Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںعالمی

زمبابوے نے مقامی کرنسی کی قدر میں کمی کے بعد سونے کے سکے متعارف کرا دیے

By Akhtar Rasool
جولائی 28, 2022 2 Min Read
0

زمبابوے کے مرکزی بینک نے مقامی کرنسی کو کمزور کرنے والی بڑھتی ہوئی افراط زر پر قابو پانے کے لیے رواں ہفتے سونے کے سکے متعارف کرا دیے ہیں

سینٹرل بینک کے گورنر جان منگوڈیا نے سکوں کی لانچ کا اعلان کرتے ہوئے بتایا ”ایک سکہ اٹھارہ سو سے زائد امریکی ڈالر میں دستیاب ہوگا اور ایجنٹوں نے اسے رکھنا شروع کر دیا ہے“

منگوڈیا نے کہا ”اس سکے کا نام مشہور وکٹوریہ آبشار ’موسی اوآتونیا‘ کے نام پر رکھا گیا ہے“

اس سکے کو نقد رقم میں تبدیل کیا جا سکتا ہے اور مقامی اور بین الاقوامی سطح پر اس سے کاروبار کیا جا سکتا ہے

مرکزی بینک کے مطابق سونے کے سکے میں ایک ٹروئے اونس سونا یعنی 31.1 گرام سونا ہوگا اور اس سکے کو فیڈلیٹی گولڈ ریفائنری، زمبابوے اور جنوبی افریقہ میں زیورات بنانے والی بڑی کمپنی اوریکس اور مقامی بینک فروخت کریں گے

سرمایہ کار سونے کے سکے بین الاقوامی سطح پر افراط زر اور جنگوں سے بچاؤ کے لیے استعمال کرتے ہیں

لیکن ایک مقامی رہائشی گریگ چیگومبے نے روئٹرز کو بتایا کہ ان کے خیال میں سکے بہت مہنگے ہیں

انہوں نے کہا ”ہم اس رقم کے متحمل بھی نہیں ہو سکتے۔ اٹھارہ سو امریکی ڈالر بہت زیادہ ہے۔ یہاں تک کہ ایک سو امریکی ڈالر حاصل کرنا بھی بہت مشکل ہے۔ آپ صرف سرکاری ملازمین کو ملنے والی تنخواہ دیکھیں یہ بہت کم ہے۔ تو دوسروں کے لیے، مطلب لوگوں کی اکثریت کے لیے، میں سمجھتا ہوں کہ ان سکوں کا حصول ان کے لیے بہت مشکل ہو جائے گا“

ایک اور شہری ایونز موٹما نے افراط زر کم کرنے کی حکومت کی صلاحیت کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کیا

انہوں نے کہا ”لوگوں کے پاس اپنی بچت ختم ہو چکی ہے۔ جس سے بہت زیادہ بدعنوانی میں اضافہ ہوا ہے لہذا یہ سونا ایک معمہ ہے کہ وہ مسائل کو کیسے حل کرے گا“

جنوبی افریقہ کے اس ملک میں بڑھتی ہوئی افراط زر کی وجہ سے پہلے ہی اشیا کی قلت سے دوچار آبادی پر دباؤ بڑھ رہا ہے، اور برسوں پہلے رہنما رابرٹ موگابے کے تقریباً چار دہائیوں کے دور حکومت میں معاشی انتشار کی یادیں تازہ ہو گئی ہیں

جون میں افراط زر تقریباً 192 فیصد سالانہ تک پہنچ گئی جس نے صدر ایمرسن منگاگاوا کی معیشت کو دوبارہ بحال کرنے کی کوششوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے

زمبابوے نے 2009 میں افراط زر سے تباہ ہونے والے اپنے ڈالر کو چھوڑ دیا تھا اور اس کی بجائے غیر ملکی کرنسیوں کو استعمال کرنے کا انتخاب کیا تھا جن میں زیادہ تر امریکی ڈالر تھا

حکومت نے 2019 میں دوبارہ مقامی کرنسی کو متعارف کرایا تھا لیکن اس کی قدر تیزی سے دوبارہ ختم ہو رہی ہے۔

Tags:

Gold CoinGold Coin CurrencyZimbabwe
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

کورونا چینی شہر وہان سے شروع ہوا، دو نئی تحقیقات

Next

بلوچستان: امداد کے منتظر سیلابی پانی میں محصور بلوچ دیہاتی اور مسافر

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme