Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینکالم

سری پائے یا ایپل پائے؟

By Akhtar Rasool
اکتوبر 24, 2023 3 Min Read
0

دفتر جاتے ہوئے روز ایک کچرے کا پلاٹ راستے میں آتا ہے۔ ایک دن وہ پلاٹ صاف نظر آیا اور ساتھ والی دیوار پر لکھی ایک تحریر نظر سے گزری، لکھا تھا کہ:

’کچرا ڈان منا ہے۔‘

میں نے سوچا شکر ہے، ملتان میں بھی انڈر ورلڈ کا اثرورسوخ بڑھا ہے اور اب کچرا پھیلنے کا مسئلہ ختم ہوجائے گا۔ کچھ دن بعد اس پلاٹ پر کچرا معمول کے مطابق بڑھنے لگا اور صفائی ندارد۔۔ حیرت ہوئی کہ ’منا بھائی‘ کہاں غائب ہیں اور اپنے کچرے کی سلطنت کو بے یار و مددگار کیوں چھوڑ رکھا ہے۔

ایک بار پھر غور سے ’نوشتہ دیوار‘ پڑھا تو سمجھ آئی کہ یہ ’کچرا ڈالنا منع ہے‘ لکھنے کی کوشش کی گئی تھی۔ پس ثابت ہوا کہ جس چیز سے منع کیا جائے وہ تو ہمارے یہاں ہو کر ہی رہتی ہے، چنانچہ کچرا وہیں موجود ہے اور ’ڈان‘ لاپتا ہے۔

میں نے حساب لگایا ہے کہ اکثر لوگ جیسے کوئی لفظ سنتے یا سمجھتے ہیں، اسے ویسے ہی بولنا اور لکھنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس کی زندہ اور ’تاریک‘ مثال مجھے سعودی عرب کے شہر جدہ کے ہوائی اڈے پر نظر آئی۔ پرواز کی آمد کے بعد جہاز کے عملے کو جس سیکیورٹی چیک سے گزرنا ہوتا ہے، اس کے اوپر انگریزی میں ’CREW‘ لکھا ہوتا ہے۔ کچھ سال پہلے جدہ آمد پر جب میں سیکیورٹی چیک پر پہنچا تو وہاں ایک نئی تختی لگی ہوئی تھی، جس پر ’CROW‘ لکھا ہوا تھا اور دنیا بھر سے آئے ہوئے جہازوں کا عملہ وہیں سے گزر رہا تھا۔ گمان غالب ہے کہ کثرت استعمال کی وجہ سے عربی نابغے کریو کا ’ی‘ کھا کر اسے ’کرو‘ بنا بیٹھے تھے۔

صورتحال بڑی مضحکہ خیز ہوجاتی تھی، جب بچپن میں ملا کر لکھے گئے الفاظ سمجھ نہیں آتے تھے اور سونے پر سہاگے کا تڑکا اس وقت لگتا تھا جب انگریزی الفاظ کو اردو میں پڑھنا پڑتا تھا۔ ایک مرتبہ عید سے پہلے سینما پر لگا ایک فلم کا پوسٹر پڑھنے کا اتفاق ہوا، جس پر لکھا تھا:

’عید کیدن سے شاندار افتتاح پورے سرکٹ میں‘۔

سرکٹ تک تو میں بعد میں پہنچا کیونکہ میں ’عید کیدن‘ میں بری طرح پھنس گیا تھا۔ سوچا کہ عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ تو ٹھیک ہے یہ ’کیدن‘ کون سی عید ہے؟ ابو سے پوچھا تو جواب میں مجھے ایک قہقہہ رسید کرتے ہوئے ’عید کے دن سے‘ کو توڑ کر سمجھایا۔ اب اس میں میرا کیا قصور۔۔

اسی طرح ’این این بیکرز‘ کے نام سے ملتان میں ایک بیکری تھی۔ کوئی من چلا یا من جلا بیکری کے بورڈ سے شروع کا ایک الف اتار کر لے گیا۔ اب وہ بیکری ’ین ا ین‘ بیکرز (بہ وزن ’دھنادھن‘) بن چکی تھی اور اسکول میں میرے دوست نے یہی نام مجھے بتایا کیونکہ اس کا گھر اس بیکری سے قریب تھا۔ جب میں سائیکل پر پہلی مرتبہ اس کے گھر گیا تو ’ین ا ین‘ بیکری ڈھونڈھتے ہوئے پہنچا جو مجھے راستے میں مل بھی گئی۔

ماشااللّٰہ سے میرا بیٹا بھی بالکل میرے جیسا نکلا ہے۔ ایک دعوت میں ’پائے‘ کا شور سن کر میرے برابر آ بیٹھا کہ بابا مجھے بھی پائے دیں۔ میں نے سالن کا ڈونگا اس کے آگے بڑھایا تو کہنے لگا یہ کیا ہے؟ میں نے کہا بیٹا پائے ہیں، کھاؤ۔۔ کھسیانا ہوکر اٹھ کھڑا ہوا اور واپس جاتے ہوئے کہنے لگا ’وہ میں سمجھا تھا کہ ایپل پائے ہے۔‘

میرے بہت سے علاقائی زبان بولنے والے دوست جب اردو یا انگریزی میں بات کرتے ہیں تو بعض اوقات الفاظ سمجھنے میں مشکل ہوجاتی ہے۔ ایک دوست ملنے آیا تو ساتھ اس کا کزن بھی تھا۔ اس نے پہلی مرتبہ لندن کے لیے سفر کرنا تھا تو کچھ معلومات لینے آیا تھا۔ اس نے بتایا کہ ’میں پہلی مرتبہ جارہا ہوں، آپ گئے ہیں؟‘

لیکن ’گئے‘ میں ’ء‘ لگانا بھول گیا۔

میں نے دوست سے احتجاج کیا کہ جنسی ترجیحات جانچنے سے گریز کیا جائے نتیجتاً ’ء‘ لگا کر تلافی کی گئی۔ پھر موضوع بدلنے کو کہنے لگے:

آپ کی کوسٹ (کاسٹ/ ذات) کیا ہے؟

ابھی سوال سمجھنے ہی لگا تھا کہ انہوں نے وضاحت کی کہ ’بھئی جیسے ہم پیچھے سے خان ہیں اور آپ‘؟ میں نے دوست کی طرف دیکھا تو وہ پہلے ہی شرمندگی سے پراٹھے جیسا منہ نکالے آنکھوں ہی آنکھوں میں معافی کا طلب گار ہوکر میری جانب دیکھ رہا تھا۔ میں نے جواب دینے کے بجائے آگا پیچھا سنبھالا اور چائے بنانے کے لیے کچن کی راہ لی۔

بشکریہ: ڈان نیوز

Tags:

amazon vs apple smart homeandroid or iosandroid or iphoneandroid or iphone which is betterandroid vs appleandroid vs apple usersAppleApple Iphoneapple or androidapple or android which is betterapple or googleapple shortcutsapple siriapple supportapple vs androidapple watchgoogle vs appleios 15 siriios sirisiri ios 15siri ios15siri or alexasiri or google assistant which is bettertwo siris talking to each other.
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط62)

Next

نگران پنجاب حکومت کا العزیزیہ کیس میں نواز شریف کی سزا معطل کرنے کا حیران کن فیصلہ!

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme