Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینتعلیم و صحتخبریں

ذیابیطس سے قبل (پری ڈائبیٹیز) کی 6 اقسام دریافت

By Akhtar Rasool
جنوری 11, 2021 2 Min Read
0
یہ تو آپ جانتے ہی ہونگے کہ ذیابیطس یاڈائیبٹیز، جسے عام طور پر شوگر کی بیماری بھی کہا جاتا ہے، کے کنارے پہنچنے والے افراد ’پری ڈائبیٹیز‘ کہلاتے ہیں۔ ان کی اکثریت میں جلد یا بدیر ٹائپ ٹو ذیابیطس میں مبتلا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور اس کیفیت کے شکار افراد کی اکثریت شوگر کی مریض بن جاتی ہے
اس حوالے سے ایک نئی تحقیق سامنے آئی ہے، جس میں 900 افراد کا پچیس سال تک مطالعہ کیا گیا۔، جج ہاں، پورے پچیس سال!
اس مطالعے میں ماہرین نے ذیابیطس سے پہلے کی کیفیت کو بہت سے بایومارکرز یعنی گلوکوز کی مقدار، جگر کی چکنائی، جسمانی چکنائی کی تقسیم، خون میں لائپڈ کی مقدار اور جینیاتی خطرات کی بنا پر دیکھا ہے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ 6 ذیلی اقسام میں ٹائپ ٹو ذیابیطس کا خطرہ مختلف ہوتا ہے اور اس سے ڈاکٹروں کو قدرے مؤثر علاج میں بھی مدد مل سکے گی۔
جرمن سینٹر برائے ذیابیطس ریسرچ کے پروفیسر ہانس الرخ ایرنگ کے مطابق ہماری تحقیق سے پہلے یہ بتانا مشکل تھا کہ پری ڈائبیٹس کے کونسے افراد آگے چل کر ٹائپ ٹو ذیابیطس میں مبتلا  ہوسکتےہیں، کن کے گردے متاثر ہوں گے یا کون ایسے ہیں جنہیں زیادہ فرق نہیں ہوگا؟
مرض کو مختلف گروہ یا کلسٹر کی صورت میں بیان کیا گیا ہے۔ موٹاپے، میٹابولزم، جسم میں انسولین کی فطری پیداوار، جگر پر چربی، رگوں کی موٹائی اور دیگر عوامل کی بنا پر انہیں مختلف درجوں میں رکھا گیا ہے
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق  ذیابیطس جیسے مرض کو بہتر طور پر قابو کرنے میں مددگار ثابت ہوگی.
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

بچوں کے لیے عمر کے ساتھ ساتھ بڑھنے والا لباس ایجاد

Next

فیس بک نے دماغ پڑھنے کی ٹیکنالوجی  پر کام شروع کر دیا

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme