Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

I-have-no-one-left.-They-are-all-gone-the-pain-of-Ahmed-who-lost-29-members-of-his-family-in-the-Israeli-aggression
عالمیاہم ترینتازہ ترینخبریں

’میرے پاس کوئی نہیں بچا۔۔۔ وہ سب چلے گئے‘ اسرائیلی جارحیت میں اپنے خاندان کے 29 افراد کھونے والے احمد کا درد

By Akhtar Rasool
دسمبر 28, 2023 4 Min Read
0

”میں کیا بات کروں؟ میں کس کے بارے میں بات کروں؟ اپنے خاندان کے انتیس شہیدوں کے بارے میں؟ اپنے والد، اپنے بھائیوں، اپنی بیوی اور اپنے بچوں کے بارے میں؟ میرے پاس کوئی نہیں بچا۔۔۔ وہ سب چلے گئے، اب میرے پاس کچھ نہیں بچا سوائے ایک زخمی بیٹی کے۔۔“

یہ الفاظ ہیں شمالی غزہ میں ہلالِ احمر کے ایک طبی عملے کے رکن احمد ابو فاؤل کے، جن میں ان کی بے بسی کا درد بھی ہے اور دنیا کی بے حسی کا دکھ بھی

احمد کی زندگی میں پیش آنے والے ان المناک حالات کی شروعات رواں ماہ 12 دسمبر کو ہوئی تھی، یہ ایک ایسا انسانی المیہ ہے، جو کسی کو بھی تڑپا کر رکھ سکتا ہے

احمد بتاتے ہیں ”اُس دن (12 دسمبر) وہ شمالی غزہ کی پٹی میں اپنے روزمرہ کام، یعنی زخمی فلسطینیوں کو طبی امداد فراہم کرنے کے سلسلے میں گھر سے نکلے ہی تھے کہ مجھے اپنے ایک پڑوسی کا وہ ٹیکسٹ میسج موصول ہوا، جس نے میری زندگی تہہ و بالا کر کے رکھ دی“

”اس میسج میں لکھا تھا ’انھوں نے آپ کے گھر پر بمباری کی ہے۔۔۔ اور آپ کا سارا خاندان ملبے تلے دب گیا ہے۔‘ یہ میسج پڑھ کر میں گھر کی جانب واپس بھاگا۔ وہاں کا منظر اتنا ہولناک تھا کہ میں اُسے دیکھ کر اس جگہ سکتے کی حالت میں منجمد ہو گیا، جہاں میں کھڑا تھا۔ پھر میں وہیں بیٹھ گیا۔۔ اسی دوران وہاں موجود لوگوں نے اس عمارت سے زندہ بچ جانے والے لوگوں کو نکالنا شروع کیا، جہاں میرا گھر تھا۔ وہ بچ جانے والوں کو ایک گدھا گاڑی پر رکھ رہے تھے کیونکہ بمباری کے بعد وہاں ایمبولینس نہیں جا سکتی تھی۔۔“

احمد بتاتے ہیں ”میرے خاندان کے اٹھائیس افراد اب بھی مردہ حالت میں ملبے تلے دبے ہوئے ہیں اور میں اب تک صرف اپنے ایک بیٹے کی تدفین کر پایا ہوں۔۔۔“

یہ بات بتاتے ہوئے احمد اپنے جذبات پر ضبط نہ رکھ سکے اور رو پڑے۔۔ اسے اپنی بات جاری رکھنے کے لیے بہت زیادہ ہمت کرنی پڑی ”لا الٰہ الااللہ۔۔ گذشتہ ستر دن سے (غزہ پر اسرائیلی بمباری کے آغاز کے بعد سے) میں ہر اس شخص کو طبی امداد فراہم کر رہا ہوں، جس نے مجھ سے اس کی درخواست کی یا جسے طبی مدد کی ضرورت تھی۔۔۔ مگر دوسری جانب میں اپنے قریب ترین افراد کی مدد کرنے سے قاصر ہوں۔۔۔ میرے جگر کے ٹکڑے ملبے تلے ہیں اور بلڈوزر اور بھاری ملبہ اٹھانے کے لیے درکار ضروری مشینری کی کمی کی وجہ سے میں اپنے اہلِ خانہ کی لاشوں کو نکالنے اور دفنانے سے قاصر ہوں۔۔۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس جگہ کو گذشتہ کافی دنوں سے اسرائیلی فوج نے گھیرے میں بھی لے رکھا ہے، میں اس کے قریب بھی نہیں جا سکتا اور جیسے ہی میں نے ایسا کرنے کی کوشش کی تو اسرائیلی فوجیوں نے مجھ پر فائرنگ کر دی۔۔“

احمد کہتے ہیں ”اُس گھر میں میرے خاندان کے ستر افراد موجود تھے، بہت سے ایسے تھے جو جبلیہ میں بے گھر ہونے کے بعد یہاں پہنچے تھے“

احمد نے بتایا کہ ان کے گھر میں موجود ان کے خاندان کے چند افراد ایسے تھے جو بمباری کا نشانہ بن کر زخمی ہوئے تھے اور بے گھر ہونے کے بعد انھی کے ساتھ رہائش پذیر تھے۔ احمد کے مطابق وہ ان زخمیوں کو بھی درد کش ادویات کے علاوہ کوئی طبی علاج فراہم کرنے سے قاصر تھے اور درد کش ادویات بھی دن میں تین دفعہ دینے کے بجائے محض ایک دفعہ دے رہے تھے کیونکہ ان ادویات کی کمی تھی

احمد نے بی بی سی عربی ریڈیو پر نشر ہونے والے پروگرام ’غزہ ٹوڈے‘ میں کال کی اور کہا ”میں بی بی سی کو اپنی کہانی اس لیے سنا رہا ہوں کیونکہ میں جانتا ہوں کہ یہ پوری دنیا سُن رہی ہے۔ انسانیت کے نام پر، ہمارے ساتھ ہمدردی اور انسانوں جیسا سلوک کریں۔ انسان ہونے کے ناطے مدد کریں۔ میں اپنے خاندان کی لاشیں ملبے تلے سے نکالنا چاہتا ہوں۔ ملبے تلے میری چھ ماہ کی بیٹی کی لاش موجود ہے، میرا چار سال کا ایک بیٹا، گیارہ سال کا دوسرا بیٹا سب ملبے تلے ہیں۔۔۔ انہوں نے اسرائیلی فوج کا کیا بگاڑا تھا؟“

یہ سوال کر کے احمد ایک مرتبہ پھر زار و قطار رونے لگے۔۔

لیکن احمد کی زندگی میں پیش آنے والا اتنا بڑا سانحہ بھی انہیں انسانی ہمدردی کی اپیل کرنے سے روک نہیں سکا۔ کچھ دیر رونے کے بعد انہوں نے کہا ”میرا پیغام پوری دنیا تک پہنچا دو۔۔۔ میری آواز پوری دنیا تک پہنچاؤ۔۔۔ بہت ہو گیا، بہت ہو گیا۔۔۔ ملبے کے نیچے سے ہماری لاشیں واپس لانے میں مدد کریں۔۔۔ ہمیں اور کچھ نہیں چاہیے۔۔۔ ہمیں بچاؤ، ہمیں تحفظ چاہیے۔“

احمد نے ان افراد کی تفصیل بھی بتائی جو اس واقعے میں شدید زخمی ہوئے مگر زندہ بچ گئے۔ ”میری بھانجی کو آنکھ کی فوری سرجری کی ضرورت ہے۔ اس کے ایک بھائی کا ہاتھ کاٹا جا چکا ہے جبکہ دوسرے کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ گئی ہے۔ میرے ایک چچا کی ٹانگ کاٹ دی گئی تھی مگر پھر بھی بروقت آپریشن نہ ہونے کے باعث وہ وفات پا گئے۔“

احمد نے اپنی بات کا اختتام یہ کہتے ہوئے کیا کہ غزہ کی صورتحال ایسی ہے کہ ان کی زندگی میں پیش آنے والے اس بڑے سانحے نے بھی انھیں اپنے روزمرہ کے کام سے نہیں روکا۔ ”یہاں تک کہ جس دن میں نے اپنے بیٹے کی لاش ملبے تلے سے نکال کر اسے دفن کیا، تو تدفین کے فوراً بعد میں کام پر چلا گیا تاکہ زخمیوں کی مدد کر سکوں اور انہیں موت کے منھ میں جانے سے بچا سکوں اور میں یہ کام کرنے سے باز نہیں آؤں گا۔ عین ممکن ہے کہ جب آپ مجھے دوبارہ اس نمبر پر کال کریں تو کوئی آپ کو بتائے کہ اس نمبر کا مالک بمباری میں مارا جا چکا ہے۔“

یاد رہے کہ فلسطین میں ہلال احمر نے اسرائیلی فوج کے ہاتھوں اپنے تین سو ڈاکٹروں اور طبی عملے کی ہلاکت کا اعلان کیا ہے۔

Tags:

biography of famous peoplecbc news the nationaldichotomy of leadershiphistory of yemeninspirational true stories of faithIsraelisrael hamas warisrael palestine warlegends of idel onlegends of idelonlegends of idleon beginners guidelibrary of congressracism in the worldsoas university of londonstories of discriminationthe biography channelthe national fullthe national on demandthe people profileswhat is the manipur issue
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
34-people-still-in-prison-will-sit-until-their-demands-are-met-Baloch-protesters
Previous

34 افراد تاحال قید، مطالبات پورے ہونے تک دھرنا دیں گے: بلوچ مظاہرین

Why-is-the-Jogi-community-of-Sindh-reluctant-to-be-a-part-of-the-elections
Next

سندھ کی جوگی برادری انتخابات کا حصہ بننے سے گریزاں کیوں؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme