Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

فیسبک پر جاسوسی کرنے والے ’کرائے کے سائبر فوجیوں‘ پر پابندی

By Akhtar Rasool
دسمبر 17, 2021 3 Min Read
0

کراچی – معروف سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیسبک کی مالک کمپنی میٹا نے جاسوسی کے لیے فیسبک کا استعمال کرنے والے ’کرائے کے سائبر فوجیوں‘ پر پابندی لگاتے ہوئے پوری دنیا میں ان کے نشانے پر آئے ہوئے کارکنوں، حکومتی مخالفین اور صحافیوں سمیت تقریباً پچاس ہزار افراد کو خبردار کرنا شروع کر دیا ہے

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق میٹا نے ڈیڑھ ہزار فی بک گروپوں اور ان سے منسلک انسٹاگرام اکاؤنٹس کو ڈیلیٹ کیا ہے، جو لوگوں کی معلومات چرا کر اپنے ہدف کو نشانہ بنانے یا ہیک کرنے کے لیے استعمال کرتے تھے

کمپنی نے سو سے زائد ممالک میں تقریباً پچاس ہزار افراد کو بھی خبردار کرنا شروع کر دیا ہے، جن کے بارے میں اس کا خیال ہے کہ مذکورہ فرمز نے انہیں نشانہ بنایا ہوگا۔ ان میں اسرائیل کی بھی کچھ فرمز شامل ہیں، جو سائبر نگرانی کے کاروبار میں سرکردہ نام ہیں

میٹا میں سکیورٹی پالیسی کے سربراہ نتھانیل گلیچر نے پریس بریفنگ کے دوران کہا: ’ ایسا لگتا ہے کہ نگرانی کے لیے کرائے کی صنعت، زیادہ بولی لگانے والے کی طرف سے ہدف کو بلا تفریق نشانہ بناتی ہے۔‘

فیسبک کی مالک کمپنی نے کہا کہ اس نے کوب ویبز ٹیکنالوجیز، کوگنیٹ، بلیک کیوب اور بلیو ہاک سی آئی سے منسلک اکاؤنٹس ڈیلیٹ کر دیئے ہیں- یہ سب اسرائیل میں تھے یا وہاں سے بنائے گئے تھے

میٹا نے بھارت میں قائم بیل ٹروکس، شمالی مقدونیہ کی فرم سائٹروکس اور چین سے ایک نامعلوم شخص کے ساتھ منسلک اکاؤنٹ کو بھی ہٹا دیا ہے

جمعرات کو کینیڈین سائبر سکیورٹی تنظیم سٹیزن لیب کے محققین نے شمالی مقدونیہ کی فرم سائٹروکس پر مصری حزب اختلاف کی شخصیت ایمن نور کا فون ہیک کرنے کے لیے استعمال ہونے والا سپائی ویئر تیار کرکے فروخت کرنے کا الزام لگایا تھا

میٹا کے ایک بیان میں کہا گیا ہے ’کرائے کے یہ سائبر فوجی اکثر دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کی خدمات صرف مجرموں اور دہشت گردوں کو نشانہ بناتی ہیں۔‘

مزید کہا گیا کہ ’درحقیقت بلا تفریق نشانہ بنایا جاتا ہے اور اس میں صحافی، منحرف، آمرانہ حکومتوں کے ناقدین، حزب اختلاف کے ارکان کے اہل خانہ اور انسانی حقوق کے کارکن شامل ہیں۔ ہم نے ان پر اپنی سروسز کے استعمال کی پابندی عائد کر دی ہے۔‘

دوسری جانب بلیک کیوب نے اے ایف پی کو دیئے گئے ایک بیان میں کسی بھی غلط کام یا یہاں تک کہ ’سائبر ورلڈ‘ میں کام کرنے کی تردید کی ہے

انہوں نے کہا کہ بلیک کیوب رشوت ستانی ثابت کرنے، بدعنوانی سے پردہ اٹھانے اور چوری شدہ اثاثوں میں کروڑوں کی وصولی میں دنیا کی معروف قانونی فرموں کے ساتھ کام کرتی ہے

بلیک کیوب کا کہنا ہے کہ فرم اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ وہ مقامی قوانین کی تعمیل کرے۔

’ویب انٹیلی جنس سروسز‘ فروخت کرنے والی فرمز عوامی طور پر دستیاب آن لائن ذرائع جیسے کہ خبروں اور وکی پیڈیا سے معلومات اکٹھا کرکے نگرانی کا عمل شروع کرتی ہیں۔

میٹا کی تحقیقات کے مطابق اس کے بعد لوگوں کی پروفائلز سے معلومات حاصل کی جاتی ہیں اور مزید جاننے کے لیے، گروپوں یا بات چیت میں شامل ہونے کے لیے سوشل میڈیا سائٹس پر جعلی اکاؤنٹس بنائے جاتے ہیں

ایک اور حربہ یہ ہے کہ سوشل نیٹ ورک پر ہدف کا اعتماد حاصل کیا جائے اور پھر اس شخص کو دھوکہ دیا جائے کہ وہ ایک لنک یا فائل پر کلک کرے، جس کے ذریعے کوئی مخصوص سافٹ ویئر انسٹال ہو جاتا ہے اور پھر (ہدف) آن لائن ہونے کے لیے جو بھی ڈیوائس استعمال کرتا ہے، ہیکر اس سے معلومات چوری کر سکتا ہے

میٹا ٹیم کے مطابق اس طرح کی رسائی کے ساتھ ’کرائے کے یہ لوگ‘ ہدف کے فون یا کمپیوٹر سے ڈیٹا چوری کر سکتے ہیں اور ساتھ ہی خاموشی سے مائیکروفون، کیمرے اور ٹریکنگ کو فعال کرسکتے ہیں

میٹا کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کمپنی بلیو ہاک، بڑے پیمانے پر نگرانی کرنے اور مشکوک کوڈ انسٹال کرنے کے لیے جعلی اکاؤنٹس بنانے کی خدمات فراہم کرتی ہے

میٹا کے مطابق بلیو ہاک سے منسلک کچھ جعلی اکاؤنٹس نے اپنے آپ کو امریکہ میں فاکس نیوز اور اٹلی میں لا سٹمپا جیسے ذرائع ابلاغ کے صحافیوں کے طور پر پیش کیا

اگرچہ میٹا کی طرف سے یہ نہیں بتایا گیا کہ بے نام چینی آپریشن کون چلا رہا ہے، لیکن اس نے سرورز میں شامل نگرانی کے ٹول کی ’کمانڈ اینڈ کنٹرول‘ کا سراغ لگایا، جو بظاہر چین میں قانون نافذ کرنے والے حکام کے زیر استعمال تھا.

Tags:

Facebook hackers
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

کراچی میں اغوا برائے تاوان میں اعلیٰ تعلیم یافتہ سرکاری اہلکار ملوث نکلے!

Next

بینک الفلاح اور ACE  کی طرف سے کروڑوں روپے کے انعامات!

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme