Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںسائنس و ٹیکنالوجی

زرعی انقلاب بذریعہ مصنوعی ذہانت اور اُس کے خطرات

By Akhtar Rasool
مارچ 30, 2022 2 Min Read
0

کیمبرج – ایک طرف مصنوعی ذہانت (AI) زرعی انقلاب لانے اور بڑھتی ہوئی عالمی آبادی کو منظم طریقے سے خوراک فراہم کرنے کا چیلنج قبول کرنے کے قریب ہے، تو دوسری طرف ماہرین اس حوالے سے مختلف جدشات کا اظہار بھی کر رہے ہیں

محققین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کو زرعی میدان میں وسیع پیمانے پر استعمال کرنے سے متعدد خطرات سامنے آ سکتے ہیں، جن پر غور نہیں کیا جا رہا

’نیچر مشین انٹیلیجنس‘ نامی جریدے میں شائع ہونے والی ایک حالیہ تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ مستقبل میں زراعت میں مصنوعی ذہانت کا استعمال کھیتوں، کسانوں اور غذائی تحفظ کے ممکنہ خطرات کے ساتھ وابستہ ہے، جنہیں کم نوعیت کا سمجھا جا رہا ہے

مصنفین میں سے ایک یونیورسٹی آف کیمبرج کے ڈاکٹر اساف زاشور کہتے ہیں ”کھیتوں میں کام کرنے والی ذہین مشینوں کا خیال سائنس فکشن نہیں ہے۔ بڑی کمپنیاں پہلے سے ہی اگلی نسل کے خود مختار AG-bots (زرعی روبوٹس) اور فیصلہ سازی کے مضبوط نظام کی تیاری کر رہی ہیں، جو میدانوں میں انسانوں کی جگہ لے لیں گے۔ لیکن اب تک کسی نے یہ سوال نہیں پوچھا کہ کیا زرعی مصنوعی ذہانت سے کوئی خطرہ وابستہ ہے؟“

انہوں نے کہا ”فصلوں کے انتظام اور زرعی پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت سے جُڑے ممکنہ خطرات پر غور کرنا چاہیے اور نئی ٹیکنالوجیز کو تجربات کے مراحل سے گزار کر آزمانا چاہیے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ محفوظ ہیں اور حادثاتی ناکامیوں، غیر ارادی نتائج اور سائبر حملوں سے محفوظ ہیں۔“

اپنی تحقیق میں، مصنفین نے خطرات کا ایک کیٹلاگ بھی پیش کیا ہے، جس میں زراعت کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی ذمہ دارانہ ترقی اور خطرات سے نمٹنے کے طریقوں کو زیرِ بحث لایا گیا

اس میں سائبر حملوں کا بالخصوص ذکر کیا گیا ہے، جو ممکنہ طور پر اے آئی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے تجارتی فصلوں کے انتظام میں خلل کا باعث بن سکتے ہیں۔ اس سے بچاؤ کے لیے ماہرین ’وائٹ ہیٹ ہیکرز‘کی تجویز بھی پیش کرتے ہیں، جو کمپنیوں کو آپریشن کے دوران کسی بھی خامی کی نشاندہی کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں تاکہ سسٹمز کو منفی ہیکرز سے محفوظ رکھا جاسکے.

Tags:

AI IrrigationArtificial IntelligentModern AgricultureModern Irrigation
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

ڈیرہ اسماعیل خان میں معلمہ کا قتل: ’لوگ تماشا دیکھ رہے تھے‘

Next

ٹوئٹر پر فالوور بڑھانے اور بہتر نتائج کے لیے مفید شارٹ کٹس

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme