Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینتعلیم و صحتخبریں

زندگی گزارنے کا صدیوں پرانا انداز ،کیا دماغی امراض سےبچاتا ہے۔؟

By Akhtar Rasool
مارچ 15, 2022 2 Min Read
0

واشنگٹن ڈی سی: امریکی نفسیاتی و اعصابی ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ اگر ہم اجتماعی طور پر جدید طرزِ حیات چھوڑ کر، زندگی گزارنے کا صدیوں پرانا انداز اختیار کرلیں تو بیشتر نفسیاتی بیماریوں سے ہمارا پیچھا چھوٹ جائے گا

یہ بات انہوں نے ایمیزون کے گھنٹے جنگلات میں رہنے والے قبائل پر ایک تحقیق کے بعد کہی ہے جو آج بھی اسی طرح سے زندگی گزار رہے ہیں کہ جیسی وہ صدیوں پہلے گزارا کرتے تھے

واضح رہے کہ اب تک نفسیاتی ماہرین میں یہ بحث جاری ہے کہ مختلف دماغی، نفسیاتی اور اعصابی بیماریوں مثلاً ڈپریشن اور ڈیمنشیا میں ہمارے طرزِ حیات  کا کوئی کردار ہے یا نہیں۔
جدیدیت پسند ماہرین کا کہنا تھا کہ اگر لائف اسٹائل اور دماغی امراض میں کوئی تعلق ہے تو اس کا کوئی ثبوت بھی ہونا چاہیے

ایمیزون میں تحقیق سے یہ ثبوت بھی مل گیا ہے، جہاں سے معلوم ہوا ہے کہ ان جنگلات میں صدیوں پرانے طرزِ حیات پر رہنے والے لوگوں میں ڈیمنشیا کی شرح دنیا میں سب سے کم (تقریباً 1 فیصد) ہے

دیگر دماغی اور اعصابی بیماریوں کا معاملہ بھی اس سے کچھ مختلف محسوس نہیں ہوتا

واضح رہے کہ دیگر امراض کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں ڈیمنشیا کے مریض بھی بڑھتے جارہے ہیں۔ سرِدست ڈیمنشیا کے 5 کروڑ 50 لاکھ مریض ریکارڈ پر ہیں جبکہ ممکنہ طور پر یہ تعداد کہیں زیادہ ہوسکتی ہے

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر مناسب اقدامات نہ کیے گئے تو 2030 تک ڈیمنشیا کے مریضوں کی عالمی تعداد 8 کروڑ، جبکہ 2050 تک 14 کروڑ ہوسکتی ہے

ماہرین کے مطابق، 60 سال سے زیادہ عمر کے تقریباً 25 فیصد بزرگوں کو ڈیمنشیا ہوسکتا ہے۔ امریکا میں 65 سال یا زیادہ عمر کے 11 فیصد افراد کو ڈیمنشیا ہے، لیکن ایمیزون کے پسماندہ قبائل میں یہ شرح صرف 1 فیصد دیکھی گئی ہے

اس مشاہدے سے تصدیق ہوئی ہے کہ جدید زمانے کا طرزِ حیات جسم کے ساتھ ساتھ دماغ کےلیے بھی خطرناک ہے

یہ نتیجہ ایک طویل تحقیق کی ابتداء ہے کیونکہ ابھی یہ جاننا باقی ہے کہ آخر وہ کون کونسے عوامل ہیں جو ڈیمنشیا اور دوسری دماغی/ نفسیاتی بیماریوں سے بچانے میں خصوصی کردار ادا کرتے ہیں

بحوالہ:  ریسرچ جرنل ’’الزائیمرز اینڈ ڈیمنشیا‘‘ 

Tags:

AlzheimerAlzheimer'sAlzheimer's and dementiaAmazon ForestDementiaMental illnessNative AmericanNative American LifestyleOld life Style
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

بھارتی ریاست کرناٹک کے ہائی کورٹ کا طالبات کے حجاب پر پابندی کو برقرار رکھنے کا فیصلہ

Next

یوکرین بحران: ترک صدر ایردوان اور جرمن چانسلر شولس کی ملاقات

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme