Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینکالم

زباں فہمی: کیا ارسطو آئینے کا موجد تھا؟

By Akhtar Rasool
مئی 9, 2022 4 Min Read
0

انداز اپنا دیکھتے ہیں آئینے میں وہ،
اور یہ بھی دیکھتے ہیں کوئی دیکھتا نہ ہو

اچھے شعر کی خاص بات سادگی و سلاست کے ساتھ فکر کا مکمل ابلاغ ہے، جب کہ اضافی خوبی وہ لفظی مصوری ہے، جو ماحول کو مجسم کر دیتی ہے۔ نظام رامپوری کا شعرِ بالا حُسنِ بیان کی اس تعریف پر پورا اترتا ہے۔ اس خوبی کے علاوہ شعر میں ہمارے لیے لفظ ’انداز‘ اور ’آئینہ‘ بھی دلچسپی کا سامان لیے ہوئے ہیں

لفظ ’انداز‘ ہو یا ’اندازہ‘ دونوں کو فارسی مصدر ’انداختن‘ سے نسبت ہے، جو ’پھینکنا‘ کے علاوہ دو درجن سے زائد معنی میں استعمال ہوتا ہے

اردو میں ’انداز‘ محبوب کے ناز و ادا، جب کہ ’اندازہ‘ قیاس و تخمینہ کے معنی میں برتا جاتا ہے، پھر ان جداگانہ معنی کے برخلاف یہ دونوں الفاظ ’طور، طریقہ، طرز، ڈھنگ، مقدار اور معتدل‘ وغیرہ کے سے مشترکہ معنی میں بھی استعمال ہوتے ہیں

اس سے پہلے کہ آگے بڑھیں، ’اندازہ‘ کی رعایت سے پروفیسر سحر انصاری کا خوب صورت شعر ملاحظہ کریں:
ہمیں اندازہ رہتا ہے ہمیشہ دوست دشمن کا
نشانی یاد رکھتے ہیں، نشانہ یاد رکھتے ہیں

فارسی میں ’اندازہ‘ کا لفظ پیمانہ، تعداد، حد، شمار، معیار، مقدار، مقیاس، میزان اور وزن کے مفاہیم کے ساتھ علم ریاضی کی ایک شاخ کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ ان اصطلاحی معنی کے ساتھ جب ’اندازہ‘ عربی زبان میں پہنچا تو ’ہندسہ‘ ہو گیا

اس حوالے سے علامہ سید سلیمان ندوی کا کہنا ہے کہ ’ہندسہ کے معنی اندازہ کرنا اور اس سے مراد عمارت کا ناپنا اور نقشہ بنانا یعنی فن تعمیر ہے جس کو آج انجینئرنگ کہتے ہیں‘

پھر اس ’ہندسہ‘ ہی سے لفظ ’مہندس‘ بھی ہے، جو عربی میں انجینئر کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اب انجینئرنگ کے معنی کے ساتھ ’مہندس‘ کو احمد عادل کے شعر میں دیکھیں:
مہندس ہوں میں حرف و صوت کے تازہ جہانوں کا،
سو اپنے شعر میں لہجے نئے ایجاد کرتا ہوں

آگے بڑھنے سے پہلے دو باتوں کی وضاحت ضروری ہے۔ اول یہ کہ ’اندازہ‘ یکسر بدل کر ’ہندسہ‘ کیونکر ہوا؟

عرض ہے کہ ’الف‘ اکثر موقعوں پر ہائے ہوز (ہ) سے بدل جاتا ہے، مثلاً فارسی ہی میں ’استہ‘ بمعنی ہڈی اور گٹھلی کو ’ہستہ‘، جب کہ ’ہنگام‘ کو ’انگام‘ بھی کہا جاتا ہے، جب کہ ’ہست‘ کو ’است‘ کہنا تو سامنے کی بات ہے

ایسے ہی ’ز/ زے‘ جن حروف سے بدلتا ہے، ان میں ’س/سین‘ بھی شامل ہے، مثلاً انگریزی میں مسلم (Muslim) کا تلفظ ’مُزلم‘ یا اسرائیل/ Israel کا تلفظ ’ازرائیل‘ بھی کیا جاتا ہے

اب حروف کی اس باہم تبدیلی کو ذہن میں رکھیں اور ’ہندسہ‘ پر غور کریں تو سمجھنے میں دیر نہیں لگے گی کہ ’ہندسہ‘ دراصل ’اندازہ‘ ہی کی معرب صورت ہے

دوم یہ کہ قدیم زمانے میں اہل ہِند علم ریاضی میں خاصے ماہر تھے، اس حوالے سے پہلے بھی نشاندہی کر چکے ہیں کہ ’صفر‘ بھی اہل ہند ہی کی دریافت ہے۔ اس کے علاوہ متحدہ ہندوستان میں بھی ہندو حساب کتاب میں ماہر سمجھے جاتے تھے۔ بقولِ مشتاق یوسفی ’مسلمان لڑکے حساب میں فیل ہونے کو اپنے مسلمان ہونے کی آسمانی دلیل سمجھتے ہیں‘

خیر اہلِ ہند کی ریاضی میں اس دلچسپی کے سبب لفظ ’ہندسہ‘ کو ’ہند‘ سے مشتق سمجھا گیا، جو ظاہر ہے کہ درست نہیں۔ اس وضاحت کے ساتھ یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ ’ہندسہ‘ کا تلفظ حرف اول کے زیر کے ساتھ ’ہِندسہ‘ نہیں، بلکہ حرف اول اور حرف ثالث کے زبر کے ساتھ ’ہَندَسہ‘ ہے

اب کچھ ذکر ’آئینہ‘ کا ہوجائے جس کے متعلق لکھنؤ کے عرفان صدیقی کا کہنا ہے:
ہم سب آئینہ در آئینہ در آئینہ ہیں،
کیا خبر کون کہاں کس کی طرف دیکھتا ہے

فارسی میں آئینہ‘ بصورت ’آئنہ، آیینہ اور آینہ‘ بھی لکھا جاتا ہے۔ جب کہ اس کی قدیم پہلوی صورت ’آئیناک‘ ہے۔ اس کے علاوہ ’آئینہ‘ کا لفظ صوتی تبدیلی کے نتیجے میں ’آدینہ‘ اور ’آذینہ‘ بھی پکارا جاتا ہے

جہاں تک لفظی تحقیق کی بات ہے تو فرہنگ ہائے فارسی ’آئینہ‘ کی اصل ’آئین‘ کو بتاتی ہیں، فارسی کی مشہور فرہنگ ’برہان قاطع‘ کے مؤلف محمد حسین برہان لفظ ’آئین‘ کے ذیل میں لکھتے ہیں:
’آئین کا لفظ پائین کے وزن پر ہے، جس کے معنی زیب و زینت و آرائش کے علاوہ رسم و عادات اور طرز کے ہیں‘

اس وضاحت کے بعد یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگے گی کہ جس طرح آئینے میں انسان اپنا آپ دیکھ کر بنتا سنورتا ہے، ایسے ہی ’آئین‘ بھی قوم کے لیے بمنزلہ آئینے ہی کام دیتا ہے، جس کی رہنمائی میں وہ اپنے اوصاف کا جائزہ لیتی ہے اور آگے بڑھتی ہے

اس سے پہلے کہ ’آئینہ‘ کی رعایت سے ’آدینہ‘ کی بات کریں۔ لفظ ’آئنہ‘ کی ایک اور وجہ تسمیہ پر بات ہوجائے۔ بعض لغت نویسوں کے نزدیک لفظ ’آئنہ‘ کی ابتدائی صورت ’آہنہ‘ تھی اور اس ’آہنہ‘ کو ’آہن‘ یعنی لوہے سے نسبت ہے

قدیم فارسی روایت کے مطابق آئنہ یا آئینہ بنانے کے لیے مختلف دھاتوں کو آزمایا گیا مگر گوہرِ مقصود ہاتھ نہ آیا، یہاں تک آہن یعنی لوہے کو جب خوب صیقل کیا گیا تو وہ چمک اٹھا، یہاں تک کہ اس میں عکس صاف دِکھائی دینے لگا، یوں اس آہن کی نسبت سے اسے ’آہنہ‘ پکارا گیا، جو گزرتے وقت کے ساتھ ’آہنہ‘ سے ’آئنہ‘ ہوگیا

پہلے بھی لکھ آئے ہیں کہ قدیم روایات میں سکندر اعظم کو ’آئینہ‘ کا موجد مانا گیا ہے، جب کہ ایک دوسری روایت میں ’آئینہ‘ کا موجد ارسطو کو قرار دیا گیا ہے۔ اُس نے یہ آئینہ سکندر کے لیے بنایا تھا، سکندر نے اس آئینے کو شہر اسکندریہ کے ایک مینار پر نصب کروایا تھا

اوپر لکھ آئے ہیں کہ ’آئینہ‘ کی ایک دوسری صورت ’آدینہ‘ ہے۔ یوں تو یہ آئینے ہی کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، تاہم فارسی میں ’جمعہ‘ کے دن کو بھی ’آدینہ‘ کہتے ہیں۔ وہ اس لیے کہ اس دن جمعے کی تیاری کے لیے خصوصی تیاری کرتے ہیں.

بشکریہ: اردو نیوز

Tags:

AristotleHistory of MirrorMirror
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

‘سبز سونا’ اجازت ناموں کے منتظر بھنگ کے پاکستانی کاشتکار

Next

پیسے جیب میں ہیں تو ایلون مسکیاں نہ کریں

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme