سعودی فوجی اڈے پر میزائل اور ڈرون حملہ، 12 امریکی اہلکار زخمی؛ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں تیزی

سنگت ڈیسک

سعودی عرب میں امریکی فوجی اڈے پر حملہ، درجن بھر اہلکار زخمی

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران سعودی عرب میں قائم ایک اہم امریکی فوجی اڈے پر حملے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جن کے مطابق کم از کم 12 امریکی فوجی زخمی ہوئے ہیں۔ امریکی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ یہ حملہ میزائلوں اور بغیر پائلٹ طیاروں (ڈرونز) کے ذریعے کیا گیا، جس سے نہ صرف فوجی اہلکار متاثر ہوئے بلکہ اڈے پر موجود کچھ فضائی اثاثوں کو بھی نقصان پہنچا۔

اطلاعات کے مطابق حملہ اُس وقت کیا گیا جب امریکی فوجی ایک عمارت کے اندر موجود تھے۔ زخمی ہونے والوں میں سے دو اہلکاروں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے، جبکہ دیگر کو بھی شدید نوعیت کے زخم آئے ہیں۔ طبی امداد فوری طور پر فراہم کی گئی اور بعض زخمیوں کو خصوصی علاج کے لیے دیگر مقامات پر منتقل کیا گیا۔

تاحال امریکی محکمہ دفاع اور خطے میں موجود امریکی مرکزی کمان کی جانب سے اس واقعے پر باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا، تاہم دفاعی حلقوں میں اس حملے کو خطے کی بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کا خطرناک اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔

صدر ٹرمپ کا نیٹو پر سخت مؤقف

دوسری جانب امریکہ کے صدر صدر ٹرمپ نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایک بار پھر مغربی فوجی اتحاد NATO پر تنقید کی ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ اگر اتحادی ممالک اہم مواقع پر امریکہ کا ساتھ نہیں دیتے تو واشنگٹن بھی مستقبل میں اُن کی دفاعی مدد کا پابند نہیں ہوگا۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ہر سال اتحادی اتحاد پر بھاری اخراجات کرتا ہے، مگر جب اہم بحری گزرگاہوں یا حساس علاقوں کے تحفظ کی بات آتی ہے تو اتحادیوں کا کردار نمایاں نظر نہیں آتا۔ اُن کے مطابق یہ صورتِ حال قابلِ قبول نہیں اور امریکہ کو اپنی ترجیحات پر نظرِ ثانی کرنی چاہیے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ صدر کے یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر کے اطراف سکیورٹی خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے، اور عالمی تجارت کے لیے ان راستوں کی اہمیت مسلمہ ہے۔

حوثی قیادت کا انتباہ: ایران کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں تو عملی قدم اٹھائیں گے

یمن میں سرگرم حوثی گروہ، جو خود کو Ansar Allah کہتا ہے، نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری رہیں تو وہ بھی اس تنازع میں شامل ہو سکتے ہیں۔ گروپ کے ترجمان نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ بحیرہ احمر کو کسی بھی مسلم ملک کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں طاقتوں کے درمیان تناؤ میں تیزی آئی ہوئی ہے۔ حوثی قیادت کا کہنا ہے کہ وہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ کھڑے ہوں گے اور اگر ضرورت پڑی تو عملی اقدامات بھی کریں گے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یمن کی یہ تنظیم براہِ راست جنگ میں شامل ہوتی ہے تو بحیرہ احمر کی گزرگاہ عالمی تجارت کے لیے مزید غیر محفوظ ہو سکتی ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت تک پھیل سکتے ہیں۔


یہ بھی پڑھیں:

مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی کے تناظر میں ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بیانات اور دعوؤں کا تبادلہ تیزی اختیار کر گیا ہے

ٹرمپ پالیسیوں کے بعد خلیجی ریاستوں کی سکیورٹی پر سوالات، دبئی اور قطر کا ’محفوظ جنت‘ کا تصور متاثر


ایران کا سخت ردِعمل اور انتباہ

ایران میں حالیہ حملوں کے بعد پاسدارانِ انقلاب کے ایک اعلیٰ کمانڈر نے سوشل میڈیا پر سخت لہجے میں بیان جاری کیا ہے کہ اب ردِعمل روایتی انداز تک محدود نہیں رہے گا۔ اُنہوں نے امریکہ اور اسرائیل سے منسلک کمپنیوں کے ملازمین کو خبردار کیا کہ وہ اپنی حفاظت کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ملک کی صنعتی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے، جن میں اصفہان اور خوزستان کے بڑے صنعتی مراکز شامل ہیں۔ سرکاری اطلاعات کے مطابق ان حملوں میں متعدد افراد زخمی ہوئے جبکہ ایک شخص جان کی بازی ہار گیا۔

ایران کے وزیر خارجہ نے بھی سخت الفاظ میں کہا ہے کہ حملوں کی بھاری قیمت وصول کی جائے گی۔ ان بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران اپنی پوزیشن پر سختی سے قائم ہے اور کسی بھی مزید کارروائی کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔

واشنگٹن اور تہران کے درمیان پسِ پردہ رابطے، سفارتی پیش رفت کے امکانات زیرِ غور

صدر ٹرمپ نے فلوریڈا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان رابطے جاری ہیں۔ تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ بات چیت ابھی ابتدائی اور غیر رسمی مرحلے میں ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ رابطے براہِ راست نہیں بلکہ ثالث ممالک کے ذریعے ہو رہے ہیں، جن میں پاکستان، ترکی اور مصر شامل ہو سکتے ہیں۔ ممکنہ طور پر اگر باقاعدہ مذاکرات شروع ہوتے ہیں تو ان کا انعقاد اسلام آباد، استنبول یا قاہرہ میں کیا جا سکتا ہے۔

تاہم سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان بدستور موجود ہے، اور فی الحال پیش کی جانے والی تجاویز زیادہ تر سخت شرائط پر مبنی ہیں۔ مزید برآں، ایران کے اندرونی حالات اور قیادت کو درپیش چیلنجز بھی فیصلہ سازی کے عمل کو متاثر کر رہے ہیں۔

خطے کا مستقبل: کشیدگی یا سفارتکاری؟

سعودی عرب میں امریکی فوجی اڈے پر حملہ، یمن کی دھمکیاں، ایران کا سخت ردِعمل اور امریکہ کے اندر اتحادیوں سے متعلق بحث  یہ سب عوامل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔

اگر سفارتی کوششیں کامیاب ہو جاتی ہیں تو ممکن ہے کہ کشیدگی میں کمی آئے، لیکن اگر حملوں اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہا تو یہ تنازع وسیع تر علاقائی جنگ میں بھی تبدیل ہو سکتا ہے۔ عالمی برادری کی نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ آنے والے دنوں میں طاقت کا توازن کس سمت جاتا ہے — میدانِ جنگ کی طرف یا مذاکرات کی میز کی طرف۔

یہ بھی پڑھیں:


آبنائے ہرمز پر جنگ کا خطرہ، ایران کی امریکہ کو کھلی دھمکی

 

ایران جنگ کے اخراجات میں اضافہ، پینٹاگون کا وائٹ ہاؤس سے 200 ارب ڈالر سے زائد فنڈز کا مطالبہ

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button