Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںقومی

سندھ میں بارشوں سے چھوارے کی پچاس فیصد فصل تباہ

By Akhtar Rasool
جولائی 22, 2022 2 Min Read
0

سندھ کے سکھر اور خیرپور اضلاع میں پاکستان کی سب زیادہ کھجور پیدا ہوتی ہے، کجھور کے علاوہ اسے چھوارا بنا کر بھی بیچا جاتا ہے لیکن حالیہ بارشوں کے بعد مقامی کاشت کاروں کے مطابق چھوارے کی فصل کو شدید نقصان پہنچا ہے

کھجور کے کاشت کار ڈاکٹر عبدالوحید بتاتے ہیں ”پانچ سے چھ دن تک دھوپ لگ جائے تو یہ چھوارا کام کا بنتا ہے۔ اگر پہلے دنوں میں بارش لگ جائے تو پھر یہ چھوارا ضائع ہو جاتا ہے“

کاشت کاروں کے مطابق حالیہ غیر معمولی اور مسلسل بارشوں نے کاشت کاروں کو چھوارا بنانے کا بہت کم موقع دیا

روہڑی سے تعلق رکھنے والے کاشت کار کے مطابق ”ضلع سکھر کی تین تحصیلیں اور خیرپور کی آٹھ تحصیلیں ہیں، ان میں تقریباً ایک لاکھ تیس ہزار ایکڑ پر کھجوروں کے باغات ہیں۔ پاکستان میں ڈھائی لاکھ میٹرک ٹن کھجوروں کی پیداوار ہوتی ہے اس میں سے 60 فیصد ہمارے ان علاقوں سے حاصل ہوتی ہے جس میں سے ہمارا 90 فیصد چھوارا بنتا ہے“

انہوں نے بتایا کہ ”ہم یہ چھوارا ایکسپورٹ کرتے ہیں اور ایکسپورٹ سے ہماری حکومت کو کم و بیش ستر کروڑ ڈالر کا فارن ایکسچینج آتا ہے لیکن ان حالیہ بارشوں میں اس وقت تک ہماری پچاس فیصد تک فصل تباہ ہو چکی ہے“

”سروے ٹیموں کے مطابق ابھی تک پچاس فیصد چھواروں کی پیداوار کے نقصان کا حساب لگائیں تو پینتیس کروڑ ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے اور دوسری جانب اگلے رمضان کے لیے بھی چھواروں کا اسٹاک نہیں ہے“

ان کا کہنا تھا ”چھوارا اصیل کھجور کا ہوتا ہے۔ ہمارے پاس ڈھائی سو سے زیادہ قسمیں ہوتی ہیں لیکن اسی فیصد اصیل کھجور کا چھوارا بنتا ہے“

”جو چھوارا ایکسپورٹ ہوتا ہے، اس کی سپلائی تقریباً نوے فیصد بھارت جاتی ہے، جو لاہور اور دبئی کے ذریعے ممکن ہوتا ہے، باقی نیپال، سری لنکا اور بنگلہ دیش جاتا ہے“

مقامی کاشت کاروں کا کہنا ہے ”اگر حکومت کے محکمے، زرعی توسیع، زرعی ایڈوائزری ڈپارٹمنٹ اور صوبائی حکومت اس کے لیے تھوڑی سی ترپالیں، شیٹ یا اس کے لیے جو ٹوکریاں آتی ہیں ان سمیت دیگر امدادی سامان مہیا کر دیں تو ہم اس نقصان سے بچ سکتے ہیں“

Tags:

Dates CropsDestroyedRainSindh
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

سولر پینلز پر سیلز ٹیکس ختم ہوا یا نہیں؟ گاہک اور دکان دار پریشان

Next

پاکستان میں اکیڈمک رائیٹنگ کے فراڈ

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme