Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

سندھ کے علاقے جھمپیر میں کوئلے کی کان میں مزدوروں کی ہلاکت، کئی گھنٹوں بعد مشینیں منگوائی گئیں۔۔۔

By Akhtar Rasool
جولائی 8, 2022 3 Min Read
0

صوبہ سندھ کے ضلع ٹھٹہ کے علاقے جھمپیر میں کوئلے کی ایک کان میں پانی بھر جانے کے نتیجے میں 8 مزدور ہلاک ہوگئے جبکہ ایک بارہ سال بچہ بھی کان میں موجود تھا، جو لاپتہ ہے

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کان میں بچے کی موجودگی کے حوالے سے تحقیقات کا حکم جاری کیا ہے

یہ واقعہ منگل کی دوپہر دو بجے کے قریب جھمپیر میں پیش آیا ہے جہاں حکومت سندھ سے لیز شدہ کمپنی پہاڑی علاقے میں کان سے کوئلہ نکالتی ہے

ایک کان کن فیض عالم نے بتایا کہ ‘بارش جاری تھی لیکن مزدور کان کے اندر چلے گئے اس دوران بارش تیز ہو گئی اور ندی میں بھی بہاؤ آ گیا جس کی وجہ سے کان میں پانی بھر گیا اور مزدور اندر پھنس گئے۔’

فیض عالم کے بقول ‘جھمپیر میں کسی قسم کی سہولت موجود نہیں تھی اور کئی گھنٹوں کے بعد مشینیں منگوائی گئیں اور کان سے پانی کی نکاسی کی گئی جس کے بعد لاشیں نکالی گئیں۔’

انہوں نے بتایا کہ ‘ہلاک ہونے والے مزدوروں کا تعلق سوات، شانگلہ اور دیر سے تھا جن میں سے چار مزدور ایک ہی گاؤں کے ہیں۔’

وہ بتاتے ہیں کہ ‘یہاں کام کرنے والے مزدورں کی تعداد دو ہزار کے قریب ہے لیکن ان کے پاس نہ ٹھیکیدار اور نہ ہی حکومت کی جانب سے کوئی سہولت موجود ہے۔’

انہوں نے لاپتہ ہونے والے بچے کے بارے میں تفصیلات بتاتے ہوئے بتایا کہ ’بارہ سالہ بچہ اپنے والد کے ساتھ کام کرتا تھا اس کو ماہانہ دس، بارہ ہزار روپے ملتے تھے، وہ کان میں ہوا کے گیٹ پر مامور تھا۔‘

کوئلے کی کان میں بچے کا لاپتہ ہونے کا معاملہ جمعرات کو سندھ کابینہ میں بھی زیر بحث آیا۔

وزیراعلیٰ ہاؤس کے ترجمان کے مطابق ‘وزیراعلیٰ نے تحقیقات کا حکم جاری کیا اور کہا کہ اگر بچہ کان میں کام کر رہا تھا تو یہ چائلڈ لیبر کا معاملہ ہے اس پر سخت کارروائی کی جائے گی۔’

صوبائی محکمہ توانائی امتیاز شیخ نے کابینہ کو بتایا کہ ‘یہ ایک نجی کان تھی جس میں پانی بھر گیا اور پھنسے ہوئے مزدوروں میں سے آٹھ کی لاشیں نکالی گئی ہیں۔’

اس سے قبل کان مزدوروں نے ریسکیو آپریشن میں تاخیر پر جھمپیر کے قریب ریلوے ٹریک پر دھرنا دے کر ریلوے سروس کو معطل کر دیا تھا۔

مقامی انتظامیہ نے انہیں یقین دہانی کروائی تھی کہ ہیوی مشنری طلب کی گئی ہے اور کان سے پانی کی نکاسی میں تیزی لائی جائے گی۔

گلباز خان نامی کان کن نے بتایا کہ ‘جس روز واقعہ ہوا اس روز چھوٹی چھوٹی موٹریں لگائی گئیں جن میں سے کچھ خراب ہو گئیں اور پھر جنریٹر نے کام کرنا چھوڑ دیا جس کے بعد مزدوروں نے ریلوے ٹریک پر احتجاج کیا۔‘

انہوں نے بتایا کہ ‘وہ رات اور اگلی صبح گزر گئی، اس کے بعد دوپہر کو انتظامیہ آئی اور ریسکیو شروع کیا تاہم بارہ سالہ بچہ ابھی تک لاپتہ ہے۔’

گلباز خان کے مطابق ‘یہاں مزدوروں کے ساتھ بہت ظلم ہوتا ہے اور فی مزدور پندرہ سو سے دو ہزار روپے دہاڑی دی جاتی ہے اور لوگ مجبوری میں یہاں کام کرتے ہیں۔ بچے کے والد نے بھی مجبوری میں اس کو کام پر لگایا تھا۔’

ڈپٹی کمشنر ٹھٹہ غضنفر قادری کا کہنا ہے کہ ’ساڑھے تین سو فٹ گہری کان میں برساتی نالے کا پانی داخل ہو گیا تھا اور پانی کی نکاسی کے لیے ہیوی مشینیں لگائی گئیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ‘محکمہ مائینز اینڈ منرل کی جانب سے کانوں کے لیے ایک ایس او پی موجود ہے جس کی روشنی میں کام کیا جاتا ہے اس ایڈوائیزری پر عمل درآمد نہ ہونے کی تحقیقات کی جائیں گی۔’

Tags:

coal mineJhampirWorkers killed
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

ای سی سی نے گیس کی قیمتوں میں 335 فیصد تک اضافے کی منظوری دے دی

Next

اینکر عمران ریاض کو چکوال عدالت میں پیشی کے بعد سنگین غداری کے مقدمے کی تفتیش کے لیے لاہور لے جایا جائے گا

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme