ملیر: زرعی زمینیں اور ثقافتی ورثہ خطرے میں
نام نہاد ”ترقی“ اپنا خراج بہت جلد درختوں اور جنگلی حیات کی سینکڑوں اقسام کو نگل کر وصول کرے گی۔ ان میں سے بعض نایاب اور مقامی اقسام ایسی ہیں جو صرف ملیر کے علاقے میں پائی جاتی ہیں اور جنہیں بالغ ہونے میں دہائیاں لگ جاتی ہیں۔ مزید برآں، مون سون کے موسم…
ملیر اور کارپوریٹ سامراج کی نئی یلغار
اگر ملیر کی تاریخ کو باریک بینی سے دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ یہ علاقہ آج بھی نوآبادیاتی کالونیل ازم کے دائرے میں سامراجی طاقتوں کی پیدا کردہ سازشی حالات سے گزر رہا ہے۔ برطانوی سامراج بظاہر تو اس سرزمین سے رخصت ہوگیا، لیکن درحقیقت اس نے اپنے دلالوں کو…
ایجوکیشن سٹی: تعلیم کے نام پر زمین ہتھیانے کا نیا سرمایہ دارانہ کھیل
کراچی کے ضلع ملیر میں ”ایجوکیشن سٹی“ کے نام پر ایک نیا کمرشل تعلیمی پروجیکٹ زیرِ تکمیل ہے۔ بظاہر یہ منصوبہ تعلیم کے فروغ کے لیے ایک مثبت اقدام دکھائی دیتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ سرمایہ دارانہ نظام کے تحت زمین کے حصول کا ایک اور باب بنتا جا رہا ہے۔ یہ…
انڈس ڈیلٹا: سمندر میں غرق ہوتا ایک ورثہ اور سندھو پر نئے کینال
پاکستان کے وسیع و عریض سندھ ڈیلٹا کے ایک چھوٹے سے ماہی گیری گاؤں داندو جیٹی میں ایک کشتی خالی کی جا رہی ہے، جبکہ دوسری سمندر کے لیے روانگی کے لیے تیار ہے۔ قریب کھڑی ایک کشتی سے سندھی لوک گلوکارہ فوزیہ سومرو کی آواز بلند ہو رہی ہے۔ پاکستان کے سب سے بڑے…
کراچی میں ماحولیاتی توازن بمقابلہ تعمیرات: فوٹوگرافر سلمان بلوچ سے مکالمہ
کراچی کا سب سے بڑا ضلع ملیر صدیوں سے مقامی سندھی اور بلوچ قبائل کا مسکن رہا ہے، جو ایک مشترکہ زرعی معاشرے کے طور پر ماحول پر انحصار کرتے تھے۔ تاہم، تیزی سے بڑھتی ہوئی شہری آبادی اور ترقیاتی منصوبے زمین، پانی اور جنگلی حیات کے لیے خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔…
قبائلی خونریزی
بالائی سندھ میں قبائلی دشمنیوں نے پورے علاقے کو میدانِ جنگ بنا دیا ہے، جس کے نتیجے میں سینکڑوں بے گناہ جانیں ضائع ہو چکی ہیں، اور قانون کی عملداری کی تشویشناک غیر موجودگی کھل کر سامنے آ چکی ہے۔ حال ہی میں کشمور اور گھوٹکی میں ساوند اور سندرانی قبائل کے…
ایجوکیشن سٹی میں آغا خان ہاسپٹل کی زہریلی ہوائیں
کوئی مانے یا نہ مانے ہمارے لہو سے ہماری قبروں پہ ’ترقی‘ کی عمارت تعمیر ہو رہی ہے، چاہے وہ پچھلے پچھتر سال سے کراچی شہر کا پھیلتا کنکریٹ کا جنگل ہو، جس میں کراچی کے انڈیجینئس لوگوں کو اپنی ہی زمینوں، گھروں سے بےدخل کیا گیا، ان پچھتر سالوں میں قبضہ مافیا و…
سندھ: سولہ برسوں میں ماحولیات کے بجٹ کا محض 40 فیصد خرچ ہو سکا!
ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث جنم لینے والے شدید موسمی حالات نے جہاں دنیا بھر میں اپنے منفی اثرات مرتب کیے ہیں، وہیں سندھ بھی اس سے مبرا نہیں ہے۔ دنیا بھر میں جنگی بنیادوں پر ماحولیاتی تبدیلیوں کی روک تھام کے اقدامات کیے جا رہے ہیں لیکن اس ضمن میں سندھ…