ہے۔ کم آمدنی والے افراد بنیادی ضروریات کی اشیاء کی مہنگائی سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں‘‘

رچرڈ ایڈلمین کے مطابق عالمی سطح پر محض چالیس فی صد انسانوں نے اس سے اتفاق کیا کہ وہ اور ان کا خاندان آئندہ پانچ برسوں میں بہتر حالات اور صورتحال کی امید رکھتا ہے۔ اس سے ایک سال قبل اس خیال سے اتفاق کرنے والوں کی شرح پچاس فی صد تھی

ترقی یافتہ معیشتوں میں سب سے زیادہ عوامی مایوسی امریکہ میں 36 فی صد کی شرح کے ساتھ پائی گئی، جبکہ برطانیہ میں 23 فی صد، جرمنی میں 15 فی صد اور جاپان میں 9 فی صد ریکارڈ کی گئی

کم شرح ہونے کے باوجود پچھلے سال کے مقابلے میں صرف چین ہی اس رجحان کو آگے بڑھاتا دکھائی دیا۔ زيرو کووڈ پالیسیوں کی وجہ سے معاشی بدحالی کے باوجود چین میں ایسے باشندوں کی شرح بڑھ کر 65 فی صد ہو گئی ہے، جنہوں نے مستقبل میں امید نہیں کھوئی۔ واضح رہے کہ چین نے پالیسیوں میں اب نرمی پیدا کر دی ہے

ایڈلمين، جو کہ ایک پرانا ٹرسٹ ہے، کے اس سروے میں رجسٹر ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق اعلیٰ آمدنی والے 63 فی صد افراد کا معاشرے کے کلیدی اداروں پر اعتماد قائم ہے۔ امریکہ میں محض کم آمدنی والے افراد میں ان اداروں کی طرف اعتماد کی شرح گر کر 40 فی صد پر آ گئی ہے۔ ایسا ہی کچھ سعودی عرب، چین، جاپان اور متحدہ عرب امارات ميں ہے

معاشرے میں تقسیم اور اس صورتحال کے مستقبل میں برقرار رہنے کے بارے میں کرائے جانے والے سروے کے نتائج سے پتہ چلا کہ ارجنٹائن، جنوبی افریقہ، اسپین، سویڈن اور کولمبیا جیسے معاشروں میں اس سوچ کے حامل افراد کی ایک بڑی تعداد ہے اور وہ اس بیان سے متفق ہیں

رچرڈ ایڈلمين کہتے ہیں ”مجھے لگتا ہے کہ ہمارے ڈیٹا نے سی ای اوز کو معاشرے کے اہم محرکات پر غور کرنے کا بہت زیادہ مواد فراہم کیا ہے، اور انہوں نے یہ تسلیم کیا کہ کاروبار کا سماجی مسائل کے حل میں اہم قوت کے طور پر کردار ہے۔‘‘

Tags:

cautious for futureFuturefuture of jobsfuture of workhope for the futurehopeful about futureoptimisticoptimistic about retirementoptimistic about the futureoptimistic outlookPeoplephysics of the futurephysics of the impossiblereasons to be optimisticreasons to be optimistic about the futuresquawk on the streetthe daily reminderthe future of the mindthe good futurewhy you should be optimistic about the futurewoke culture in work
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

’نفرت کا نظریہ بھارت کو کھا رہا ہے‘ مہاتما گاندھی کے پڑپوتے تشار گاندھی کا بیان

Next

بھارت: زیر زمین پانی کے ذخائر کے اندھا دھند استعمال سے متاثر شہر دوارکا کے مکینوں نے پانی کی کمی کا توڑ کیسے ڈھونڈا؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme