Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینکالم

زندگی تاحیات چلتی ہے..

By Akhtar Rasool
جنوری 9, 2022 3 Min Read
0

اَسی برس سے اوپر کے کسی بھی دیسی بزرگ کے ساتھ گھڑی دو گھڑی حال احوال کریں۔ گفتگو کے ساتویں منٹ میں وہ ایک جملہ ضرور دہرائے گا کہ ’انگریز کا دور اچھا تھا۔ انصاف تھا۔ نظام تھا۔‘

گویا اس بزرگ کے نظریے سے نوآبادیاتی دور کا انصاف و انتظام، آزادی کے نام پر رچنے والی طوائف الملوکی سے کہیں بہتر تھا

پس ثابت ہوا کہ ریاستی ترجمان بھلے تا قیامت ’ہم آزاد ہیں اور ہم ایک ہیں‘ کی رٹ لگاتا رہے، مگر رٹے سے تو حقیقت نہیں بدلتی

ریاست کا من بھاتا بیانیہ ہے کہ سب پاکستانی خود کو بلا تفریق صرف پاکستانی سمجھیں اور اردو بولیں

یہ ہدف بہت آسانی سے اگلے دس برس میں حاصل ہو سکتا ہے، اگر ریاست بھی عام آدمی کی سندھیت، پنجابیت، پشتونیت، سرائیکیت، بلوچیت یا دیگر نسلی و لسانی و علاقائی شناختوں کا بنیادی احترام کرنا سیکھ لے یا ان شناختوں کو قومی شناختی کارڈ کے ساتھ ساتھ اس سے نصف عزت ہی عطا کر دے، جتنی وہ موہن جو دڑو، کے ٹو اور مینارِ پاکستان کو دیتی ہے

ہمیں ایک مثالی وفاقی ریاست بننے کا بچپن سے شوق ہے مگر ہم کتنی آسانی سے بھول جاتے ہیں کہ احترامِ آفاقیت سے ہی مثالی وفاقیت پیدا ہو سکتی ہے مگر وفاقیت آفاقیت کو جنم نہیں دے سکتی

ریاست کب سمجھے گی کہ علاقوں، قوموں اور زبانوں کا بالرضا اشتراک ہی ریاست پیدا کرتا ہے۔ ان علاقوں، قوموں اور زبانوں کو لگاتار حب الوطنی کے معنی سمجھانا ایسے ہے، جیسے پیٹ سے پیدا ہونے والا بچہ ہوش سنبھالتے ہی ماں سے کہے کہ میں تیری حفاظت کروں گا

ریاست چاہتی ہے کہ عام شہری ہر طرح کی انتہا پسندی مسترد کر کے مذہب کی آفاقی اقدار اپنائے

عام آدمی کبھی بھی انتہا پسند نہیں ہوتا۔ ہم نے تو یہی سنا ہے کہ جو حکمران کا نظریہ ہوتا ہے، وہی بتدریج رعایا کا مذہب بن جاتا ہے

ریاست جھوٹ کو نوازے گی اور سچ کو سزا دے گی تو قوم بھی راتوں رات منافق بن جائے گی۔ ریاست سائنسی سوچ اپنائے گی تو فرد بھی اپنا دماغ لڑانے کی جانب مائل ہونے لگے گا۔ ریاست عسکریت کی پیٹھ پر ہاتھ رکھے گی تو بچہ بھی کھلونوں میں پلاسٹک کی بندوق یا چوبی تلوار پسند کرنے لگے گا

ریاست اشرافیہ کے ساتھ ساتھ مفلوک الحال کو بھی یاد رکھے گی تو عام آدمی بھی خدا ترسی کی طرف منقلب ہونے لگے گا۔ ریاست ہر عقیدے کا احترام کرے گی تو عام آدمی بھی وسیع المشرب ہوتا چلا جائے گا۔ ریاست اگر کسی ایک فرقے یا گروہ یا فقہہ کا ہاتھ پکڑے گی تو عام آدمی بھی ہر دوسرے نظریے اور فرقے کو سنگساری نگاہوں سے دیکھنا شروع کر دے گا

ریاست کا خواب ہے کہ جمہوریت پھلے پھولے، سب آئین کے مطابق چلیں، عدالتیں تیز رفتار انصاف کریں، عام آدمی کی عزتِ نفس مجروح نہ ہو۔ خواب تو بہت اچھا ہے مگر مجھے اسرار الحق مجاز سے منسوب یہ بات یاد آ رہی ہے کہ ”ہندوستان میں انقلاب کب کا آ چکا ہوتا، تاہم راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ خود کیمونسٹ پارٹی ہے“

ریاست چاہتی ہے لوگ ایمانداری سے ٹیکس دیں مگر اس کا جواب خود ریاست کے پاس بھی نہیں کہ جو ٹیکس جمع ہوتا بھی ہے وہ کہاں جاتا ہے اور جو ٹیکس دیتا ہے اس سے کیوں نہیں پوچھا جاتا کہ تیرا ٹیکس ریاست کہاں خرچ کرے

دفاعی ضرورت کے لیے جدید ٹینک ضرور چاہیے مگر مہنگے سے مہنگا ٹینک بھی گلی پکی نہیں کر سکتا اور جنگیں تاحیات نہیں چلتیں۔ زندگی البتہ تاحیات چلتی ہے

پاکستان کو ناقابلِ تسخیر ایٹمی قوت ضرور بننا چاہیے مگر روٹی بھی پندرہ روپے کی نہیں ملنی چاہیے

یہ خواب دیکھنا ریاست کا حق ہے کہ پاکستان اگلے دس برس میں معاشی ٹائیگر بن کر ابھرے۔ اس سے پہلے کتے کے کاٹے کی ویکسین مقامی طور پر تیار کرنے کا ہدف حاصل کرنے میں بھی کوئی برائی نہیں

ریاست کا خواب ہے کہ جو بہترین پاکستانی دماغ بیرونِ ملک منتقل ہو گئے ہیں، وہ وطن واپس آ کر اس کی ترقی میں ہاتھ بٹائیں۔ کیا ہی اچھا ہو کہ ریاست جبری لاپتگان کو بھی کچھ ایسی ہی پیشکش کرے

ریاست کا خواب ہے کہ پاکستان اربوں ڈالر سیاحت سے کمائے۔ بھلا کون اس خواب کا حمایتی نہ ہوگا

تو پھر آیے اس کی ابتدا برفباری میں بند ہونے والے راستے کھولنے کے لیے پہلے سویلین بلڈوزر کی خریداری سے کر لیتے ہیں!

حوالہ : بی بی سی اردو

Tags:

BritishJusticeLife CircleMissing PersonsPakistansubcontinent
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

کیا تحریک لبیک پنجاب میں ’پندرہ سے پچیس‘ نشستیں لے سکتی ہے؟

Next

ہر چیز مہنگی، سگریٹ کیوں نہیں؟ آئی ایم ایف ہر چیز پر ٹیکس لگوا رہی، لیکن صرف سگریٹ پر نہیں!

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme