
امریکہ کے صدر Donald Trumpڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ امریکہ آئندہ دو سے تین ہفتوں میں ایران سے اپنی فوجی سرگرمیاں سمیٹ سکتا ہے، چاہے کوئی باضابطہ معاہدہ ہو یا نہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی کارروائی کا بنیادی مقصد ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا تھا اور واشنگٹن کے مطابق یہ ہدف بڑی حد تک حاصل کر لیا گیا ہے۔
دوسری جانب ایران کے صدر Masoud Pezeshkian مسعود پژشکان نے کہا ہے کہ ایران جنگ کے خاتمے کا خواہاں ہے، تاہم اس کے لیے کچھ واضح شرائط ہیں جن میں مستقبل میں حملوں کی روک تھام اور نقصانات کا ازالہ شامل ہے۔
ادھر امریکی وزیر خارجہ Marco Rubio مارک روبیو اور ایرانی وزیر خارجہ Abbas Araghchi عباس عراقچی کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات نہیں بلکہ پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔
امریکی مؤقف: "ہمارا کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے”
اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کا مقصد ایران کی جوہری صلاحیت کو اس حد تک محدود کرنا تھا کہ وہ برسوں تک جوہری ہتھیار بنانے کے قابل نہ رہے۔ ان کے مطابق امریکی اور اتحادی حملوں نے ایران کے دفاعی ڈھانچے اور عسکری تنصیبات کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکی افواج کی واپسی کا انحصار کسی تحریری معاہدے پر نہیں بلکہ زمینی حقائق پر ہو گا۔ ان کے بقول جب واشنگٹن کو یقین ہو جائے گا کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا تو امریکہ اپنی موجودگی ختم کر دے گا۔
انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایران اس وقت کمزور پوزیشن میں ہے اور جنگ کے خاتمے کے لیے آمادگی ظاہر کر رہا ہے، تاہم ایرانی حکام اس دعوے کی تردید کرتے رہے ہیں۔
ایرانی ردعمل: جنگ کا خاتمہ، مگر شرائط کے ساتھ
اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کا مقصد ایران کی جوہری صلاحیت کو اس حد تک محدود کرنا تھا کہ وہ برسوں تک جوہری ہتھیار بنانے کے قابل نہ رہے۔ ان کے مطابق امریکی اور اتحادی حملوں نے ایران کے دفاعی ڈھانچے اور عسکری تنصیبات کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکی افواج کی واپسی کا انحصار کسی تحریری معاہدے پر نہیں بلکہ زمینی حقائق پر ہو گا۔ ان کے بقول جب واشنگٹن کو یقین ہو جائے گا کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا تو امریکہ اپنی موجودگی ختم کر دے گا۔
انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایران اس وقت کمزور پوزیشن میں ہے اور جنگ کے خاتمے کے لیے آمادگی ظاہر کر رہا ہے، تاہم ایرانی حکام اس دعوے کی تردید کرتے رہے ہیں۔
ایرانی ردعمل: جنگ کا خاتمہ، مگر شرائط کے ساتھ
ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے ایک حالیہ بیان میں کہا کہ ایران تصادم کے خاتمے کے لیے سنجیدہ ہے، لیکن وہ کسی عارضی یا غیر واضح بندوبست کو قبول نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق ایران کی ترجیح مکمل اور پائیدار جنگ بندی ہے جس میں خطے میں دوبارہ حملوں کی ضمانت شامل ہو۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے علاقائی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ اس وقت باضابطہ مذاکرات نہیں ہو رہے بلکہ پیغامات کا تبادلہ ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق بعض رابطے براہِ راست اور بعض علاقائی شراکت داروں کے ذریعے ہو رہے ہیں، تاہم اسے مذاکرات قرار نہیں دیا جا سکتا۔
ایرانی مؤقف کے مطابق کسی بھی سمجھوتے میں ایران کو پہنچنے والے نقصانات کا ازالہ اور سلامتی کی یقین دہانی بنیادی نکات ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں:
ٹرمپ پالیسیوں کے بعد خلیجی ریاستوں کی سکیورٹی پر سوالات، دبئی اور قطر کا ’محفوظ جنت‘ کا تصور متاثر
معاشی لاگت: روزانہ اربوں ڈالر کا بوجھ
امریکی اور بین الاقوامی ماہرین کے مطابق اس تنازع کی معاشی قیمت بہت زیادہ ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جنگی اخراجات، ہتھیاروں کے استعمال، لاجسٹک سپورٹ اور فوجی تعیناتی کی مد میں امریکہ کو روزانہ اربوں ڈالر خرچ کرنا پڑ رہے ہیں۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابتدائی چند دنوں میں ہی اربوں ڈالر خرچ ہوئے، جبکہ طویل المدتی اثرات میں بڑھتا ہوا قومی قرض، مہنگائی اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ شامل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے تنازعات کا اصل بوجھ بالآخر عام شہریوں پر پڑتا ہے، کیونکہ ٹیکس، افراطِ زر اور توانائی کی قیمتیں متاثر ہوتی ہیں۔
صدر ٹرمپ نے ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کو عارضی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جیسے ہی فوجی کارروائیاں ختم ہوں گی، توانائی کی منڈی میں استحکام آ جائے گا۔
سفارتی پہلو: مذاکرات یا محض پیغامات؟
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے امکانات نظر آ رہے ہیں اور مستقبل میں براہِ راست ملاقات بھی ممکن ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ امریکہ کسی ایسے عمل کو برداشت نہیں کرے گا جسے وہ وقت حاصل کرنے کی حکمت عملی سمجھے۔
دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ وہ عارضی جنگ بندی کے بجائے جامع حل چاہتا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق خطے میں پائیدار امن کے لیے وسیع تر سکیورٹی انتظامات اور باہمی احترام ضروری ہیں۔
علاقائی اور عالمی اثرات
مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال نے عالمی منڈیوں پر بھی اثر ڈالا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، عالمی تجارت میں غیر یقینی کیفیت اور سفارتی سرگرمیوں میں تیزی اس تنازع کے نمایاں پہلو ہیں۔ چین اور پاکستان سمیت بعض ممالک نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی اقدامات کی تجویز دی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر واقعی آئندہ چند ہفتوں میں امریکی افواج کا انخلا ہوتا ہے تو یہ خطے میں طاقت کے توازن پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ تاہم یہ سوال اب بھی باقی ہے کہ آیا انخلا کے بعد کوئی نیا معاہدہ سامنے آئے گا یا کشیدگی کسی اور شکل میں جاری رہے گی۔
امریکی صدر کے تازہ بیانات نے ایک نئے مرحلے کی نشاندہی کی ہے، مگر زمینی حقائق، سفارتی روابط اور علاقائی سیاست اس معاملے کو پیچیدہ بنائے ہوئے ہیں۔ ایران کی شرائط اور امریکہ کی حکمت عملی کے درمیان فاصلہ ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ آنے والے ہفتے اس بات کا تعین کریں گے کہ آیا یہ تنازع واقعی اپنے اختتام کے قریب ہے یا محض ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:
سعودی فوجی اڈے پر میزائل اور ڈرون حملہ، 12 امریکی اہلکار زخمی؛ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں تیزی




