Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینتعلیم و صحتخبریں

دو سر اور تین ہاتھوں والے بچے پیدا ہونے کی وجہ کیا ہے، کیا علاج ممکن ہے؟

By Akhtar Rasool
اپریل 3, 2022 4 Min Read
0

رتلام – حال ہی میں بھارت کی ریاست مدھیہ پردیش کے رتلام ضلع میں ایک خاتون نے ایک ایسے بچے کو جنم دیا ہے، جس کے دو سر اور تین ہاتھ ہیں. بچے کے جسم میں ایک قسم کی ڈیفارمیٹی یا نقص ہے اور اس بچے کی حالت کے بارے میں بحث ہو رہی ہے

بچوں میں اعضا سے متعلق نقائص کے بارے میں ایک بڑا سوال یہ ہے کہ نوزائیدہ بچوں کے جسم میں نقائص کیوں پیدا ہوتے ہیں اور کیا ان کا علاج ممکن ہے؟

رتلام کے اس بچے کے بارے میں بات کی جائے تو ڈاکٹروں کے مطابق اسے ’پیراپیگس ڈائیففلس‘ کہا جاتا ہے، جو نامکمل جڑواں پن کی انتہائی کمزور قسم ہے۔ ڈاکٹر کہتے ہیں کہ اس کے علاوہ اس بیماری کی اور بھی کئی قسمیں ہیں

بھارت کے شہر اندور کے ایم وائی ہسپتال کے ڈاکٹر برجیش کمار لاہوتی کا کہنا ہے کہ ’جسم کے ان نقائص کو ’مینوفیکچرنگ ڈیفیکٹس‘ کہا جا سکتا ہے

بچوں کی سرجری کے شعبہ کے سربراہڈاکٹر برجیش کمار لاہوتی کا کہنا ہے ”جب بچے ابتدائی چند ہفتوں میں نشوونما پاتے ہیں تو اسی وقت ان میں کچھ نقائص پیدا ہو سکتے ہیں“

انہوں نے وضاحت کی کہ ’مصنوعی خرابیاں جسم کے کسی بھی حصے میں ہو سکتی ہیں دماغ، دل، جگر، گردے، بازو یا ٹانگوں میں بھی۔‘

ڈاکٹر پرویندر ایس نارنگ میکس ہسپتال میں ماہر اطفال ہیں۔ وہ اس بات کو چند مثالوں کی مدد سے سمجھاتے ہوئے کہتے ہیں ”بعض اوقات کچھ لوگوں کی پانچ کے بجائے چھ انگلیاں ہو سکتی ہیں یا کچھ کے چہرے پر نشان بھی ہو سکتے ہیں۔ کچھ نقائص ایسے ہوتے ہیں، جو بہت کم ہوتے ہیں، جیسے تین سے پانچ ہزار کیسز میں ایک کیس ہوتا ہے، جس میں نوزائیدہ بچے کے جسم میں کچھ خرابی پیدا ہوتی ہے“

اس بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے رتلام کے بچے کی مثال بھی دی

ڈاکٹر برجیش کا کہنا ہے ”بچوں میں یہ بہت عام ہے۔ اگر ہم پیدائشی نقائص کی بات کریں تو بھارت میں دو سے تین فیصد لوگوں میں یہ نقائص ہیں اور تقریباً پانچ سے چھ فیصد جان لیوا ہوتی ہیں“

ان کا کہنا تھا ”کچھ خرابیاں ایسی ہوتی ہیں، جو پیدائش کے وقت معلوم نہیں ہوتیں اور بعد میں سامنے آتی ہیں۔ نقص جتنے شدید ہوتے ہیں اتنی دیر میں ان کا پتہ چل جاتا ہے“

جسم میں نقائص کیوں پیدا ہوتے ہیں؟ کے سوال پر ڈاکٹر برجیش کا خیال ہے کہ ان جسمانی نقائص کےحوالے سے اکثر لوگوں میں کچھ وہم ہوتے ہیں لیکن ان کے خیال میں اس غلط فہمیوں کو تعلیم و بیداری کی مدد سے ہی دور کیا جا سکتا ہے. پیدائشی نقائص جینیاتی وجوہات سب سے زیادہ اہم ہوتی ہی۔ ہمارے جینز یا جینز میں ہونے والے تغیرات کا اس میں بڑا ہاتھ ہے۔ کچھ نقائص موروثی ہوتے ہیں، یعنی خاندان میں رونما ہوتے رہتے ہیں اور کچھ خرابیاں پہلی بار میوٹیشن کی وجہ سے ہوتی ہیں“

مثال کے طور پر ڈاکٹر برجیش بتاتے ہیں کہ ’کچھ بچوں کے کھانے کا پائپ ونڈ پائپ سے جڑا ہوتا ہے اور کچھ بچوں میں پاخانہ نکلنے کا راستہ بھی نہیں بن پاتا۔“

جسمانی نقائص کا پتہ لگانے کے طریقے کے بارے میں ڈاکٹر برجیش بتاتے ہیں کہ حمل کے پہلے سولہ سے طیس ہفتوں یعنی چار سے پانچ ماہ میں کچھ پیدائشی نقائص کا پتہ لگایا جا سکتا ہے اور ایسا سونوگرافی کی مدد سے ممکن ہے

انھوں نے کہا ”جب سونوگرافی میں خرابی کا پتہ چلتا ہے تو ہم اس کی مزید تحقیقات کرتے ہیں اور ہم یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ آیا یہ بچہ زندہ رہے گا یا نہیں“

ڈاکٹر برجیش کا یہ بھی کہنا ہے کہ کچھ جگہوں پر ٹیسٹ کے لیے سہولیات یا ٹیسٹ کے لیے آلات نہیں ہوتے۔ اگر دور دراز علاقوں پر تعلیم اور اچھی سونوگرافی یا ٹیسٹ کی سہولت فراہم کی جائیں تو اس طرح کے کیسز کم ہو سکتے ہیں

انھوں نے کہا ”بچوں میں دل کی بیماریاں پائی جاتی ہیں۔ بعض اوقات پاؤں میں کلب فٹ ہوتا ہے یعنی پاؤں ٹیڑھے ہو جاتے ہیں۔ بھارت میں بچوں میں ایک بہت عام خرابی ہے جس میں بچوں کی ریڑھ کی ہڈی کی نشوونما نہیں ہوتی۔“

اس کے علاج کے بارے میں بات کرتے ہوئے ڈاکٹر برجیش بتاتے ہیں ”ایسا نہیں ہے کہ تمام بچے پیدائشی خرابی کی وجہ سے مرتے ہیں۔ کچھ نقائص کا علاج منصوبہ بند طریقے سے کیا جا سکتا ہے اور بعض صورتوں میں ہنگامی آپریشن کی ضرورت ہوتی ہے۔ 90 فیصد نقائص کا علاج کیا جا سکتا ہے۔ بہت سی خرابیوں کا علاج سرجری سے کیا جا سکتا ہے“

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ’اگر نومولود بچوں کی شرح اموات کو دیکھا جائے تو سات فیصد بچے ان خرابیوں کی وجہ سے مر جاتے ہیں۔‘

ڈاکٹر پرویندر کا کہنا ہے کہ ہر جسمانی نقص کا علاج مختلف ہوتا ہے۔ اگر صرف تھائرائڈ کی کمی ہے تو اس کا علاج زیادہ مہنگا نہیں ہے۔ دوسری طرف، اگر آپ کو دل کے چیمبر کا آپریشن کرنا پڑتا ہے، تو علاج مہنگا ہوسکتا ہے۔‘

انھوں نے بتایا ”اب ان نقائص کا علاج بڑے ہسپتالوں میں ہوتا ہے لیکن علاج کے اخراجات کا انحصار بیماری پر ہوتا ہے۔“

ڈاکٹر پرویندر بتاتے ہیں کہ حمل سے پہلے بھی خواتین کو اپنا خیال رکھنا ضروری ہے۔ ساتھ ہی انہیں یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ ان کے جسم میں کن چیزوں کی کمی ہے

انہوں نے کہا ”یہ ذہن میں رکھنا ہو گا کہ ماں فولک ایسڈ اور وٹامنز صحیح وقت پر لیتی یا نہیں ہے؟ ایسا کرنے سے بچوں میں دل اور ریڑھ کی ہڈی سے متعلق خرابی کم ہوتی ہے“

ڈاکٹر برجیش بتاتے ہیں ”کسی حد تک خواتین میں فولک ایسڈ کی کمی کو سپلیمنٹس کی مدد سے ٹھیک کیا جا سکتا ہے. جس طرح آیوڈین کی کمی کو نمک میں آیوڈین ملا کر ٹھیک کیا جاتا ہے اسی طرح فولک ایسڈ کی سپلیمنٹیشن بھی شروع کی جائے تاکہ ان خرابیوں کو کافی حد تک کم کیا جا سکے“

Tags:

Birth defectsFolic acidGeneticGenetic causesMutationPregnancySonography
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

روسی صدر پیوٹن ہرن کے سینگ کا عرق کیوں استعمال کر رہے ہیں؟

Next

آٹزم کیا ہے؟ کیا آپ نے دنیا کو کبھی آٹسٹ کی نظروں سے دیکھا ہے؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme