Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینتعلیم و صحتخبریں

سندھ حکومت کا خواجہ سراؤں کے لیے پہلی تعلیمی پالیسی کا عندیہ

By Akhtar Rasool
جون 18, 2022 3 Min Read
0

سندھ حکومت کی جانب سے حال ہی میں خواجہ سراؤں کی تعلیم کے لیے خصوصی پالیسی کا اعلان کیا گیا ہے، جس کے تحت تمام رسمی و غیر رسمی اداروں میں اصلاحات کی جائیں گی اور ایک بہتر تعلیمی نظام وضع کیا جائے گا

یہ فیصلہ وزیر تعلیم سندھ سید سردار شاہ کی جانب سے خواجہ سرا کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والی تنظیموں پر مشتمل ایک وفد سے ملاقات کے بعد کیا گیا

وفد میں جینڈر انٹریکٹیو الائنس کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر بندیا رانا، پروگرام مینیجر زہرش خانزادی، سماجی کارکن شہزادی رائے اور ڈاکٹر سارہ گل شامل تھیں۔ ملاقات میں ٹرانس کمیونٹی کے نمائندگان کی جانب سے اپنے مطالبات وزیر تعلیم سندھ کے سامنے رکھے گئے

نئی ٹرانس جینڈر ایجوکشن پالیسی

اس پالیسی پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر تعلیم سندھ سید سردار شاہ نے بتایا کہ ”یہ پالیسی وسیع پیمانے پر خواجہ سرا کمیونٹی کی تعلیم اور ان سے متعلق معاشرتی تنگ نظری اور امتیازی رویوں کو تبدیل کرنے کے لیے ہوگی“

انہوں نے کہا ”اس پالیسی کےحوالے سے آئندہ ہونے والی اہم ملاقات میں خواجہ سرا کمیونٹی کی تمام اہم تنظیموں، سول سوسائٹی، سیاسی کارکن اور صحافی برداری کو شرکت کی دعوت دیں گے اور ان کی جانب سے رکھی جانے والی سفارشات اور مطالبات کو شامل کرکے ایک پالیسی بنائیں گے جو ٹرانس کمیونٹی کی فلاح و بہبود کے لیے پاکستان کی پہلی پالیسی ہوگی اور اس کی ابتدا صوبہ سندھ سے ہوگی“

ان کا کہنا تھا ”کام مکمل ہونے کے بعد وہ پالیسی کو سندھ کابینہ میں منظوری کے لیے پیش کریں گے“

پالیسی کے معاشرے پر اثرات سے متعلق سوال پر وزیر تعلیم سندھ کا کہنا تھا ”ہمیں سوچ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ باہمی تعاون کے بغیر تو کوئی معاشرہ آگے بڑھ ہی نہیں سکتا“

ان کا کہنا تھا ”معاشرے کی سوچ تبدیل کرنے کے لیے جنرل ٹیکسٹ میں نئی چیزیں شامل کی جائیں گی اور ٹرانس کمیونٹی کے لیے جو سلیبس ہوگا وہ بھی وہی ہوگا جو دوسروں کے لیے ہوگا“

انہوں نے کہا ”آئندہ ہماری جو کتابیں آئیں گی، ان میں یقیناً وہ مضمون شامل ہوگا جو معاشرے کو خواجہ سرا کمیونٹی کے حوالے سے حساس بھی کرے گا اور ان کو یہ پیغام دے گا کہ خواجہ سرا کمیونٹی کے ساتھ امتیازی سلوک نہ رکھا جائے“

وزیر تعلیم نے مزید کہا ”میری سوچ یہ ہے کہ ٹرانس کمیونٹی اور دیگر جینڈر کے بچے ایک ساتھ ایک ہی اسکول میں پڑھیں کیونکہ آگے جا کر جب وہ نوکریاں کریں گے تب بھی ان کو ساتھ ہی کام کرنا ہوگا۔ باقی ان کی مرضی ہے وہ جس طرح مناسب سمجھیں“

خواجہ سرا کمیونٹی کو درپیش نوکریوں کے مسئلے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سید سردار شاہ کا کہنا تھا کہ ’سندھ حکومت نے ٹرانس کمیونٹی کے لیے کوٹے کا اعلان کر رکھا ہے لیکن اس کوٹے پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہوگا کہ خواجہ سرا کمیونٹی کو 0.5 فیصد کے تحت نوکریاں فراہم کی جائیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایسا بالکل نہیں کہ وہ بس اس شرح تک ہی محدود رہیں۔ اگر وہ جنرل نشستوں پر بھی آنا چاہیں تو بالکل آسکتے ہیں

جینڈر انٹریکٹیو الائنس کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر بندیا رانا نے صوبائی حکومت کے اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”یہ اچھی بات ہے کہ پہلی مرتبہ پاکستان میں خواجہ سرا کمیونٹی کے لیے تعلیم میں کوٹہ ہوگا۔ اس پر جتنا جلدی عمل درآمد کیا جائے اتنا ہی مفید ہوگا“

انہوں نے کہا ”پڑھے لکھے خواجہ سرا ہوں گے تو وہ آگے جا کر نوکریاں کر سکتے ہیں“

خواجہ سرا کمیونٹی کو نوکریاں نہ ملنے کے حوالے سے جب بندیا رانا سے سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا ”ہم چاہتے ہیں وفاق اور سندھ حکومت دونوں ایک پالیسی تشکیل کریں جس کے تحت خواجہ سرا کمیونٹی کی تعلیم کے مطابق ان کو اچھےعہدے فراہم کیے جائیں“

انہو ں نے کہا ”جن خواجہ سراؤں کی تعلیم کم ہے، ان کو نچلے درجے کی سرکاری نوکریاں فراہم کی جائیں“

بندیا رانا کا کہنا تھا ”آج کل ان کو ای میلز موصول ہوتی ہیں کہ ہمارا فائیو اسٹار ہوٹل ہے یا تھری اسٹار ہوٹل ہے تو ہمیں اس کے لیے ایک بہتر انگریزی بولنے والا چاہیے، تو آج کل معیار بہت ہی بڑھ گیا ہے اور اس معیار پر پورا اترنے کے لیے یہ لازم ہے کہ انہیں اچھی انگریزی بولنا آئے“

Tags:

Education PoliciesSindhSindh GovernmentTransgender Education
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

فیٹف گرے لسٹ کی ابتدا سے انتہا تک مکمل روداد اور ملک میں چھڑی کریڈٹ کی جنگ

Next

ایک برس میں دس کروڑ لوگ اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے، اقوام متحدہ

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme