Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںعالمی

سمندری سفر سے بچ کر نکلنے والے روہنگیا افراد کی داستان، باقی ماندہ شاید سمندر کی نذر ہو گئے ہوں۔۔۔

By Akhtar Rasool
دسمبر 29, 2022 3 Min Read
0

اقوام متحدہ کے ادارے برائے پناہ گزین (یو این ایچ سی آر) کے مطابق کئی ہفتوں کے تھکا دینے والے سمندری سفر کے بعد انڈونیشیا کے ساحل پر پہنچنے والے دو سو کے قریب روہنگیا پناہ گزینوں کو ہنگامی طبی امداد دی گئی ہے، جنہیں ماہی گیروں نے بچایا تھا

انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن (آئی او ایم) نے بھی تصدیق کی ہے کہ لکڑی کی ایک بوسیدہ کشتی پر سوار کم از کم پونے دو سو روہنگیا افراد پیر کو انڈونیشیا کے شمالی صوبے آچے کے ساحلی علاقے پر پہنچے تھے

چھتیس مردوں، اکتیس خواتین اور ایک سو سات بچوں پر مشتمل یہ گروپ ستاون مزید روہنگیا پناہ گزینوں کے آچے پہنچنے کے ایک دن بعد ساحل پر اترا

انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن نے بتایا: ’اس گروپ میں شامل افراد کی صحت بہت خراب تھی۔ ان میں سے بہت سے لوگ پانی کی کمی اور غذائی قلت کا شکار ہیں۔ آئی او ایم کی میڈیکل ٹیم فی الحال ان کا طبی معائنہ کر رہی ہے۔‘

انڈونیشیا کی نیشنل ریفیوجی ٹاسک فورس کے رکن ایروس شیدکی پوترا نے عرب نیوز کو بتایا کہ پناہ گزینوں کو فی الحال مقامی حکومت کی نگرانی میں رکھا جائے گا

انہوں نے مزید بتایا: ’اس کے بعد ہم انہیں ایک ایسے صوبے میں منتقل کر دیں گے جہاں پہلے ہی پناہ گزینوں کی بڑی تعداد رہائش پذیر ہے۔ آچے میں مہاجرین کو پناہ نہیں دی جاتی۔‘

گذشتہ ماہ نومبر کے اختتام پر بنگلہ دیش میں روہنگیا کمیونٹی کی سب سے بڑی بستی کاکس بازار کے ساحل سے کم از کم پانچ کشتیاں سینکڑوں پناہ گزینوں کو لے کر دوسرے ملکوں میں پناہ حاصل کرنے کی کوشش میں نکلی تھیں

154 مہاجرین کو لے جانے والی ایک کشتی کو ویتنام کی ایک آف شور کمپنی نے بچایا اور میانمار کی بحریہ کے حوالے کر دیا جب کہ 104 افراد کو لے جانے والی ایک اور کشتی کو سری لنکا کی بحریہ نے 18 دسمبر کو بچایا

اس سے قبل اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین نے کہا تھا کہ اسے غیر مصدقہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ 180 افراد کو لے جانے والی ایک کشتی ڈوب گئی ہے

بین الاقوامی تنظیمیں اور سماجی کارکن کئی ہفتوں سے خطے کے ممالک پر زور دے رہے ہیں کہ وہ سمندر میں پھنسے ہوئے پناہ گزینوں کو نکالیں لیکن مدد کے لیے متعدد اپیلوں کے باوجود کوئی سرکاری امداد نہیں بھیجی گئی

ستائیس سالہ خاتون ہاتامونیسا، جو پیر کو انڈونیشیا پہنچنے والی کشتی میں اپنی پانچ سالہ بیٹی کے ساتھ سوار تھیں، نے ایک ماہ سے زائد عرصے بعد منگل کو اپنے بھائی محمد رضوان خان سے پہلی بار بات کی

رضوان خان نے بتایا: ’ہمیں لگتا ہے کہ آج ہمیں ایک نئی دنیا مل گئی ہے۔ ہم ان کے چہرے دوبارہ دیکھ سکتے تھے۔ یہ واقعی ہم سب کے لیے خوشی کا لمحہ ہے۔‘

ان کی بیٹی کا ڈی ہائیڈریشن کے لیے علاج کیا جا رہا ہے کیوں کہ اس سفر کے دوران انہوں نے سمندر کا نمکین پانی پیا اور تیرہ دن تک کچھ نہیں کھایا تھا

27 دسمبر 2022 کی اس تصویر میں انڈونیشیا کے صوبہ آچے کے علاقے پیڈی میں اس کشتی کو دیکھا جاسکتا ہے، جس پر روہنگیا افراد سوار ہوکر پہنچے

ہاتامونیسا کے مطابق ان کی کشتی پر سوار بیس افراد ہلاک ہوگئے تھے، جن کی باقیات کو سمندر میں پھینک دیا گیا تھا

رضوان خان نے بتایا: ’انہیں لگا کہ شاید وہ بھی سمندر کے سفر میں مر جائیں گی۔ ان کو امید تھی کہ اگر وہ ملائیشیا جا سکتی ہیں تو وہاں ان کی بیٹیوں اور ان کے لیے بہتر مستقبل ہوگا۔‘

یاد رہے کہ 2017ع میں میانمار کی فوج کے وحشیانہ حملوں کے بعد ساڑھے سات لاکھ کے قریب روہنگیا مسلمان ہمسایہ ملک بنگلہ دیش فرار ہو گئے تھے۔ میانمار کے اس کریک ڈاؤن کو اقوام متحدہ نے نسل کشی کے مترادف قرار دیا تھا

گذشتہ پانچ سالوں سے ان پناہ گزینوں کی بڑی تعداد بنگلہ دیش کے کاکس بازار میں بے ہنگم اور کچھا کھچ بھرے کیمپوں میں رہائش پذیر ہے، لیکن انہیں یہاں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورت حال کا سامنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس صورت حال نے کچھ لوگوں کو بہتر زندگی کی امید میں سمندری راستے سے خطرناک سفر کرنے پر اکسایا۔

Tags:

#survivorblossoms of ashblossoms of ash full moviegenocide survivorhear the voice of myanmarHistoryholocaust survivorkurt messerschmidt holocaust survivorleo goldberger holocaust survivorRohingyarohingya genocidesurvivor kurt messerschmidtsurvivorsthe look of silencethe nationalu.s institute of peaceu.s. department of stateunited states institute of peaceuniversity of cambridgeuniversity of dublin
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

’بے بس خیالوں میں، ندیوں میں نالوں میں‘ کراچی بورڈ کے فزکس کے پرچے میں طالب علم نے علی ظفر کا گانا لکھ دیا

Next

پاکستان میں کون سی الیکٹرک بائیکس دستیاب ہیں اور کتنی قیمت میں؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme