Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

Why-is-the-Jogi-community-of-Sindh-reluctant-to-be-a-part-of-the-elections
قومیاہم ترینتازہ ترینخبریں

سندھ کی جوگی برادری انتخابات کا حصہ بننے سے گریزاں کیوں؟

By Akhtar Rasool
دسمبر 28, 2023 5 Min Read
0

سندھ کے خانہ بدوش قبائل میں سے ایک جوگی بھی ہے۔ یہ قبیلہ سانپ پکڑنے اور انہیں پٹاریوں میں لے کر نگر نگر گھومنے والوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ سانپ کے ڈسنے کا علاج کرنے، گیدڑ سنگھی فروخت کرنے اور مرلی یا بین بجانے میں کمال رکھتے ہیں

سپيروں کے اس جوگی قبیلے کو يقين ہے کہ سانپ اُس کے دوست ہیں اور وہ سانپوں کو پکڑنے کے فن کو نسل در نسل منتقل کرتے ہیں

یہ جوگی قبیلہ جوگی زبان بولتا ہے، جو ایک ہند آریائی زبان ہے جسے پاکستان اور بھارت میں جوگی قبیلے میں بولا جاتا ہے

اگرچہ تاریخی طور پر جوگی قبیلے کا طرزِ زندگی خانہ بدوشی کا رہا ہے، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ان کے اس طریقہ زیست میں بھی تبدیلی آئی ہے۔ ان میں سے اکثر اب خانہ بدوشی کی بجائے جھگیاں بنا کر کہیں ٹک کر رہنے کو ترجیح دیتے ہیں

سید نزاکت شاھ کی ایک رپورٹ کے مطابق سندھ کے تاریخی شہر ٹھٹہ سے ملحق ضلع سجاول میں بھی جوگیوں کے بڑے بڑے گوٹھ اور قصبے ہیں، جہاں ہزاروں جوگی رہتے ہیں لیکن انہوں نے آج تک ووٹ کاسٹ نہیں کیا اور نہ ہی انہیں انتخابی عمل کے بارے میں کوئی خاص معلومات رکھتے ہیں

اگرچہ جوگیوں میں تعلیم کا رجحان نہ ہونے کے برابر ہے لیکن سجاول کے جانی جوگی نے میٹرک تک تعلیم حاصل کر رکھی ہے۔ تعلیم سے ملے شعور اور آگہی کہ وجہ سے وہ اپنے لوگوں کے بنیادی مسائل کے حل کے لے نہ صرف فکرمند بلکہ کوشاں بھی رہتے ہیں

جانی جوگی کہتے ہیں ”جوگی برادری کے زیادہ تر لوگ غیر تعلیم یافتہ ہیں، انہیں اپنے بنیادی حقوق سے متعلق ہی کوئی علم نہیں تو انہیں ووٹ کی اہمیت اور انتخابات کا اندازہ کس طرح ہوگا؟“

جانی جوگی نے اقلیتوں کے انتخابی عمل میں حصہ لینے کے حوالے سے کہتے ہیں ”اقلیتی برادری میں جوگی برادری کے لوگ نہایت غریب اور کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں، اس برادری سے جڑے افراد میں اکثریت ان پڑھ ہیں اور ان کو اپنے ووٹ کی اہمیت ہی معلوم نہیں۔“

عام طور پر جوگی قبیلے کا گزر سفر سانپ پکڑنے، بانسری بجا کر سانپ کے مختلف کرتب دکھانے اور گھروں سے بھیک مانگ کر گزارا کرنے سے ہوتا ہے، ان کے بیشتر افراد ان پڑھ اور بنیادی حقوق کی تعلیم سے بھی ناواقف ہوتے ہیں

جانی جوگی کا کہنا ہے ” تعلیم یافتہ نہ ہونے کی وجہ سے جوگی برادری کے تقریباً تمام لوگ اپنے ووٹ کا حق استعمال نہیں کرتے کیوں کہ ہمیشہ اقلیتی ارکان اسمبلی نے ان کو نظر انداز کیا ہے، ہر انتخاب کے بعد ان کی نمائندگی نہ ہونے کے باعث ان کے مسائل جوں کہ توں رہتے ہیں۔ اور مخصوص اقلیتی نشست پر منتخب ہونے والے ارکان اسمبلی کا ان کے لوگوں سے میل جول نہیں ہوتا جب کہ وہ انہیں کم تر بھی سمجھتے ہیں۔“

جانی جوگی کہتے ہیں ”بنیادی مسائل حل نہ ہونے کی وجہ سے اب یہ لوگ ووٹ دینے یا انتخابی عمل کا حصہ بننے سے دل برداشتہ ہو گئے ہے، اب تو لوگوں کی انتخابات میں دلچسپی ہی نہیں رہی۔“

جانی جوگی خود ایک سماجی کارکن ہونے کے ناطے علاقے باسیوں کے چھوٹے موٹے مسائل سوشل میڈیا کے سہارے حل کروانے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں ”سیاسی جماعتوں کو چھوٹی ذات کی اقلیتی برادری کو مخصوص نشست کے ساتھ ساتھ کم از کم پورے سندھ میں سے ایک جنرل نشست پر بھی ٹکٹ دینا چاہیے تاکہ ان کے بنیادی مسائل حل ہو سکیں کیونکہ غریب کو پتا ہوتا ہے کے غریبوں کے کون سے اہم اور ضروری مسائل ہیں، جسے وہ حل کرنے کو ترجیح دیں۔“

ضلع سجاول اور اس کے پڑوسی شہروں اور اضلاع میں ٹھٹہ، بدین اور ٹنڈو محمد خان اضلاع میں آج تک جتنے بھی انتخابات ہوئے ہیں ان میں کسی بھی ضلع سے تعلق رکھنے والے اقلیتی برادری کے افراد کو نا اقلیتی مخصوص نشست کے لیے منتخب کیا گیا ہے اور نہ ہی عام انتخابات میں کسی بھی سیاسی جماعت نے انہیں ٹکٹ دیا ہے

یہاں یہ بات بھی یاد رہے کہ آئین پاکستان میں آرٹیکل 20 سے لے کر 27 تک اقلیتوں کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے، پاکستان کا آئین اقلیتوں کے حقوق کا ضامن ہے، ملک کے تمام طرز کے انتخابات میں اقلیتوں کو یکساں حقوق حاصل ہیں لیکن اس باوجود ملک کے دیگر علاقوں کی طرح سندھ میں بھی اقلیتی افراد انتخابی عمل اور طریقہ کار سے نالاں دکھائی دیتے ہیں۔

ضلع سجاول میں کثیر تعداد میں اقلیتی افراد رہائش پذیر ہیں، جن میں ہندو، مسیحی ، جوگی، مارواڑی میگھواڑ، احمدی، کولہی اور دیگر شامل ہیں۔

ان میں سے ہندو، میگھواڑ، مارواڑی اور مسیحی ووٹرز کی تعداد انتہائی کم ہے، لیکن ان میں سے بھی بہت ہی کم لوگ ووٹ کاسٹ کرنے کو رضامند ہوتے ہیں

اس حوالے سے سجاول کی سیاسی شخصیت ڈاکٹر ھریش کمار کا کہنا ہے ”ضلع سجاول میں چھتیس ھزار سے زائد ووٹ اقلیتیوں کے ہیں جب کے سجاول کے پڑوسی اضلاع ٹنڈو محمد خان، بدین اور ٹھٹہ میں اقلیتوں کے دس لاکھ ووٹ ہیں مگر چھپن سالوں میں سندھ کی کسی جماعت نے کبھی بھی عام انتخابات میں اقلیتی برادری کے لوگوں کو کوئی جنرل سیٹ نہیں دی“

ہریش کمار کو شکوہ ہے کہ ہمیشہ سیاسی جماعتیں کسی دولتمند شخص کو اقلیتی مخصوص سیٹوں کو پیسوں کے عوض ٹکٹ دیتی ہیں اور جب وہ کامیاب ہوکر اسمبلی جاتے ہیں تو عام اقلیتوں کی نمائندگی نہیں کرتے، پانچ سالوں تک عوام کو بھول جاتے ہیں۔ وہ غریب اقلیتوں کے مسائل سے بھی وہ ناواقف ہوتے ہیں، اس لیے سیاسی جماعتوں کو اقلیتی برادری سے وابستہ عام ورکروں اور مخصوص سیٹس کے ساتھ کسی ایک ایک ضلع سے جنرل نشست کا ٹکٹ بھی دینا چاہیے تاکہ وہ اپنے لوگوں کی درست نمائندگی کر سکیں

ہریش کمار کہتے ہیں ”اگر ان کی جماعت انہیں سجاول ضلع کی جنرل نشست پر ٹکٹ دے تو سجاول ضلع کے چھتیس ھزار سے زائد اقلیتی ووٹروں کی حمایت سے کامیاب ہو کر یہاں کی اقلیتوں کی نمائندگی کرتے ہوئے ان کے بنیادی مسائل حل کرا سکتے ہیں مگر جماعت کم ووٹ ہونے کا کہہ کر ٹکٹ نہیں دیتی، اس لیے ہم پارٹی ٹکٹ کے لئے اپلائی نہیں کرتے۔“

سید نزاکت شاھ کی رپورٹ کے مطابق سجاول کے قریب نودو بھارن کے علاقے میں جوگی قبیلے کا ایک بڑا گوٹھ جمن جوگی ہے، جہاں کے اکثر نوجوان جوگیوں کا کہنا ہے کہ انتخابات کے دوران با اثر افراد آتے ہیں، ووٹ لینے کے لئے ہم سے وعدے کرتے ہیں اور ہم ان پر اعتبار کر کے انہیں ووٹ دیتے ہیں، کامیابی کے بعد وہ لوگ پانچ سال تک غائب ہو جاتے ہیں اور ایک بھی وعدہ پورا نہیں کرتے۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ ہمارے مسائل کم ہونے کے بجائے بڑھتے جاتے ہیں۔

ان نوجوانوں نے کہا ”اب اگر ہمارے علاقے سے اقلیتی برادری سے کوئی انتخابات میں حصہ لے گا یا کوئی سیاسی جماعت ٹکٹ دی گی تو ہم بڑھ چڑھ کر انتخابی عمل میں دلچسپی لیں گے ورنہ انتخابات کا بائیکاٹ کریں گے اور ہمارے قبیلے سے کوئی بھی ووٹ دینے نہیں جائے گا۔“

Tags:

condition of hindus in pakistanconversion of hindusconversion of hindus in pakistanelections in 2018elections pakistanforced to convert islam in pakistanhindu community in pakistanhindu girl converted to islam in pakistanhindu girl in parkistanhindu women in pakistanhindus of pakistanHistory of Indiamigrants of pakistanPakistan Electionspakistani hindu girl sparks protest in karachiprime minister of indiathe centrum mediathe rise of
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
I-have-no-one-left.-They-are-all-gone-the-pain-of-Ahmed-who-lost-29-members-of-his-family-in-the-Israeli-aggression
Previous

’میرے پاس کوئی نہیں بچا۔۔۔ وہ سب چلے گئے‘ اسرائیلی جارحیت میں اپنے خاندان کے 29 افراد کھونے والے احمد کا درد

100-years-since-the-first-trial-of-insulin-for-sugar.-The-story-of-the-first-patient-to-take-insulin
Next

شوگر کے انسولین کے پہلے ٹرائل کو سو برس مکمل۔۔ انسولین لینے والے پہلے مریض کی کہانی

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme