Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںسائنس و ٹیکنالوجی

”سپر ارتھ“ ، جس پر لاوے کی بارش ہوتی ہے

By Akhtar Rasool
مئی 30, 2022 3 Min Read
0

خلائی دوربین جیمز ویب ٹیلی اسکوپ اب دو گرم موسم والے ’سپر ارتھ‘ سیاروں کا مشاہدہ کرے گی، جن میں سے ایک پر کبھی لاوا کے سمندر موجود تھے

ناسا نے اعلان کیا کہ اس موسم گرما میں شائع ہونے والی تحقیق میں دو پتھریلے سیاروں پر توجہ مرکوز کی جائے گی: لاوے سے ڈھکا ہوا 55 کینکری ای اور ہوا کے بغیر ایل ایچ ایس 3844 بی

خلا میں اپنے سورج سے پندرہ لاکھ میل (چوبیس لاکھ کلومیٹر) دور مدار میں گھومتے ہوئے 55 کینکری ای پر صرف اٹھارہ گھنٹے کا سال ہوتا ہے۔ اس سیارے کا ایک رخ ہر وقت اپنے سورج کی طرف ہوتا ہے، جسے ’ٹائیڈل لاک‘ کہا جاتا ہے۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ سیارے کا درجہ حرارت نسبتاً یکساں ہونا چاہیے

تاہم 55 کینکری ای کے معاملے میں لگتا ہے کہ ایسا نہیں ہے، کیونکہ اس دنیا کا وہ حصہ سب سے زیادہ گرم ہے، جو سورج کا سامنے کرنے والے حصے کی مخالف سمت میں ہے

ماہرین کے مطابق اس کی ایک وضاحت یہ ہو سکتی ہے کہ اس عجیب دنیا میں ایک متحرک ماحول ہے، جو حرارت کو منتقل کر دیتا ہے

جنوبی کیلیفورنیا میں ناسا کی جیٹ پروپلشن لیبارٹری سے وابستہ رینیو ہو نے اس کی وضاحت یوں کرتے ہیں ”آکسیجن یا نائٹروجن کی کثرت کے ساتھ 55 کینکری ای کی فضا موٹی ہوسکتی ہے۔ اگر اس میں کوئی فضا ہے تو [ویب] کے پاس اس حد کی حساسیت اور ویولینتھ موجود ہے جو یہ معلوم کر سکے کہ فضا کس چیز کی بنی ہے“

ایک اور تجویز یہ ہے کہ 55 کینکری ای ٹائیڈلی لاک (جیسے چاند زمین کے ساتھ لاک ہے اور اس کی ایک ہی سائڈ ہمیشہ زمین کے سامنے رہتی ہے) نہیں۔ اس کی بجائے، ہوسکتا ہے یہ عطارد کی طرح کام کرتا ہو، جو سورج کے گرد ہر دو چکر کے دوران اپنے محور پر تین بار گھومتا ہے اور اس طرح درجہ حرات کو منتقل کرتا ہے

اسٹاک ہوم یونیورسٹی کی ایک محقق الیکسس برانڈیکر وضاحت کرتے ہوئے کہتی ہیں ”اس سے یہ واضح ہو سکتا ہے کہ سیارے کا گرم ترین حصہ دوسری جانب کیوں ہے۔ زمین کی طرح سطح کو گرم ہونے میں بھی وقت لگتا ہے۔ دن کا گرم ترین وقت دوپہر کے بعد کا ہوگا، بالکل دوپہر کے وقت نہیں“

سائنس دانوں نے اس امید کے ساتھ 55 کینکری ای پر چار مختلف مداروں پر حرارت کی پیمائش کرنے کا منصوبہ بنایا ہے کہ دن کے وقت یہ سطح گرم ہو جائے گی، پگھل جائے گی اور ممکنہ طور پر بخارات میں تبدیل ہو جائے گی، جس سے ایک بہت ہی پتلی فضا بنے گی جس کا ویب ٹیلی سکوپ کو پتہ چل سکتا ہے

شام کو بخارات ٹھنڈے اور گاڑھے ہو کر لاوے کے قطرے بنتے ہوں گے، جو واپس سطح پر برستے اور رات میں دوبارہ ٹھوس ہو جاتے ہوں گے

دوسرے سیارے ایل ایچ ایس 3844 بی پر اپنے نسبتاً چھوٹے سائز کی وجہ سے ایسا درجہ حرارت نہیں ہے، لیکن اس سے سائنس دانوں کو دوسری دنیا پر ٹھوس چٹان کا تجزیہ کرنے کا موقع ضرور ملے گا کیونکہ سیارے میں موٹی فضا ہونے کا امکان نہیں ہے

میکس پلانک انسٹیٹیوٹ فار ایسٹرانومی سے وابستہ لورا کریڈبرگ نے وضاحت کی ”پتہ چلا ہے کہ مختلف اقسام کی چٹانوں میں مختلف سپیکٹرا ہوتے ہیں۔ آپ اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں کہ گرینائٹ کا رنگ بیسالٹ سے ہلکا ہے۔ چٹانوں سے جو انفراریڈ شعائیں نکلتی ہیں وہ بھی اسی طرح مختلف ہوتی ہیں“

یہ ٹیم ایل ایچ ایس 3844 بی کے دن میں تھرمل اخراج سپیکٹرم کو ریکارڈ کرے گی اور پھر اس کی بناوٹ کا تعین کرنے کے لیے اس کا موازنہ بیسالٹ اور گرینائٹ جیسی معلوم چٹانوں کے سپیکٹرا سے کرے گی

ان مشاہدوں سے سائنس دانوں کو یہ جاننے میں مدد ملے گی کہ ابتدا میں یہ زمین کیسی تھی اور دوسری دنیا کی تلاش میں نئی معلومات ملنے کا بھی امکان ہے۔

اس وقت ہماری کہکشاں میں پانچ ہزار سے زائد ایکسو پلانیٹس (ہمارے نظام شمسی سے باہر سیارے) دریافت ہو چکے ہیں اور سائنس دانوں کا خیال ہے کہ اس میں مجموعی طور پر سینکڑوں ارب ایکسوپلانیٹس ہو سکتے ہیں۔ ان اربوں میں سے کچھ پر زندگی موجود ہو سکتی ہے.

Tags:

James WebbNASASuper Earth
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

جڑی بوٹیوں سے قدیمی علاج: جدید دور میں سائنس کیا کہتی ہے؟

Next

دعا زہرہ کیس: عدالت کا آئی جی سندھ کو عہدے سے ہٹانے کا حکم

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme