Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

سندھ میں آموں کی کاشت کا نیا طریقہ کیا ہے؟

By Akhtar Rasool
مئی 31, 2023 3 Min Read
0

یوں تو سندھ کے شہر کنری کا نام سنتے ہی لوگوں کے ذہنوں میں ایشیا کی ایک بڑی ’مرچ منڈی‘ کا نام آتا ہے، لیکن اب کنری کے ماہر زراعت ڈاکٹر میر امان اللہ تالپور شہر کو ایک نیا تعارف دینے کے لیے کوشاں ہیں

ڈاکٹر میر امان اللہ تالپور نہ صرف ماہر زراعت کی حیثیت سے سندھ کی زراعت میں جدت لانے والے، کئی اقسام کے فروٹس متعارف کروانے والے، ہزاروں ایکڑ پر آم اور دوسرے فروٹ لگانے شخص کے طور پر جانے جاتے ہیں، بلکہ ان کی پہچان
سینئر سیاستدان اور باغات لگا کر پرندوں کو محفوظ پناہگاہیں فراہم کرنے والے کے طور پر بھی کی جاتی ہے

ڈاکٹر میر امان اللہ خان تالپور سے ان کے فارم ہاؤس پر ملاقات

انڈپینڈنٹ اردو میں شائع سنجے متھرانی کی ایک رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر میر امان اللہ تالپور نے ایک جینوم گارڈن بنایا ہے، جہاں وہ آم کی ڈھائی سو اقسام کاشت کر رہے ہیں، جس کا بنیادی مقصد تو مختلف اقسام کے بارے میں تحقیق میں سہولت فراہم کرنا ہے، لیکن ساتھ ہی مقامی اور بین الاقوامی منڈیوں میں اس کی مانگ کو پورا کرنا بھی اس کے مقاصد میں شامل ہے

بھارت، چین، تھائی لینڈ اور انڈونیشیا کے بعد پاکستان آم پیدا کرنے والا دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے، جہاں کی سالانہ فصل تقریباً 1.8 ملین ٹن ہوتی ہے

سندھ کے ضلع عمر کوٹ سے تعلق رکھنے والے ستر سالہ کاشت کار میر امان اللہ خان تالپور کا خیال ہے کہ ان کا منصوبہ مستقبل میں آم کے پروڈیوسرز اور تاجروں کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے

وہ کہتے ہیں ”میری معلومات کے مطابق یہ (پاکستان میں) انوکھے (آم) کے جینوم باغات میں سے ایک ہے۔ ہم پودوں کی ہر قسم کا ڈیٹا رکھیں گے تاکہ ہماری آنے والی نسلیں جان سکیں کہ کون سی قسم موزوں ہے اور اس کی کارکردگی کیا ہے“

میر امان اللہ تالپور نے اب تک پچانوے اقسام اکٹھی کی ہیں، جن میں سے پینتیس بیرونِ ملک سے درآمد کی گئی ہیں۔ ان کا ہدف ہے کہ سال کے آخر تک ڈھائی سو اقسام کاشت کی جائیں۔ اس منصوبے کے پیچھے منطق مختلف ممالک، صوبوں اور مقامی انتخاب سے آم کی متنوع اقسام کو اکٹھا کرنا ہے

ان کا کہنا ہے ”پہلے روایت تھی کہ آم باپ لگائے گا اور بیٹا کھائے گا، مگر ہم نے اس تھیوری کو تبدیل کیا ہے، یہ ہماری کامیابی ہے اور کوشش ہے کہ آم باپ لگائے گا اور باپ ہی کھائے گا اور باپ دو سال کے اندر کھائے گا“

میر امان اللہ تالپور بتاتے ہیں ”آم کی ایک قسم ’میازاکی‘ ہے، جس کی دو طرح سے فارمنگ ہوتی ہے۔ ایک فارمنگ جس میں کنٹرولڈ یعنی شیڈ یا خاص ماحول ہے، درجہِ حرارت ہے، دن کی روشنی وہ دیتے ہیں۔ اس میں آپ عالمی منڈی میں مقابلہ کر سکتے ہیں٬

آم کی قیمت کے حوالے سے ان انہوں نے بتایا ” یہ اس پر منحصر ہے کہ آپ کا برانڈ باہر کتنا مقبول ہوتا ہے۔ اس وقت جو بھارتی آم کی قیمت ہے، وہ پاکستانی روپوں میں تین لاکھ روپے کلو ہے۔ اب ہمیں کیا قیمت ملتی ہے؟ وہ ہم جائیں گے تو معلوم ہوگا“

میر امان اللہ تالپور نے یہ منصوبہ مارچ 2021ع میں شروع کیا گیا تھا اور یہ سات ایکڑ اراضی پر محیط ہے، جبکہ کچھ پودوں کو پہلے ہی پیوند کیا جا چکا ہے، باقی ابھی تک عمل کے منتظر ہیں

ان کا مقصد تین سالوں کے اندر نتائج مرتب کرنا اور کسانوں کی آنے والی نسلوں کے لیے نتائج کو محفوظ کرنا ہے۔

Tags:

a trip to the mango farm at tando a. yar sindhbest mangoes in the worldkinds of mangoes in pakistanMangomango farm in interior sindhmango farm in sindhmango farm in tando qaiser sindhmango farmingmango farming in indiamango farming in pakistanmango farming in sindhmango flowers spring in sindh pakistanmango season coming soon tando qaiser sindh pakistansindhri mangospray mango farm in sindh pakistantypes of mangoes in pakistan
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

بھارتی ریاست منی پور میں خونی تنازعات کی تاریخ کیا ہے؟

Next

مصنوعی ذہانت کا تیسرا مرحلہ، جسے انتہائی خطرناک کیوں سمجھا جا رہا ہے!

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme